سلطان العارفین حضرت خواجہ غریب نواز محمد عبدالغفار

رحمۃ اللہ علیہ

سلطان العارفین سراج السالکین حضرت خواجہ محمد عبدالغفار رحمۃ اللہ علیہ کا نسب نامہ حضرت خواجہ محمد اویس رحمۃ اللہ علیہ سے ۱۷ صدی میں جاکے ملتا ہے۔

حضرت خواجہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ ضلع ملتان تحصیل شجاع آباد نزدیک جلال پور پیر والا گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد حضرت مولانا یار محمد رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ بعد میں عربی تعلیم کے لیے اوچ شریف میں حضرت مولانا امام الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تشریف لے گئے، جو حضرت خواجہ پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے معتقد تھے۔ کچھ کتابیں آپ نے اپنے بڑے بھائی مولانا محمد اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھی پڑھیں۔

حضرت خواجہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ اس فقیر کا آبائی طریقہ قادری تھا۔ یہ عاجز شروع میں حضرت حافظ فتح محمد صاحب جلال پور پیر والا کا دست بیعت ہوا تھا۔ آپ عالم باعمل اور واعظ پراثر تھے۔ آپ سخی، متوکل اور بے ریا انسان تھے۔ آپ مستجاب الدعوات تھے اور آپ کی دعا میں بڑی تاثیر ہوتی تھی۔ حضرت حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وقت میں میری توجہ علم کے حصول کے طرف زیادہ تھی۔ آپ کی وفات کے بعد بہت پریشانی ہوئی اور اس نعمت کے حصول کے لیے کافی کوشش کی۔ پنجاب کے اندر کافی گادیاں تھیں اور ظاہر میں تو بڑا رعب تاب اور دبدبہ تھا لیکن جس بات کو میں ڈھونڈ رہا تھا کہ ایسا پیر ملے جس کے پاس شریعت و طریقت دونوں موجود ہوں وہ تلاش بسیار کے باوجود کہیں حاصل نہیں ہوئی۔

حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں نے حضرت حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں دعا کے لیے عرض کی تھی، آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہارے لیے وہ دعا مانگوں گا جس کا تجھے خود پتہ چل جائے گا۔ یہ اس دعا کا اثر ہے کہ جس نے مجھے ولی کامل حضرت خواجہ پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں پہنچایا۔ آپ نے حضرت خواجہ پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس فقیر نے فجر نماز آرائیں گاؤں میں پڑھی۔ اس مسجد کے پیش امام سے راستے کا پتہ پوچھ کر سیدھا حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد شریف کی طرف گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ آپ اکیلے مسجد کے اندر مصلےٰ مبارک پر تشریف فرما ہیں۔ آپ اس طرح دیکھ رہے تھے گویا کسی کے انتظار میں ہوں۔ یہ فقیر آپ کی قدم بوسی کرکے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ آپ میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اس کے بعد تھوڑی بہت گفتگو کرکے آپ اندر حویلی مبارک کی طرف چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد آپ اپنے ہاتھوں سے روٹی لے کر آئے۔ حضرت صاحب ظہر نماز کے وقت پھر تشریف فرما ہوئے، نماز باجماعت ہوئی، اس کے بعد آپ نے اس عاجز کو بیعت سے سرفراز کرکے قلبی ذکر کی تلقین فرمائی۔

فرماتے تھے کہ اس عاجز کا ذکر شروع کرتے ہی ایسا حال ہوگیا کہ قلب کے جوش کی وجہ سے سلطان الاذکار بھی جاری ہوگیا اور جسم پر کپکپی طاری ہوگئی۔ ایسے معلوم ہورہا تھا کہ جیسے میں آگ کے جلتے ہوئے تنور میں پڑا ہوا ہوں اور میرا سر بہت بھاری ہوتا جارہا ہے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ میرا دماغ پھٹ جائے گا۔ اتنا تو استغراق طاری ہوگیا کہ مراقبہ کا ارادہ ہوتے ہی میں گم ہوجاتا تھا۔ اپنے آپ کو گم دیکھ کر خوف محسوس ہوتا تھا کہ کوئی مرض تو لاحق نہیں ہوگیا ہے۔ پھر کبھی کبھی ایسے محسوس ہوتا تھا کہ میرا دل وجود کو چیر کے آسمان کی طرف اڑکے چلا گیا ہے۔ آنکھوں میں سے جیسے آگ کی چنگاریاں نکلتی تھیں۔ حالت یہ ہوگئی کہ نہ کچھ کلام کرسکتا تھا اور نہ آنکھوں کو کوئی نیند نصیب تھی اور یہ میری حالت دو تین سال چلی۔ جنون اتنا غالب ہوتا تھا کہ کبھی کبھی سر سے دستار اتار کر زمین پر پھینک کر ادھر ادھر دوڑتا تھا۔ پاؤں ننگے ہوتے تھے، شلوار کے علاوہ دوسرا کوئی کپڑا پہن نہیں سکتا تھا۔ الحمد اللہ ایسی حالت میں بھی ننگے پن کا ہوش رہتا تھا اور نماز کے وقت میں نماز پڑھتا تھا۔ میری حالت دیکھ کر حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب آپ اپنے کپڑے دھوبی کو دھونے کے لیے دے کر آئے ہو کیا؟
حضور پیر فضل علی قریشی کے وصال کے بعد آپ نے پنجاب کے اندر پہلا تبلیغی اور روحانی مرکز قائم کیا۔ آپ کے محبوب خلیفہ حضرت اللہ بخش المعروف سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں سندھ سے کثیر جماعت مرکز کی تعمیر میں حصہ لینے کے لیے عاشق آباد پہنچی۔ حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے خود بھی فقیروں کے ساتھ مٹی اٹھائی اور اپنے پیر کے شان میں اپنی بنائی ہوئی منقبتیں پڑھتے تھے۔

سندھ میں تبلیغ دین کی خاطر تشریف لانے کا واقعہ آپ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ میرے پیر و مرشد محبوب الٰہی خواجہ فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کا تبلیغی مشن پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا اور اپنے خلفاء کو اپنی صوابدید پر ان کے خیالات اور صلاحیتوں کے مطابق مختلف علاقوں میں بھیجا کرتے تھے۔ فرمایا کہ ایک مرتبہ میں اور مولانا عبدالمالک صاحب آپس میں باتیں کررہے تھے۔ دوران گفتگو مولانا عبدالمالک صاحب نے کہا میرا دل چاہتا ہے کہ کاش حضور پیر قریشی مجھے تبلیغ کے لیے ہندوستان بھیجیں کیونکہ ہندوستان میں اور علاقوں کے بنسبت اہل علم زیادہ ہیں، وہاں کے لوگ اس نعمت (روحانیت) کی قدر کریں گے۔ جس پر میں نے بھی انہیں بتایا کہ مولانا صاحب میری یہ تمنا ہے کہ حضور مجھے سندھ میں تبلیغ کا حکم فرمائیں تو بہت ہی اچھا ہو، کیونکہ سندھی لوگ اللہ والوں کے بڑے عاشق ہیں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے تھے کہ بچپن سے میں دیکھا کرتا تھا کہ سندھی مرد اور عورتیں پاپیادہ حضرت غوث بہاؤالحق ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس میں شرکت کے لیے ملتان جاتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ ہمارا گاؤں دریا کے کنارے پر تھا اس لیے وہ سندھی رات کو ہمارے ہاں قیام کرکے صبح کو دریا عبور کرکے آگے جاتے تھے۔ رات کو میرے والد سر پر روٹیاں رکھ کر بھیجتے تھے جو میں انہیں کھلاتا تھا۔ اس لیے مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے کئی بار دیکھا کہ پیدل چلنے کی وجہ سے ان کے پیر پھٹ جاتے تھے اور ان کے پیروں سے خون بہتا تھا وہ ان زخموں پر پٹیاں باندھ کر اپنا سفر جاری رکھتے تھے۔ ان کی اس والہانہ محبت و صداقت کو دیکھ کر اس فقیر (پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ) کے دل میں سندھ میں تبلیغ کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ آپ فرماتے تھے کہ حضرت قریشی قدس سرہٗ کو کشف القلوب بہت ہوتا تھا، آپ نے بغیر کسی عرض معروض کے مولانا عبدالمالک کو ہندوستان کی طرف اور مجھے سندھ میں تبلیغ کا حکم فرمایا۔

آپ جب سندھ میں تشریف فرما ہوئے تو اس وقت سندھ میں مسلمانوں کے دینی حالات عموماً ابتری کا شکار تھے۔ شہروں کے دنیادار، جدید تعلیم یافتہ اور بڑے لوگ شریعت مطہرہ کی پابندی کرنا اپنی کسر شان سمجھتے تھے۔ عام لوگ اور دیہات کے رہنے والے اگرچہ کسی حد تک دین و مذہب سے لگاؤ رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کی نشست و برخاست میں شریعت و سنت کو کم اور اپنی اپنی پسند ناپسند کو زیادہ عمل دخل تھا۔ مسجدیں نمازیوں کے لیے ترستی تھیں۔ پیروی سنت کو معیوب سمجھا جارہا تھا۔ ان ہی اسباب کی بناء پر مسلمان قوم کے عملی اور اخلاقی حالات دن بدن ابتری کا شکار ہوتے جارہے تھے۔ ایسے حالات میں اگرچہ آپ اس سے پہلے اپنے پیر و مرشد کے ساتھ اور انفرادی طور پر بہت سے تبلیغی سفر فرماچکے تھے لیکن اپنے مشفق و محسن مرشد کے حکم ملنے کے بعد خود کو تبلیغ کے لیے بالکل وقف کردیا۔ دن رات اسی لگن میں مگن رہتے تھے۔ شہر شہر، گاؤں گاؤں، سلسلہ در سلسلہ چلتے رہتے اور مخلوق خدا کو خدائی احکام سناتے اور فیض محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم سے دلوں کو منور کرتے رہتے۔ مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے روحانی مراکز اور خانقاہیں بھی قائم کیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے اپنے آبائی علائقے میں ”عاشق آباد“ نامی بستی کا قیام عمل میں لائے۔ اس کا افتتاح بھی اپنے شیخ قریشی قدس سرہٗ سے ہی کروایا۔ انہوں نے ہی اس بستی کا نام ”عاشق آباد“ منظور فرمایا۔ آپ کی محنت اور کاوشیں بھی رنگ لائیں اور سندھ میں کافی بڑی ذاکرین کی جماعت تیار ہوگئی۔ ان مخلصین کو کچھ زیادہ وقت دینے کی ضرورت محسوس کی گئی تو آپ اپنے پیر بھائی، اپنے خلیفہ مطلق، دست راست اور بعد میں آپ کے جانشین حضرت غریب نواز سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ کے مشورے اور اصرار پر سندھ میں روحانی درسگاہ تعمیر کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حضرت غریب نواز سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ نے اپنی جماعت کے ساتھ مل کر کچے کے علائقے میں ”دین پور“ نامی بستی کی بنیاد رکھی اور اس طرح سندھ میں ایک روحانی درسگاہ بلکہ تربیت گاہ کا قیام عمل میں آگیا۔ اسی کے ساتھ ہی بڑے ہی زور شور کے ساتھ تبلیغ کے کام کو وسعت دی گئی۔ جماعت میں دن دونی رات چوگنی ترقی ہوتی چلی گئی۔ لوگ جوق در جوق طریقہ عالیہ میں داخل ہونے لگے۔ سندھ کے کونے کونے میں آپ کا پیغام پہنچ گیا۔ باہر سے آنے والی جماعت کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے لاڑکانہ کے قریب ”رحمت پور شریف“ کی بنیاد رکھی گئی، جس کے لیے زمین کے اور باقی سارے اخراجات بھی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ نے اپنی جیب خاص سے ادا فرمائے۔ رحمت پور شریف پہنچنے تک نہ صرف مخلصین و ذاکرین بلکہ مصلحین و مبلغین کی ایک بہت بڑی جماعت تیار ہوچکی تھی۔ یہاں پر سکونت پذیر ہونے کے بعد ان تمام حضرات کو پورے ملک میں پھیلادیا۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ طریقہ عالیہ میں داخل ہوگئے۔ بے شمار ڈاکو، چور، زانی، راشی، شرابی اور فاسق و فاجر گناہوں سے تائب ہوگئے۔ قانون شریعت اور سنت نبوی پر طعن و تشنیع کرنے والے پابند شریعت اور متبع سنت بن گئے۔

آپ کا وصال ۸ شعبان المعظم ۱۴۸۴ ہجری میں رحمت پور شریف لاڑکانہ سندھ میں ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ رحمت پور شریف لاڑکانہ حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا آخری مرکز اور آخری آرام گاہ آج بھی زیارت گاہ خاص و عام ہے۔