حافظ القرآن حضرت شاہ ابوسعید

رحمۃ اللہ علیہ

آپ کا اسم شریف زکی القدر اور لقب ابوسعید ہے۔ آپ کی ولادت دو ذی قعدہ ۱۱۹۶ ہجری کو مصطفیٰ آباد (رام پور، ہندوستان) میں حضرت صفی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے گھر ہوئی۔ آپ کے والد ماجد حضرت امام ربانی قدس سرہ کی اولاد میں سے تارک الدنیا بزرگ تھے۔ دس برس کی عمر میں تقریبا سارا قرآن حفظ کرنے کے بعد حضرت قاری نسیم علیہ الرحمۃ کے پاس تجوید کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد علوم اسلامیہ کی اکثرکتب حضرت مفتی شرف الدین علیہ الرحمۃ کے پاس پڑھیں اور بعض کتب حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے نامور فرزند مولانا شاہ رفیع الدین کے پاس پڑھیں۔ جبکہ حدیث شریف کی سند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمۃ سے حاصل کی۔

تحصیل علم کے زمانہ میں اپنے والد بزرگوار کے ہاتھ پر بیعت کی۔ کچھ عرصہ بعد انکی اجازت سے حضرت شاہ درگاہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے۔ آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں کو دیکھ کر حضرت درگاہی علیہ الرحمہ نے خصوصی توجہات سے نوازکر مختصر ہی وقت میں خلافت و اجازت سے سرفراز کیا، لیکن آپ کی روحانی تشنگی ابھی باقی تھی کہ مفسر قرآن اور فقیہ اعظم حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمہ کی ترغیب پر شیخ المشائخ حضرت شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہوئے اور پندرہ برس تک ان سے فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔ چونکہ آپ عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ طریقت و تصوف کے رموز و اسرار میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے، بعض احباب نے استدعا کی کہ اس اہم موضوع پر آپ کوئی کتاب لکھیں۔ چنانچہ آپ نے ”ہدایت الطالبین“ کے نام سے علمِ سلوک کی ایک بیش بہا کتاب تحریر فرماکر اپنے شیخ حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ کی خدمت میں پیش کی۔ جسے آپ نے پسند فرماتے ہوئے تصدیق و تائید کے لئے تقریظ بھی لکھ کر عنایت فرمائی۔

زندگی کے آخری ایام میں حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خط لکھ کرآپ کو لکھنؤ سے خانقاہ عالیہ دہلی بلایا اور خصوصی توجہات سے نوازنے کے ساتھ اصرار کرکے خانقاہ عالیہ دہلی، مکانات وغیرہ سب آپ کے سپرد کرکے اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

مسند نشینی کے بعد مسلسل نو برس تک تبلیغی جدوجہد کی۔ ۱۲۴۹ھ میں خانقاہ عالیہ اپنے خلفِ رشید عالمِ باعمل صاحبزادہ حضرت احمد سعید صاحب علیہ الرحمۃ کے سپرد کرکے حج بیت اللہ اور زیارت روضۂ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کیلئے حجاز مقدس کا سفر اختیار کیا۔ ذی الحجہ کی دوسری یا تیسری تاریخ بلد الحرام میں داخل ہوئے، جہاں مشہور محدث شیخ محمد عابد سندھی، شیخ عبداللہ السراج و دیگر اکابر محدثین اور اولیاء اللہ نے آپ کا استقبال کیا۔ ادائیگی حج کے بعد بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہوئے۔ ظاہری و باطنی انوار و تجلیات سے مستفیض ہوکر واپسی کا سفر اختیار کیا۔

حرمین شریفین سے واپسی پر بیماری کی حالت میں ۲۲ رمضان المبارک کو ٹونک پہنچے۔ بروز بدھ عید الفطر ۱۲۵۰ھ کو اس فانی جہان سے رحلت فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جسد اطہر کو تابوت میں رکھ کر دہلی لایا گیا، اس طرح مرشدکامل حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ کے قریب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آسودہ خواب ہوگئے۔ تاریخِ وفات کا مادہ (ابجد کے حساب سے ۱۲۵۰ھ) ”ستون محکمِ دین فتاد زپا“ سے نکلتا ہے۔