سید المرسلین رحمۃ اللعالمین
سیدنا محمد رسول اللہ

صلّی اللہ علیہ وسلم

بعثت باعث رحمت آپ کا اسم شریف محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کنیت ابو القاسم اور والد گرامی کا نام عبداللہ ہے۔ زیادہ تر روایات کے مطابق عام الفیل (جس سال ابرہ ہاتھی لے کر بیت اللہ شریف کی بے حرمتی کرنے کے ارادہ سے مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ کر ہلاک ہوا تھا) کو ۱۲ ربیع الاول بروز پیر بمطابق ۲۲ اپریل ۵۷۱ء مکہ مکرمہ میں اس دنیائے رنگ و بو میں تشریف فرما ہوکر اس عالم کو عزت بخشی۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا تعارف یوں بیان فرمایا۔

انا محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب، ان اللہ خلق الخلق فجعلنی فی خیرہم ثم جعلہم فریقین فجعلنی فی خیرھم فرقۃ، ثم جعلھم قبائل فجعلنی فی خیر ھم قبیلۃ ثم جعلھم بیوتا فجعلنی فی خیرھم بیتا، فانا خیرھم نفسا و خیرھم بیتا و انا اول الناس خروجا اذا بعثوا و انا قائدھم اذا وفدو وانا خطیبھم اذا انصتوا وانا مستشفیھم اذا حبسوا وانا مبشرھم اذا یئسوا الکرامۃ والمفاتیح یومئذ بیدی ولواء الحمد یومئذ بیدی وانا اکرم ولدا اٰدم علیٰ ربی یطوف علی الف خادم کانھم بیض مکنون واذا کان یوم القیامۃ کنت امام النبیین وخطیبھم وصاحب شفاعتھم غیر فخرلولاہ لما خلق اللہ سبحانہ الخلق ولما اظہر الربوبیۃ وکان نبیا واٰدم بین الماء والطین۔

ترجمہ: میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، بیشک جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے مخلوق میں سے سب سے بہترین مخلوق یعنی انسانوں میں پیدا فرمایا، پھر ان کے دو گروہ بنائے اور مجھے ان میں سے بہترین گروہ میں سے کیا، پھر ان کے قبیلے بنائے اور مجھے ان میں سے بہترین قبیلہ یعنی قریش میں سے کیا، پھر ان کو گھروں میں تقسیم کیا اور مجھے ان میں سے بہترین گھر یعنی بنو ہاشم میں پیدا فرمایا۔ میں اپنی ذات کے لحاظ سے خواہ گھر کے لحاظ سے سب سے بہتر ہوں اور میں تمام لوگوں میں سے سب سے پہلے (گنبذ خضریٰ سے) نکلوں گا اور جب وہ گروہ کی صورت میں خدا کے سامنے حاضر ہوں گے تو میں ان کا پیشوا ہوں گا اور جب وہ میدان محشر میں خاموش ہوں گے تو میں انکا خطیب ہوں گا اور جب وہ جنت میں داخل ہونے سے رد کیے جائیں گے تو میں ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا اور جب وہ ناامید ہوجائیں گے تو میں ان کو خوشخبری دینے والا ہوں گا۔ عزت و احترام اور جنت کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی اور لواء الحمد یعنی حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ ہوگا۔ میں اپنے رب کے حضور اولاد حضرت آدم علیہ السلام میں سے سب سے زیادہ محترم ہوں۔ وہاں ہزارہا خادم یعنی حور و غلمان میرے گرد پھریں گے اور وہ ایسے ہوں گے گویا کہ خوش نما آبدار موتی ہوں۔ اور جب قیامت کا دن ہوگا میں نبیوں کا امام، ان کا خطیب اور شفاعت کرنے والا ہوں گا، لیکن مجھے اس پر فخر نہیں۔ اگر حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا نہ فرماتا اور نہ ہی اپنے ربوبیت کا اظہار کرتا اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نبی تھے جب حضرت آدم علیہ السلام ابھی پانی اور مٹی میں تھے (یعنی ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے)

شعر: نماند بعصیان کسے رگرو کہ دارد چنیں سید پیشرو ترجمہ: گناہوں کے عوض وہ پکڑا نہ جائے گا جس کا رہنما ایسا آقا نبی صلّی اللہ علیہ وسلم ہوگا۔

وایضاً چوں آں سرور محبوب رب العالمین است متابعان او بواسطۂ متابعت بمرتبۂ محبوبیت میرسند چہ محب در ہر کہ از شمائل و اخلاق محبوب خود می بیند آن کس را محبوب خود می دارد و مخالفاں را ازیں جا قیاس باید کرد۔ ترجمہ: چوں کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم محبوب رب العالمین ہیں اس لیے آپ کی اطاعت کرنے والے اتباع سنت کی بدولت محبوبیت کے مقام پر فائز ہوتے ہیں۔ کیونکہ محب جس کسی میں اپنے محبوب کے اخلاق و عادات دیکھتا ہے اسے بھی اپنا محبوب بنالیتا ہے۔ اسی پر مخالفوں قیاس کرنا چاہیے۔ (یعنی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم سے مخالف عنداللہ بدترین انسان شمار ہوں گے)

شعر: محمد عربی کہ آبروئے ہر دوسرا است کسے کہ خاک درش نیست خاک بر سر او ترجمہ: حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم دونوں جہانوں کی آبرو ہیں، جو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے در اقدس کی مٹی نہیں بنتا اس کے سر پر مٹی ہو۔ یعنی ذلیل و خوار ہو۔

بچپن کا کچھ زمانہ دیہات میں بنی سعد قبیلہ میں گذارا۔ اسکے بعد مکہ مکرمہ ہی میں مقیم رہے، البتہ تجارت کے لیے بیرون حجاز القدسہ بھی چند ایک بار تشریف لے گئے۔ چالیس سال کی عمر میں جب آپ مکہ مکرمہ کے قریبی جبل نور کی چوٹی پر غار حرا میں گوشہ نشین تھے نبوت کے منصب اور قرآن مجید کے اعلان کے مأمور ہوئے۔ اسکے بعد مشکل ترین حالات میں رہ کر بھی اعلان حق کرتے رہے اور محدود افراد آپ کے دامن حق سے وابستہ ہوئے کہ نبوت کے تیرھویں سال بحکم الٰہی مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ دس سال تک وہاں اعلان کلمۃ اللہ کرتے رہے۔ دشمنان اسلام سے معرکہ بھی ہوئے اور امن کے معاہدے بھی۔ تائید الٰہی سے ہر موڑ پر آپ ہی کامیاب و کامران رہے اور اس عرصہ میں دین اسلام اسقدر خوب پھیلا کہ ایک لاکھ سے زائد افراد نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے شرف حاصل کیا۔ باالآخر ۶۳ سال کی عمر میں بروز پیر ۱۲ ربیع الاول گیارہ ہجری کو رفیق اعلیٰ سے جا ملے اور ان ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں حیات جسمانی کے ساتھ آج بھی زندہ ہیں اور امتیوں کے سلام کا جواب دیتے اور بارگاہ الٰہی میں گنہگاروں کے لیے شفاعت فرماتے ہیں۔

کیا ہی خوب فرمایا اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے:

 تو زندہ ہے واللہ، تو زندہ ہے و اللہ

 میرے چشم عالم سے چھپ جانے والے

 چمک تجھ پاتے ہیں سب پانے والے

 میرا دل بھی چمکادے چمکانے والے