شیخ ابوالحسن خرقانی

رحمۃ اللہ علیہ

ولادت ۳۵۲ ہجری فرقان میں۔ آپ کا نام نامی اسم گرامی علی، والد کا نام جعفر اور کنیت ابوالحسن ہے۔ آپ کو اویسی طریقہ پر حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے باطنی فیض پہنچا اور انہی کے فیض کو آپ نے تمام جہاں میں عام کیا، لیکن آپ کی حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ تک نسبت چہار واسطوں سے مستند بھی ہے کہ آپ کی حضرت ابومظفر موسیٰ طوسی سے نسبت ہے اور انکی خواجہ اعرابی بایزید عشقی سے اور انکی خواجہ محمد مغربی سے اور ان کی سلطان العارفین بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ سے نسبت ہے۔ اپنے شیخ کے مزار پرانوار سے فیض حاصل کرنے کے لیے خرقان جو قزدین کے قریب قصبہ کا نام ہے، سے پیدل بسطام جاتے تھے اور الٹے پاؤں واپس آتے تھے۔ کبھی بھی اپنے شیخ کے مزار کی طرف پیٹھ نہ کی۔

مشہور مسلم حکمران سلطان محمود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے بڑے عقیدت مند تھے۔ آپ کے استغناء اور خدا دوستی کا یہ عالم تھا کہ جب پہلی بار سلطان محمود غزنوی نے آپ کا شہرہ سنا اور خرقان پہنچ کر پیغام بھیجا کہ حضور میرے دربار میں ملاقات کے لیے قدم رنجہ فرمائیں تو آپ نے اس بات کو قبول نہ کیا۔ خود سلطان ملاقات کے لیے خانقاہ عالیہ میں حاضر ہوا، لیکن آپ اسکی تعظیم کے لیے نہ اٹھے۔ البتہ جب عقیدت و محبت سے سرشار ہوکر اور تبرک کے طور پر پیراہن مبارک لیکر ادب سے جانے کے لیے اٹھا تو حضرت اسکی تعظیم کے لیے اٹھے اور سلطان کے دریافت کرنے پر فرمایا پہلے میں تیری بادشاہی کے لیے نہ اٹھا اور اب تیری درویشی کے لیے کھڑا ہوا ہوں۔ کہتے ہیں کہ جب سومنات پر چڑھائی کے وقت سلطان شکست کھانے لگا تو اضطراب کی حالت میں حضور ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کا پیراہن مبارک ہاتھ میں لیکر بارگاہ الٰہی میں یوں ملتجی ہوئے:

الٰہی بآبروئے ایں خرقہ بریں کفار ظفردہ
ہرچہ ازینجا غنیمت بگیرم بدرویشاں بدہم

ترجمہ: خدایا اس خرقہ کی آبرو کے صدقے میں مجھے ان کافروں پر فتح عطا کر، مجھے یہاں سے جو مال غنیمت ملے گا درویشوں کو دیدوں گا۔

حضرت شیخ ابوالحسن رحمۃ اللہ علیہ کے توجہ الیٰ اللہ اور وصول کا یہ عالم تھا کہ فرماتے تھے تیس سال ہوئے ہیں سوائے حق تعالیٰ کے اور کوئی خیال میرے دل میں نہیں گذرا۔

آپ کا وصال خرقان ہی میں دس محرم الحرام ۴۲۵ ہجری میں ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔