شیخ علاؤالدین عطار

رحمۃ اللہ علیہ

حضرت علاؤالدین قدس سرہ خواجۂ خواجگان حضرت بہاؤالدین نقشبند بخاری قدس سرہ کے خلیفہ اول، داماد اور جانشین ہیں۔ لڑکپن ہی سے آپ پر حضرت شاہ نقشبند کی خصوصی نظر عنایت رہی۔ درجہ کمال پر فائز ہونے کے بعد اپنے سامنے ہی طالبان طریقت کی تعلیم آپ سے متعلق کردی تھی۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اتباع سنت اور عمل بہ حزیمت کا خصوصی اہتمام رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ نامور علماء کرام نے بھی آپ کی طرف رجوع کیا۔ علوم عقلیہ و نقلیہ کے ماہر اور مختلف علوم و فنون میں مثالی درسی کتب کے مصنف حضرت علامہ شریف جرجانی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے متعلق فرماتے ہیں۔ ”و اللہ ما عرفت الحق سبحانہ وتعالیٰ کما ینبغی مالم اصل الیٰ خدمۃ العطار البخاری“ کہ خدا کی قسم میں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو جیسا چاہیے نہیں پہچانا تھا جب تک کہ میں حضرت علاؤالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچا۔

بروز بدھ ۲۰ رجب المرجب ۸۰۴ ہجری کو اس فانی جہاں سے کوچ فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مزار مبارک موضع جفانیاں ماوراء النہر کے علاقہ میں ہے۔