حضرت خواجہ محمد مقتدیٰ امکنگی

رحمۃ اللہ علیہ

آپ قطب عالم حضرت خواجہ درویش محمد قدس سرہ کے گھر بخارا کے قریب امکنہ نامی گاؤں میں ۹۱۸ ہجری میں پیدا ہوئے اور بزرگ والدین کی اعلیٰ تعلیم و تربیت نے آپ کو کمال درجات پر فائز کیا۔ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت قطب عالم رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنے آغوش میں ایک بچہ لیے ہوئے ہیں، غور سے جو دیکھا تو وہ بچہ ان کا لخت جگر محمد مقتدیٰ ہے تو پدری شفقت میں اور اضافہ ہوا اور پہلے سے زیادہ اس نونہال کی تعلیم اور تربیت پر توجہ مبذول فرمائی اور سیر و سلوک کی تکمیل پر ان کو خرقۂ خلافت سے سرفراز فرمایا۔ والد گرامی و مرشد کامل حضرت خواجہ درویش محمد قدس سرہ کے وصال کے بعد مسند نشین ہوئے اور خوب دین کی تبلیغ کی اور آپ شریعت و سنت کے نیز طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے اصول و ضوابط کے سخت پابند تھے۔ آپ کی طبیعت مبارک میں انتہا درجہ کی انکساری تھی، چنانچہ آپ کے بڑھاپے کے زمانہ میں ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور مسجد بلندی پر واقع ہے اور آپ کا گھر کافی نیچے ہے، کمزوری کے باعث آنے جانے میں کافی تکلیف ہوتی ہے، اس لئے زیادہ بہتر ہوگا کہ آپ نماز عصر، مغرب و عشاء پڑھ کر ایک ہی بار واپس جایا کریں۔ جواب میں ارشاد فرمایا جیسی نمازیں ہم پڑھتے ہیں ان میں بس مسجد میں آنا جانا ہی تو کام ہے، باقی ہماری نمازوں میں کیا رکھا ہے۔ ایک طرف آپ کے اوپر دید قصور کا اسقدر غلبہ، اور دوسری طرف خداداد مقبولیت کا یہ عالم کہ والی توران عبیداللہ خان ہر روز صبح کے وقت قدم بوسی کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا۔ برصغیر پاک و ہند حضرت خواجہ امکنگی کے ممنون و مشکور ہیں کہ آپ نے اپنے خلیفہ حضرت محمد باقی باللہ قدس سرہ کو یہاں بھیج کر طریقہ عالیہ نقشبندیہ سے یہاں کے عوام و خواص کو فیضیاب کردیا۔

تقریبا نوے سال کی عمر میں ۲۲ شعبان ۱۰۰۸ ہجری میں انتقال فرمایا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپکا مزار شریف بخارا سے تین میل کے فاصلے پر امکنہ میں زیارتگاہ خاص و عام ہے۔