حضرت ابوبکر صدیق

رضی اللہ تعالیٰ عنہ

آپ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے مرشد کامل بلکہ بانی تھے۔ آپ کا نام مبارک عبداللہ اور کنیۃ ابوبکر ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب چھٹی پشت میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ بچپن ہی سے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کو غیر معمولی انس تھا۔ اسلام سے قبل ایک متمول اور دیانتدار تاجر کی حیثیت سے مشہور تھے۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو جب خلعت نبوت عطا ہوا تو مردوں میں سب سے پہلے آپ ہی نے بلاتوقف ایمان کی سعادت حاصل کی۔ اشاعت اسلام میں بھی آپ کی خدمات نمایاں ہیں۔ آسمان اسلام کے درخشندہ ستارے حضرت عثمان بن عفان، حضرت زبیر بن العوام، حضرت عبدالرحمان بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت طلحہ بن عبداللہ اور دیگر کئی جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم آپ ہی کی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ آپ کا قول ہے کہ دانائیوں میں بڑی دانائی تقویٰ ہے اور حماقتوں میں بڑی حماقت بدکاری ہے۔ آپ کے تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ اگر اتفاقاً کوئی ایسا کھانا کھا بیٹھے جس میں شبہ ہوتا تو معلوم ہونے پر قے کر ڈالتے اور فرماتے خداوند جو کچھ رگوں اور آنتوں میں سرایت کرگیا اس پر مواخذہ نہ فرما۔

 سند خلافت پر جلوہ افروز ہونے کے بعد فرماتے تھے میں تم میں بہترین شخص نہیں ہوں، اس لیے تمہیں میری مدد کرنی چاہیے۔ جب مجھے سیدھی راہ پر دیکھو تو پیروی کرو۔ ۶۳ سال کی عمر میں ۲۲ جمادی الثانی سنہ ۱۳ ہجری میں مغرب نماز کے بعد آپ کا انتقال ہوا۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔ گنبد خضریٰ میں حضور نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔