سراج الاولیاء حضرت خواجہ سراج الدین

رحمۃ اللہ علیہ

آپ مرشد کامل خواجہ محمد عثمان دامانی قدس سرہ کے گھر ۱۵ محرم الحرام ۱۲۹۷ ہجری کو موسیٰ زئی شریف میں پیدا ہوئے۔ سن شعور کو پہنچتے ہی والد گرامی نے آپ کو ملا شاہ محمد رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بٹھایا۔ محض ۱۴ سال کی عمر میں فارغ تحصیل عالم بن گئے اور اپنے والد گرامی حضرت دامانی قدس سرہ کی بیعت سے مشرف ہوئے اور دائرہ لا تعین تک مکمل تصوف سلوک کی روحانی تعلیم حاصل کی۔ ساتھ ہی کتب تصوف بالخصوص مکتوبات امام ربانی و مکتوبات خواجہ محمد معصوم نور اللہ مرقدہما اپنے والد گرامی سے پڑھتے رہے۔

حضرت دامانی قدس سرہ نے مؤرخہ ۳ ذی قعدہ ۱۳۱۱ھ کو اپنے اس نوجوان عالم، عامل و صالح فرزند کو اپنا نائب، خلیفہ مجاز مطلق مقرر فرمایا اور تحریری اجازت نامہ بھی عنایت فرمایا۔

آپ ۱۳۲۴ھ کو قافلہ کی شکل میں حج بیت اللہ اور زیارت روضہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کیلئے روانہ ہوئے۔ آپ کے ۳۶ فقراء بھی ہمرکاب تھے۔ دوران سفر بے انتہا فیوض و برکات کی وارداتیں ہوتی رہیں۔ چنانچہ آپ کے رفیق سفر حاجی ملا صدر فرماتے ہیں حج بیت اللہ کے سفر میں جب حضرت قبلہ عالم مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھے، ایک دن آپ غسل فرماکر روضہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ گنبد خضرا کے پاس پہنچ کر آپ روضہ اقدس کے مجاوروں سے ملے۔ تھوڑی دیر گفتگو کے بعد انہوں نے آپ کو عربی لباس پہنایا اور ایک جلتی ہوئی موم بتی آپ کے ہاتھ میں دیدی، جسے لیکر اسی موم بتی سے آپ نے دو قندیلیں روشن کیں۔ اس کے بعد روضہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوئے۔ اور کافی دیر دعا و زاری کے بعد با ادب وہاں سے رخصت ہوکر باہر تشریف لائے اور حتیٰ الوسعۃ وہاں کے مجاوروں کو شکرانہ ادا کیا۔

حضرت خواجہ سراج الدین قدس سرہ نے تقریبا ۳۶ افراد کو خلافت عطا فرمائی، جن کے ذریعے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی مزید ترویج ہوئی لیکن آپ کے خلیفہ حضرت پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ نے جو دینی خدمت کی وہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آئی۔

۲۶ ربیع الاول ۱۳۳۳ ھجری بروز جمعۃ المبارک ۳۶ برس کی عمر میں واصل بحق ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خانقاہ عالیہ موسیٰ زئی شریف میں حضرت خواجہ حاجی محمد عثمان دامانی قدس سرہ جو کہ آپ کے مرشدومربی و والد گرامی ہیں، کے مزار کے جوار میں آپ کی آخری آرامگاہ مرجع خاص و عام ہے۔