حضرت خواجہ محمد زاہد وخشی

رحمۃ اللہ علیہ

آپ بخارا کے علاقہ حصار کی نواحی بستی وخش میں مورخہ ۱۴ شوال ۸۵۲ ھجری کو پیدا ہوئے۔ خاندان کے لحاظ سے آپ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور و معروف شیخ حضرت خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور طر یقت کے حوالہ سے انکے خلیفہ خواجہ خواجگان حضرت عبیداللہ احرار رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور بعد میں مسند نشیں ہیں۔ حضرت خواجہ عبیداللہ احرار رحمۃ اللہ علیہ اس وقت سمرقند میں قیام پذیر تھے، جب آپ ان سے بیعت و فیضیابی کے لیے حصار سے روانہ ہو ئے۔ ابھی آپ سمر قند سے چھ میل کے فاصہ پر محلہ واسرائے میں پہنچے تھے کہ بذریعہ کشف معلوم ہونے پر حضرت خواجہ احرار علیہ الرحمۃ آپ کے استقبال کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ کے ہمراہ فقراء بھی تھے، لیکن کسے یہ معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ اسی اثناء میں حضرت محمد زاہد قدس سرہ کو بھی معلوم ہوا کہ حضرت احرار تشریف لارہے ہیں چنانچہ آپ نے شیخ کا استقبال کیا اور اپنے ساتھ قیام گاہ میں لے گئے اور اپنے باطنی احوال و واردات حضرت عبیداللہ احرار قدس سرہ کی خدمت میں بیان کیے اور بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت نے آپ کو اُسی وقت بیعت فرمالیا اور اسی مجلس میں خصوصی توجہ و تصرف سے تمام روحانی منازل طے کرادیئے اور تکمیل کے درجہ تک پہنچاکر خلافت و اجازت سے سرفراز کرکے وہیں سے تبلیغ دین کے لیے رخصت بھی عنایت فرمادی۔ آپ کے بارے میں حضرت احرار علیہ الرحمۃ فرمایا کرتے تھے کہ مولانا زاہد چراغ، تیل اور بتی تیار کرکے ہمارے پاس آئے تھے، ہم نے صرف روشن کرکے رخصت کیا۔ اللہ، اللہ! کس قدر فیاض اور کس قوت تصرف کے حامل و کامل شیخ اور کس کمال درجہ کی استعداد و صلاحیت والے مرید صادق کہ دوسرے مریدین جو برسوں میں حاصل نہ کرسکے حضرت زاہد قدس سرہ ایک ہی مجلس میں حاصل کر گئے۔

آپ یکم ربیع الاول ۹۳۶ ھجری کو اپنے آبائی وطن وخش میں واصل بحق ہوئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وخش ہی میں آپ کا مزار پر انوار ہے۔ جہاں سے لاکھوں لوگ فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔