سید السادات حضرت لعل شاہ ہمدانی

رحمۃ اللہ علیہ

حضرت لعل شاہ رحمۃ اللہ علیہ دندہ شاہ بلاول کے عالی جاہ خاندان سید السادات میں سے ہیں۔ آپ کے بزرگوں میں سے ہمدان کے مشہور ولی حضرت شاہ بلاول ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ ہمدان سے ہجرت کرکے دندہ ضلع چکوال میں آکر مقیم ہوئے اور انہیں کی بنسبت آجکل یہ قصبہ دندہ شاہ بلاول کے نام سے مشہور ہے۔

حضرت لعل شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے دینی علوم کی تحصیل حضرت مولانا احمد دین رحمۃ اللہ علیہ سے کی جو کہ بڑے عالم و فاضل اور خواجہ خواجگان حضرت حاجی دوست محمد قندھاری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد استاد محترم کے پاس رہ کر پندرہ سال تک علوم دینیہ پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد خانقاہ دامان میں حاضر ہوکرحضرت حاجی دوست محمد قندھاری قدس سرہ کے دست اقدس پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور دس سال تک وقفہ وقفہ سے انکی خدمت میں حاضر ہوکر فیضیاب ہوتے رہے۔ آخری ایام میں جب حضرت قندھاری علیہ الرحمۃ شدید علیل تھے حضرت شاہ صاحب قبلہ خدمت میں موجود تھے۔ چنانچہ مرشد کامل نے قریب بلاکر آپ کے سینہ مبارک پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا تو کچھ دیر کے لئے حضرت شاہ صاحب بے ہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے تو فرمایا حضرت حاجی صاحب کے ہاتھ پھیرنے کی برکت سے میرا سینہ ہر قسم کی کدورت و آلائش سے بالکل پاک و صاف ہوگیا اور اب میرا سینہ شیشہ کی مانند صاف و شفاف ہے۔ حضرت حاجی صاحب کے انتقال کے بعد ان کے خلیفہ اعظم حضرت حاجی محمد عثمان دامانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی اور برسوں ان کی صحبت میں آکر فیوض و برکات حاصل کرتے رہے۔

حضرت لعل شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے ظاہری و باطنی کمالات کے پیش نظر حضرت حاجی محمد عثمان دامانی رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت و اجازت سے مشرف فرمایا۔

مسلسل تین سال تک خلق خدا کی ہدایت کے اہم کام میں مصروف رہ کر ۲۷ شعبان ۱۳۱۳ ہجری کو معبود حقیقی کے جوار رحمت میں مقیم ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کا مزار شریف دندہ شاہ بلاول میں مشہور معروف اور زیارت گاہ خاص و عام ہے۔