حضرت خواجہ حاجی محمد عثمان دامانی

رحمۃ اللہ علیہ

آپ کی ولادت ۱۲۴۴ ہجری میں حضرت مولانا موسیٰ جان رحمۃ اللہ علیہ کے گھر قصبہ لونی ضلع ڈیرہ اسماعیل میں ہوئی۔ چونکہ آپ کا تعلق ایک دینی و علمی خانوادے سے تھا، کم سنی ہی میں دینی تعلیم کے لئے مدرسہ میں داخل ہوئے۔ ابھی آپ تحصیل علم میں مصروف تھے کہ آپ کے ماموں جان مفتی نظام علیہ الرحمۃ نے جو کہ حضرت حاجی دوست محمد قندھاری رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے، ایک مرتبہ آپ کو نیاز مندانہ سلام و پیغام دے کرحضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیجا۔ بیعت ہوئے بغیر سلام و پیام پہنچا کر واپس مدرسہ میں پہنچے لیکن اب پڑھنے میں پہلی سی رغبت نہیں رہی۔ بے قراری کے عالم میں دوبارہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے، بیعت سے مشرف ہوئے اور باطنی علوم کے ساتھ ساتھ ظاہری علوم کی تکمیل بھی حضرت حاجی دوست محمد قندھاری کے پاس ہی کی اور سفر خواہ حضر میں ہر وقت پیر و مرشد کی صحبت اور خدمت سے فیضیاب ہوتے رہے۔ چنانچہ حضرت حاجی دوست محمد رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو دینی کتب جن میں مشکواۃ شریف، صحاح ستہ، تفسیر معالم التزیل اور تصوف میں مکتوبات امام ربانی شامل ہیں، کی سندیں ہر خاص سے مزین کرکے عنایت کیں اور تصوف و طریقت کے تمام سلاسل میں اجازت مطلقہ سے بھی نوازا اور آخر میں آپ کو اپنا سجادہ نشین مقرر فرماکر اپنی تینون خانقاہوں کا تحریری متولی بنایا۔ تقریبا ۱۲۸۸ ہجری میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ حج سے فراغت کے بعد جب زیارت روضہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کرنے کے لئے مدینہ منورہ پہنچے تو سرزمین حرم نبوی کے پیش نظر کھانا پینا ترک کردیا تاکہ قضائے حاجت کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ شعر:

ادب گاہے است زیر آسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید اینجا

اپنی پوری زندگی ذکرِ خدا کرتے کراتے گذارکر ۲۲ شعبان المعظم ۱۳۱۴ ہجری بروز منگل کو کلمہ طیبہ کا ورد زبان پر جاری تھا کہ روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مزار پرانوار درگاہ موسیٰ زئی شریف میں پیر و مرشد حضرت حاجی دوست محمد قندھاری قدس سرہ کے قدموں میں زیارت گاہ خواص و عوام ہے۔