حضرت حاجی دوست محمد قندھاری

رحمۃ اللہ علیہ

آپ کی ولادت ۱۲۱۶ ہجری میں حضرت خواجہ ملا علی کے گھر قندھار کے قریب آبائی گاؤں میں ہوئی۔ سن شعور کو پہنچتے ہی آپ نے دینی تعلیم کا آغاز اپنے گاؤں سے کیا۔ بعد میں کابل تشریف لے گئے، جہاں جید علماء کرام سے فقہ، حدیث اور دیگر علوم شرعیہ کی مزید تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانہ ہی سے آپ اولیاء اللہ کے عقیدت مند تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ چند طالب علموں کے ہمراہ قندھار کے مشہور بزرگ بابا ولی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کو جاتے ہوئے جب ایک مجزوب درویش کے پاس سے گذرے تو انہوں نے فرمایا کہ طالب علم بڑا صاحب کمال اور صاحب ولایت میں سے ہوگا اور ولی کامل ہوگا کیوں کہ اس کی پیشانی میں اسرار معرفت جلوہ گر ہیں۔ آپ فرماتے تھے کہ اس مجذوب کے کلمات گاہے بگاہے ہم کو یاد آتے تھے۔ جب آپ کی طبیعت پر اضطراب و ہیجان کا غلبہ ہوا تو تعلیم ترک کرکے حجاز مقدس کا رخ کیا اور کئی سال وہاں مقیم رہے۔ حج بیت اللہ کی سعادت سے مشرف ہوکر جب عشاق کی منزل مدینہ منورہ پہنچے تو والی گنبد خضریٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت شریف سے مشرف رہنے کے ساتھ ساتھ مسجد نبوی میں علوم ظاہری کی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے، یہاں تک کہ اچانک ایک رات نائب خیر البشر حضرت شاہ عبداللہ المعروف غلام علی صاحب دہلوی قدس اللہ روحہٗ کی زیارت کا شوق اس قدر موجزن ہوا کہ حرمین شریفین سے رخت سفر باندھ کر قندھار اور پھر غزنی اور کابل سے ہوتے ہوئے جب پشاور پہنچے تو حضرت شاہ غلام علی قدس سرہ کے وصال پرملال کی خبر سنی۔ اس خبر سے اور پریشانی زیادہ ہوئی اور واپس قندھار آگئے۔ بعد ازاں آپ غوث اعظم سیدنا محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کے دربار شریف میں بغداد حاضر ہوئے۔ مختصر عرصہ کے قیام کے بعد حضرت شیخ عبداللہ ہراتی کی خدمت میں پہنچ کر تین ماہ قیام کیا اور اپنی قلبی کیفیات سے آگاہ کیا تو انہوں نے حضرت شاہ ابو سعید دہلوی قدس سرہ کی خدمت میں حاضری کا امر فرمایا۔ الغرض متعدد مشائخ طریقت سے زیارت و ملاقات کے بعد جب حضرت ابو سعید قدس سرہ کی خدمت میں پہنچے اور آپ بیعت ہوئے اس وقت حضرت ابو سعید قدس سرہ حج پر حجاز مقدسہ جارہے تھے۔ آپ نے حضرت قندھاری علیہ الرحمۃ سے فرمایا قلبی تسکین کیلئے چاہیے کہ آپ میرے فرزند شاہ احمد سعید کی صحبت اختیار کریں اور ان سے فیض حاصل کریں یا پھر میرے حج سے واپسی تک یہاں بمبئی میں ٹھہریں۔ چنانچہ آپ نے دہلی جاکر حضرت احمد سعید قدس سرہ کی خدمت میں رہنے کو ترجیح دی۔ بالفاظہ جوں ہی شیخ طریقت حضرت شاہ احمد سعید دہلوی قدس سرہ کی جبین انور میں نظر کا پڑنا تھا کہ فقیر کے ہر درد کا مداوا ہوگیا اور دل کو تمام سابقہ غموم ہموم سے خلاصی نصیب ہوئی۔ آپ نے ایک سال دو ماہ پانچ دن کی صحبت میں حضرت شاہ صاحب قدس سرہ سے تمام طرق مشہور اربعہ نقشبندیہ قادریہ چشتیہ اور سہروردیہ کے فیوض حاصل کئے اور سند اجازت سے مشرف ہوئے۔ بالفاظ حضرت احمد سعید قدس سرہ ”فقیر نے انہیں تمام طریقوں کی اجازت دے دی تاکہ رستہ ہدایت جاری فرمائیں اور سالکین کے دلوں کو منور کریں۔ وہ میرے نائب ہیں اور انکا ساتھ گویا میرا ساتھ ہے“۔ چنانچہ ۱۲۵۱ ہجری میں قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمۃ کے حکم اور دعاؤں کے ساتھ افغانستان کی طرف روانہ ہوئے، وہاں مثالی تبلیغی کام کیا اور پھر ۱۲۶۶ ہجری میں جب موسیٰ زئی شریف کے انعام پر قاضی عبدالغفار رحمۃ اللہ علیہ و دیگر اہل ذکر نے خانقاہ تیار کی تو موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی آپ نے موسیٰ زئی شریف کی رونق بحال کی اور تا دم آخر وہیں قیام فرما رہے۔ ۶۸ برس کی عمر میں جب طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو خانقاہ شریف، کتب خانہ و دیگر اسباب حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی قدس سرہ کو ودیعت فرمائے۔ اپنے مقربین خلفاء کو جمع فرماکر حضرت دامانی قدس سرہ کی نیابت کی تائید کی۔ حضرت دامانی قدس سرہ فرماتے تھے کہ میرے مرشد حضرت قندھاری قدس سرہ فرماتے تھے جب بھی مجھے کوئی مشکل در پیش آئی تو حضرت خواجہ خضر مشورہ اور تسلی دینے حاضر ہوجاتے تھے۔

بالآخر ۲۲ شوال ۱۲۸۴ میں رشد و ہدایت کا منبع اپنے معبود حقیقی کی رحمت کے افق میں غروب ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کا مزار شریف خانقاہ موسیٰ زئی شریف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔