محی السنت حضرت خواجہ سیف الدین

قدس سرہ

آپ عروۃ الوثقیٰ حضرت خواجہ محمد معصوم قدس اللہ سرہ العزیز کے صاحبزادہ اور خلیفہ ارشد ہیں۔ آپ کی ولادت ۱۰۴۹ھ میں سرہند شریف میں ہوئی۔ آپ کو فطرۃِ سلیمہ کے ساتھ نیکی، اتباع شریعت اور اعلاء کلمۃ الحق کے انعامات ترکہ میں حاصل تھے۔ کمال یہ کہ محض گیارہ سال کی عمر میں دینی تعلیم حاصل کرکے فارغ التحصیل عالم و فاضل بن چکے تھے۔ اسی عمر میں والد محترم (حضرت قیومِ ثانی علیہ الرحمہ) نے فناء قلب کی بشارت دی تھی۔ سلطان عالمگیر جو کہ نظامتِ ملتان کے زمانہ سے حضرت عروۃ الوثقیٰ قدس سرہ کے حلقہ ارادت میں داخل تھے، جب پورے ہندوستان کے والی بن گئے تو انکی تربیت کے لئے حضرت عروۃ الوثقیٰ قدس سرہ نے اپنے نوجوان صالح فرزند حضرت سیف الدین قدس سرہ کا انتخاب فرمایا۔ آپ جیسے ہی شاہی قصر معلّیٰ کے پھاٹک پر پہنچے تو دو ہاتھیوں کے مجسمے دیکھے۔ پہلے انکو توڑوایا پھر اندر داخل ہوئے۔ اسی طرح شاہی باغ میں جواہر اور موتیوں کی آنکھوں والی مچھلیوں کو توڑوادیا۔ سلطان عالمگیر علیہ الرحمۃ حضرت عروۃ الوثقیٰ قدس سرہ کے اس حسنِ انتخاب پر ہمیشہ آپ کے مشکور رہے۔ سلطان صالح کی للہیت اور حضرت محی السنت کی کمال روحانی تربیت تھی جس نے سلطان کو سالکِ طریقت بنادیا۔ اس قدر قرب سلطانی کے باوجود اہل دنیا کی صحبت سے ہمیشہ محترز رہے۔ یہاں تک دولت مندوں کے ساتھ کھانا نہ کھاتے تھے۔ کبھی بھی بادشاہ یا کسی امیر سے شرعی معاملہ میں رو و رعایت نہیں کی۔ خلافِ شرع کام سے بہت سختی سے روکتے تھے۔ آپ کا یہ معمول تھا کہ ظہر و عصر کے درمیان خواتین کو درس حدیث دیا کرتے تھے۔ مرشد کامل (جو کہ آپ کے والدِ گرامی بھی تھے) اور جد امجد حضرت مجدد الف ثانی قدس سرھما سے آپ کو فنائیت کے درجہ کی والہانہ عقیدت و محبت تھی جس کی ایک جھلک درج ذیل اشعار میں نظر آتی ہے، جو آپ رات کے وقت ان دونوں بزرگوں کے مزارات پر روتے اور گڑگڑاتے ہوئے پڑھتے تھے۔

من کیستم کہ باتو دمِ دوستی زنم
چندیں سگانِ کوئے تو یک سگ منم

ترجمہ: میری کیا مجال کہ آپ سے دوستی کا دعویٰ کروں؟ میں تو بس آپ کے دربار کے کتوں میں سے ایک کتا ہوں۔
آپ کا انتقال ۴۷ سال کی عمر میں ۱۹ یا ۲۶ جمادی الاولیٰ ۱۰۹۶ھ میں ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مزار پرانوار سرہند شریف میں ہے۔