حضرت خواجہ خواجگان بہاؤالدین نقشبند بخاری

رحمۃ اللہ علیہ

آپ کا اسم شریف محمد اور والد گرامی کا نام بھی محمد ہے۔ اسلامی تاریخی شہر بخارا سے تین میل کے فاصلہ پر قصر ہندواں نامی قصبہ میں محرم الحرام ۷۲۸ ہجری میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے آپکی پیشانی پر آثار ولایت و ہدایت نمایاں تھے اور یہ کیوں نہ ہوں جبکہ آپکی ولادت سے بھی پہلے وہاں سے گذرتے ہوئے قطب عالم حضرت محمد بابا سماسی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ مجھے یہاں سے ایک مرد خدا کی خوشبو آتی ہے۔ ایک اور مرتبہ فرمایا اب وہ خوشبو زیادہ ہوگئی ہے اور جب آپ پیدا ہوئے اور دعا کے لیے آپ کے پاس لائے گئے تو انہیں اپنی فرزندی میں قبول فرمایا اور توجہات سے نوازا۔ اس طرح حضرت شاہ نقشبند کی ابتدائی روحانی تربیت بابا سماسی نے کی اور بعد میں آپ کو حضرت سید امیر کلال کے سپرد فرمایا۔

گو آپ نے ظاہری طور پر طریقت کی تعلیم و تربیت حضرت سید امیر کلال سے حاصل کی لیکن روحانی طور پر آپکی تربیت حضرت قطب عالم عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ نے اویسی طریقہ پر فرمائی۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں میں اوائل احوال میں جذبات و بیقراری کے عالم میں راتوں کو اطراف بخارا میں پھرا کرتا تھا اور ہر مزار پر جاتا تھا۔ ایک رات میں تین مزارات پر گیا۔ آخر میں جس بزرگ کے مزار پر گیا وہاں حالت بے خودی میں میں نے دیکھا کہ قبلہ کی جانب سے دیوار شق ہوگئی اور ایک بڑا تخت ظاہر ہوا جس پر ایک بزرگ تشریف فرما تھے۔ الغرض ایک شخص نے مجھے بتایا کہ یہ حضرت عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ میں نے حضرت خواجہ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دیا اور وہ ارشادات فرمائے جو سلوک کے ابتداء اور درمیان و انتہا سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی مکمل سلوک کی تعلیم دیدی۔ اس موقعہ پر تاکیدی طور پر آپ نے مجھے ارشاد فرمایا استقامت سے شریعت کے شاہراہ پر چلنا۔ کبھی اس سے قدم باہر نہ نکالنا۔ عزیمت اور سنت پر عمل کرنا اور بدعت سے دور رہنا۔ اسی لیے مدت العمر آپ شریعت و سنت پر کاربند رہے اور اتباع شریعت اور رسم و بدعت سے نفرت طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی امتیازی علامات ہیں۔ نقشبندی سلسلہ آپ کی طرف منسوب ہے۔ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی تین اصطلاحات وقوف زمانی، وقوف عددی اور وقوف قلبی شاہ نقشبند قدس سرہ نے مقرر فرمائی ہیں اور آپ اویسی بھی ہیں کہ آپ کو روحانی نسب حضرت خواجہ عبدالخالق سے حاصل ہوئی۔

آپ کا وصال بروز پیر ۳ ربیع الاول ۷۹۱ ہجری میں ۷۳ برس کی عمر میں قصر عارفاں میں ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مزار شریف قصر عارفاں نزد بخارا میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ مشہور یہ ہے کہ حضرت نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازہ کے سامنے یہ شعر پڑھا جائے

مفلسانیم آمدہ در کوئے تو
شیئا للہ از جمال روئے تو

ترجمہ: میرے مولیٰ میں ایک مفلس کی حیثیت سے آپکی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں، خدارا اپنا جلوہ جہاں آرا مجھے دکھادے۔