حضرت عزیزان علی رامیتنی

رحمۃ اللہ علیہ

آپ بخارا سے دو میل کے فاصلے پر واقع رامیتن نامی گاؤں میں ۵۹۱ ہجری میں پیدا ہوئے۔ آپ مشہور لقب عزیزان ہے۔ عالم و شاعر اور ولی کامل تھے۔ تصوف کے موضوع پر آپ نے ایک رسالہ بھی تحریر فرمایا ہے۔

آپ کی صحبت بابرکت میں ایسا اثر تھا کہ جلد ہی سالک روحانی ترقی حاصل کرلیتے تھے۔ آپ کے درج ذیل ملفوظات سنہری الفاظ میں لکھنے کے قابل ہیں۔

”مرد وہ ہے جس کو تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے۔ نامرد وہ ہے جو ذکر کرے مگر خدا کے لیے نہ کرے، یعنی رضائے الٰہی کے سوا کوئی اور مقصد پیش نظر رکھتا ہو“۔

”عمل کرکے اسے بھلا دینا چاہیے“۔

آپ کی مشہور رباعی ہے۔

باہر کہ نشستی ونہ شد جمع دلت
وزتو نہ رمید زحمتِ آب وگِلت

زنہار ز صحبتش گریزاں می باش
ورنہ نکند روح عزیزان بحلت

ترجمہ: جس کی صحبت کی مگر اس سے آپ کا دل مانوس نہ ہوا اور آپ سے مٹی و پانی والی اوصاف رخصت نہ ہوئیں یعنی اس کی صحبت سے اچھے اخلاق آپ کے اندر پیدا نہ ہوئے تو چاہیے کہ لازمی طور پر اس کی صحبت سے دور بھاگو۔ ورنہ عزیزان علیہ الرحمۃ کی روح آپ کے ساتھ نہ ہوگی۔ مجھ سے فیض حاصل نہ کرسکو گے۔ اگر فیض حاصل کرنا ہے تو غیروں کی صحبت کو ترک کردو۔ ۲۷ رمضان المبارک ۷۱۵ ہجری یا ۷۲۱ ہجری کو ایک سو سال سے زائد کی طویل عمر پاکر اس فانی جہاں سے رخصت ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کا مزار پرانوار ملک فارس کے شہر خوارزم میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔