حضرت امام ربانی مجدد و منور الف ثانی
شیخ احمد فاروقی سرہندی

رحمۃ اللہ علیہ

آپ کی ولادت باسعادت شب جمعہ ۱۴ شوال المکرم حضرت مخدوم عبدالاحد رحمۃ اللہ علیہ کے گھر سرہند شریف نامی قصبہ میں ہوئی۔ ولادت سے قبل ہی آپ کے والد گرامی کو بذریعہ خواب نیک نام صاحبزادہ کی ولادت کی خوشخبری سنائی گئی تھی۔ آپ کا سلسلہ نسب ۲۸ واسطوں سے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔ چنانچہ شرعی حمیت و غیرت کے ایک موقعہ پر اپنے مکتوب میں ”رگِ فاروقیم درحرکت آمد“ فرماکر اس بابرکت نسب کا اظہار بھی فرمایا ہے۔ حفظ قرآن کے بعد درسی کتب بمع معقولات و حدیث و تفسیر حضرت شیخ یعقوب، علامہ کمال الدین کشمیری اور مولانا قاضی بہلول رحمۃ اللہ علیہم کے پاس پڑھیں اور تصوف کی کتب مثلا التعرت، عوارف المعارف اور فصوص الحکم اپنے والد بزرگوار سے پڑھیں۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد کچھ عرصہ درس و تدریس میں مصروف رہے۔ اس کے بعد روحانی و باطنی علوم میں آپ نے محض سترہ سال کی عمر میں کمال حاصل کیا۔ بعد میں ہمہ تن تبلیغ و اشاعت اسلام میں مشغول ہوگئے۔

مجدد الف ثانی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بَعَثَ اللّٰہُ رَجُلًا عَلَیٰ رَئْسِ اَحَدَ عَشَرَ مِئَاۃِ سَنَۃٍ ھُوَ نُوْرٌ عَظِیْمٌ اِسْمُہٗ اِسْمِیْ بَیْنَ السَّلاطِیْنِ الْجَابِرِیْنَ وَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ بِشَفَاعَتِہٖ رِجَالٌ اُلُوْفًا“ (الحدیث) ترجمہ: گیارھویں صدی کے سرے پر اللہ تعالیٰ ایک ایسا شخص پیدا کریگا جو نور عظیم ہوگا اور اس کا نام میرے نام پر ہوگا۔ وہ دو ظالم حکمرانوں کے درمیان زندگی بسر کریگا اور اس کی شفاعت سے کئی ہزار آدمی جنت میں داخل ہونگے۔ فرماکر جس مجدد اور نور عظیم کے آمد کی خوش خبری سنائی تھی، عالم اسلام کے جمہور علماء و مشائخ کی تصدیق کے مطابق اس کے مصداق حضرت امام ربانی مجدد و منور الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ مثلاً شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے لیکر آج تک سب علماء و مشائخ آپ کو مجدد الف ثانی مانتے رہے ہیں۔ آپ نے احیاءِ سنۃ اور رد کفر و بدعۃ کے سلسلہ میں ایسے کارنامے انجام دیے کہ نہ پہلے کسی عالم یا ولی نے ایسا کر دکھایا نہ بعد میں کسی اور نے۔

آپ کے چھٹے جد امجد حضرت خواجہ رفیع الدین قدس سرہ علوم ظاہر و باطن کے جامع اور حضرت جلال الدین بخاری المعروف مخدوم جہانیاں رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز تھے۔ سرہند شہر کی بنیاد آپ ہی نے رکھی تھی۔ جبکہ آپ کے والد گرامی حضرت شیخ عبدالاحد رحمۃ اللہ علیہ بھی سلسلہ چشتیہ کے مشہور بزرگ حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی قدس سرہ کے مرید اور انکے خلف رشید حضرت شیخ رکن الدین علیہ الرحمۃ کے خلیفہ مجاز تھے۔ آپ کے والد بزرگوار فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے فرزند احمد کی ولادت کے دن حالت کشف میں دیکھا کہ حضور انور علیہ الصلٰوۃ والسلام میرے گھر میں تشریف فرما ہیں اور نومولود احمد کے کانوں میں اذان و تکبیر کہہ رہے ہیں۔

سلوک طریقت

شروع میں آپ نے اپنے والد گرامی حضرت عبدالاحد رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر طریقہ چشتیہ میں بیعت کی۔ اس کی تکمیل کے بعد والد گرامی ہی سے سلسلہ قادریہ میں بھی بیعت کی، مگر خرقہ خلافت حضرت شاہ کمال کیتھلی حضرت شاہ سکندر کیتھلی قدس سرہ سے حاصل کیا۔

طریقہ عالیہ نقشبندیہ

گو آپ دیگر سلاسل سے فیضیاب ہوچکے تھے لیکن آپ کو سلسلہ نقشبندیہ کی تڑپ ہر وقت بے قرار رکھتی تھی۔ چنانچہ ۱۰۰۷ ہجری میں والد گرامی کے انتقال کے بعد ۱۰۰۸ھ میں جب حج بیت اللہ اور روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے ارادے سے سرہند سے روانہ ہوکر دہلی پہنچے تو دہلی کے علماء و فضلاء بکثرت آپ کی زیارت و ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ جن میں سے ملا حسن کشمیری رحمۃ للہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے شیخ حضرت محمد باقی باللہ قدس سرہ کا ذکر سنتے ہی بلا تاخیر آپ کی خدمت میں پہنچے۔ حضرت شیخ نے بھی دیکھتے ہی آپ کو پہچان لیا کہ یہ وہی عزیز ہیں جن کی خوش خبری سناکر حضرت شیخ امکنگی قدس سرہ نے مجھے ہندوستان بھیجا تھا۔ چنانچہ آپ نے حضرت شیخ احمد سرہندی قدس سرہ کو غیر معمولی شفقت و محبت سے نوازا، بیعت کیا اور کچھ عرصہ دہلی میں قیام کی ترغیب دی۔ چنانچہ آپ ڈھائی ماہ دہلی میں رہے اور حضرت محمد باقی باللہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کا سلوک طے کیا۔ جس کی خوشخبری آپ کو مرشد کامل نے خود دی۔ دوسری بار حاضری پر حضرت باقی باللہ قدس سرہ نے خلافت و اجازت سے سرفراز فرمانے کے ساتھ ساتھ بعض اپنے مریدین بھی تربیت کے لئے آپ کے سپرد فرمائے۔ سرہند واپسی کے کچھ ہی عرصہ بعد حضرت باقی باللہ قدس سرہ نے آپ کے نام شوق و ملاقات پر مشتمل خط تحریر فرمایا۔ خط پڑھتے ہی آپ دہلی کے لئے روانہ ہوئے۔ جب دہلی کے قریب پہنچے تو معلوم ہونے پر حضرت شیخ آپ کے استقبال کے لئے کابلی دروازہ تک مع فقراء تشریف لائے۔ تیسری بار کی اس حاضری پر حضرت محمد باقی باللہ قدس سرہ نے اپنے فقراء سے فرمایا ”اب آپ شیخ احمد کی طرف متوجہ رہیں، دورانِ حلقہ کوئی بھی میری طرف متوجہ نہ ہو“ یہی نہیں بلکہ بعض احباب کو متأمل پاکر ارشاد فرمایا ”شیخ احمد آفتاب ہیں اور ہم جیسے ستارے ان کی روشنی میں گم ہیں“۔ حد یہ ہے کہ خود بھی دوسرے مریدوں کی طرح حضرت امام ربانی کے حلقہ میں شامل ہوتے اور آداب بجا لاتے رہے۔ جبکہ امام ربانی قدس سرہ تو ویسے بھی مریدانہ انداز میں آپ کے آداب بجالاتے تھے۔ آخری بار کی اس صحبت و ملاقات میں حضرت باقی باللہ قدس سرہ نے اپنے دونوں صاحبزادوں خواجہ عبیداللہ اور خواجہ عبداللہ (یہ اس وقت شیر خوار بچے تھے) کو طلب فرماکر حضرت امام ربانی علیہ الرحمۃ سے توجہ دلائی۔ نیز انکی والدہ کو بھی غائبانہ توجہ دلائی (اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بزرگوں سے توجہ دلانا اور خواتین کو باپردہ کسی بزرگ سے توجہ دلانا جائز اور شریعت و طریقت کے عین مطابق ہے۔ اور یہ مشائخ ماسلف کے یہاں مروج رہا ہے)

اتباع سنت اور امام ربانی

حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ اتباع شریعت و سنت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ صدیاں گذرنے کے بعد بھی اس کی نظیر کہیں نظر نہیں آتی۔ یہ اتباع سنت کی برکت تھی کہ جس ملک کے معاشرہ کو جلال الدین اکبر اور جہانگیر جیسے حکمرانوں نے دین اسلام کے سراسر مخالف بنادیا تھا، مختصر سی مدت میں اسی ملک میں عوام الناس سے لیکر ایوان اقتدار تک بلا کم و کاست حق کا پیغام پہنچایا اور اپنی خداداد صلاحیت اور حکمت عملی کے ذریعے دینِ اسلام کی اشاعت کا ایسا ڈنکا بجایا کہ پہلے اسکا تصور کرنا بھی محال نظر آتا تھا۔ ہندوستان بھر میں اتباع شریعت و سنت کا راج اور خلاف شرع رسوم و رواج کی بیخ کنی اور علماء سوء (بدعقیدہ گمراہ اور گمراہ کن تعلیم یافتہ لوگوں) کی کوتاہیوں کی نشاندہی آپ کے تجدیدی کارناموں میں نمایاں طور پر شمار ہوتے ہیں۔ قید و بند کی صعوبتیں تو برداشت کیں لیکن اظہار حق میں اغماض و چشم پوشی سے کام نہیں لیا۔

وفات حسرت آیات

دین اسلام کی نشاۃِ ثانیہ، تجدید و احیاء اور سلاطینِ وقت کی غیر معمولی اصلاح اور شریعت کی مثالی ترویج و اشاعت کے بعد بتاریخ ۲۸ صفر المظفر ۱۰۳۴ھ کی رات حسب معمول نماز تہجد کے لئے اٹھے اور اطمینان و سکون سے نماز تہجد ادا کرنے کے بعد وہاں موجود فقراء کو سفر آخرت کی خبر سنائی اور ذکر الٰہی میں مشغول ہوگئے۔ اسی محویت میں آپ کی روح مبارک رفیق اعلیٰ سے جا ملی۔ اِنا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے مطابق ۶۳ برس تھی۔ آپ کا مزار پرانوار سرہند شریف میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔