شیخ خواجہ یعقوب چرخی

رحمۃ اللہ علیہ

آپ کی ولادت غزنی کے چرخ نامی گاؤں میں ۷۶۲ ہجری میں ہوئی۔ باطنی تعلیم و تربیت کے لیے پہلے حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انکے دست اقدس پر بیعت کی۔ خلوص و محبت سے خدمت و صحبت میں رہ کر آپ سے فیوض باطنی حاصل کیے۔ اس قدر کہ حضرت شاہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تیرا ہاتھ ہمارا ہاتھ ہے، جس نے تمہارا ہاتھ پکڑا اس نے ہمارا ہاتھ پکڑا۔ گو آپ کو طریقہ عالیہ کی اجازت حضرت شاہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل تھی لیکن آپ نے اس کی تکمیل حضرت علاؤالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہ کر کی۔ اس لیے سلسلہ عالیہ میں آپ کا نام حضرت عطار رحمۃ اللہ علیہ کے بعد آتا ہے۔ تفسیر یعقوب چرخی آپ کی مشہور تصنیف ہے جو کہ قرآن و حدیث کے علاوہ تصوف و سلوک کے نکات پر بھی مشتمل ہے۔
۵ صفر المظفر ۸۵۱ ہجری میں آپ کی وفات ہوئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ کے نزدیک ہلغنون، گلستان نامی گاؤں میں آپ کا مرقد مبارک مرکز فیوض و ہدایت ہے۔