فرید العصر شمس الدین حبیب اللہ
حضرت مرزا مظہر جان جانان شہید

قدس سرہ

طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے اس آفتاب کا طلوع (ولادت) جمعہ گیارہ رمضان المبارک ۱۱۱۱ ہجری کو ہوا۔ آپ علوی سادات میں سے ظاہری و باطنی کمالات کے جامع بزرگ ہیں۔ یکتائے روز عالم و عارف حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ آپ کے بڑے مداح تھے۔ نفس زکیہ اور قیم طریقہ احمدیہ نے لکھا ہے کہ آپ کو نو سال کی عمر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواب میں زیارت ہوئی اور بارہا خواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ ۱۸ برس کی عمر میں حضرت سید نور محمد بدایونی قدس سرہ کے دست اقدس پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔ چار سال کے بعد حضرت بدایونی علیہ الرحمۃ نے آپ کو طریقہ عالیہ کی تعلیم کی اجازت مرحمت فرمائی۔ مفسر قرآن فقیہ اعظم حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی قدس سرہ بھی آپ کے خلفاء میں سے ہیں۔

بدھ ۷ محرم الحرام کی رات ایک رافضی نے آپ کو گولی مار کر زخمی کردیا اور ہفتہ دس محرم الحرام ۱۱۹۵ ہجری کی رات راہی ملک بقاء ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مادہ تاریخ شہادت: حدیث شریف ”عَاشَ حَمِیْدًا وَفَاتَ شَھِیْدًا“ سے نکلتا ہے۔ مزار مبارک دہلی میں بمقام چتلی دہلی زیارت مرکز و ہدایت ہے۔