حضرت خواجہ ابوالقاسم گرگانی

رحمۃ اللہ علیہ

آپ کا اسم شریف علی، والد کا نام عبداللہ اور کنیت ابوالقاسم ہے۔ ایران کے مشہور طوس کے قریب گرگان نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ کی باطنی نسبت تو حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی علیہ الرحمۃ سے ہے اور انہیں کے سلسلے کو آگے پھیلایا ہے لیکن آپ نے طریقہ سہروردیہ کے عظیم شیخ سید الطائفۃ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے بھی فیض حاصل کیا ہے۔ آپ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر بلکہ بعض روایات کے مطابق انکے شیخ ہیں۔ چنانچہ حضرت علی ہجویری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ طوس میں میں نے شیخ المشائخ حضرت ابوالقاسم گرگانی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ درویش کے لیے کم سے کم کونسی چیز ہونی چاہیے جو کہ فقر کے شایان شان ہو۔ تو فرمایا فقیری کے لیے تین چیزیں ہونی چاہییں: ایک یہ کہ گدڑی میں پیوند درست لگانا جانتا ہو، یعنی ناقص مریدوں کی درست تربیت کرسکتا ہو۔ دوم یہ کہ درست سننا جانتا ہو یعنی سنی ہوئی بات پر غور کرتا ہو۔ سوم یہ کہ زمین پر قدم درست مارتا ہو یعنی خودی، تکبر اور اکڑ کر چلنے کا عادی نہ ہو۔

آپ صاحب تصنیف عالم بزرگ ہیں۔ ”اصول الطریقۃ وفصول الحقیقۃ“ نامی کتاب تصوف کے موضوع پر آپ کی تصنیف ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے کہ جس کام میں گناہ نہ ہو اپنے بھائیوں یعنی پیر بھائی یا دوست احباب کی موافقت کرنا فضیلت کے اعتبار سے نفلی روزہ سے کم نہیں ہے۔ اور فرمایا روزہ کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ روزہ دار کی نظر میں اپنے روزہ کی کوئی قدر و منزلت نہ ہو۔

آپ ۲۳ صفر المظفر ۴۵۰ ہجری کو اس فانی جہاں سے کوچ فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔