خواجۂ خواجگان حضرت احمد سعید

رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ خواجۂ خواجگان حضرت ابو سعید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادہ اور خلف رشید ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ۲ واسطوں سے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ سے ملتا ہے، جس کا اظہار اوجز المسالک شرح موطا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب سہارنپوری نے بھی کیا ہے۔

مسلمانان ہند نے ۱۸۵۷ع میں جب انگریزوں کے تسلط کے خلاف جنگ آزادی کا اعلان کیا، اس میں حضرت شاہ احمد سعید قدس سرہ کی ملی خدمات سرفہرست ہیں۔ شرعی نقطہ نظر سے اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑا ہونا ٹھیک اسلامی جہاد ہے۔ یہ جرئت مندانہ اقدام سب سے پہلے آپ کے حصہ میں آیا اور اس فتویٰ پر سب سے پہلے آپ نے دستخط فرمائے۔ بعد میں دوسرے علماء نے دستخط کیے۔ لہٰذا اس تاریخی جہاد کے آپ روح رواں ہیں لیکن اس موضوع پر لکھنے والے مورخین نے آپ کا نام نہ لکھ کر ایک تاریخی حقیقت کو چھپانے کی خیانت کا ارتکاب کیا ہے۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد بھی آپ چار ماہ تک خانقاہ حضرت شاہ غلام علی دہلوی میں زیر تعلیم رہے۔ آپ کی مقبولیت عام کے پیش نظر انگریز حکمرانوں نے آپ کو بہت ستایا۔ بالآخر آپ نے اپنی خانقاہ کے جملہ معاملات اپنے خلیفہ اعظم حضرت حاجی دوست محمد قندھاری رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کئے اور خود عازم حرمین شریفین ہوئے۔ ۱۲۷۰ ہجری میں فریضہ حج ادا کیا اور چار دن مکہ مکرمہ میں قیام کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی اور آخر تک وہاں حلقہ ذکر و مراقبہ اور تبلیغی سلسلہ جاری رکھا۔

۲ ربیع الاول ۱۲۷۷ ہجری ۶۰ سال کی عمر میں مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفا و تعظیما میں وفات پائی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جنت البقیع میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔