مرشدنا حضرت عبداللہ المعروف
شاہ غلام علی دہلوی

قدس سرہ

آپ کی ولادت شریف ۱۱۵۸ ہجری کو قصبہ پٹیالا (پنجاب) میں ہوئی۔ آپ کی ولادت سے قبل آپ کے والد ماجد حضرت شاہ عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ کو جو کہ صاحب ریاضت و مجاہدہ بزرگ تھے، خواب میں حضرت علی کرم اللہ و جہہٗ کی زیارت ہوئی۔ آپ فرما رہے تھے کہ اپنے لڑکے کا نام میرے نام پر رکھنا۔ چنانچہ ولادت کے بعد آپ کا نام علی رکھا گیا لیکن سن تمیز کو پہنچ کر ادب کی وجہ سے اپنے تئیں غلام علی مشہور کیا۔ جبکہ آپ کے چچا بزرگوار نے (وہ بھی بڑے کامل ولی تھے) رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کا نام عبداللہ تجویز کیا۔ آپ قوی الحافظہ تھے۔ ایک مہینہ میں قرآن مجید حفظ کرلیا۔ ۱۱۷۰ھ میں ۳۲ سال کی عمر میں بیعت کے لئے حضرت مرزا مظہرجانِ جانان شہید قدس سرہ کی خدمت میں پہنچ کر طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ کہتے ہیں کہ حضرت شہید علیہ الرحمۃ نے اس وقت فرمایا جہاں ذوق و شوق ہو وہاں جاکر بیعت کریں، یہاں تو بے نمک پتھر گھسنا ہے۔ عرض کی کہ مجھے منظور ہے۔ یہ سن کر حضرت شہید علیہ الرحمۃ نے فرمایا تو مبارک ہو۔ پھر بیعت کیا اور آپ کو صحبت میں رکھا۔ پندرہ سال بعد حضرت شہید علیہ الرحمۃ نے آپ کو اجازت مطلقہ سے سرفراز فرمایا۔ آپ سوتے بہت کم تھے۔ تہجد کے وقت فقراء کو خود اٹھاتے تھے اور تہجد پڑھکر مراقبہ اور تلاوت قرآن میں مشغول ہوجاتے تھے۔ صبح کی نماز اول وقت میں باجماعت ادا کرکے اشراق کے وقت تک مراقبہ میں مشغول رہتے تھے۔ تقریباً دوسو فقراء روزانہ خدمت میں موجود رہتے اور لنگر سے کھانا کھاتے تھے۔ ترکستان کے بہت بڑے عالم حضرت خالد رومی قدس سرہ بھی آپ کے خلفاء میں سے ہیں، جن کے نام سے آج بھی خالدیہ نقشبندیہ سلسلہ ترکی میں مشہور و معروف ہے اور ان کے متوسلین عربی، فارسی، اردو، انگریزی، ترکی اور دیگر زبانوں میں تحریری طور پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی بڑی خدمت کررہے ہیں۔

۲۲ صفر المظفر ۱۲۴۰ھ میں انتقال فرمایا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خانقاہ عالیہ حضرت شاہ غلام علی دہلی میں اپنے شیخ شہید علیہ الرحمۃ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ آپ کی تاریخ وفات کا مادہ (۱۲۴۰ھ) ابجد کے حساب سے ”نَوَّرَ اللّٰہُ مَضْجَعَہٗ“ (اللہ تعالیٰ آپ کی قبرکو روشن رکھے) ہے۔