حضرت الحاج اللہ بخش عباسی نقشبندی
عرف پیر سوہنا سائیں

نوّر اللہ مرقدہ

آپ کی ولادت باسعادت مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۱۰ء کو ضلع نوشہرو فیروز تحصیل کنڈیارو کے خانواہن نامی ایک چھوٹے سے قصبے میں قریشی، عباسی خاندان کے ایک معزز و صالح بزرگ حضرت محمد مٹھل عباسی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر ہوئی۔ ابھی آپ محض ۵ ماہ کے کم سن بچے تھے کہ والدِ گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا، لیکن آپ کی والدہ محترمہ نے اخلاقی تربیت کے ساتھ دینی و دنیوی تعلیم کا پورا پورا اہتمام کیا۔

ابتدائی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے خانواہن ہی میں فائنل تک اسکول کی تعلیم بھی حاصل کی اور جلد ہی پرائمری اسکول خانواہن میں استاد متعین ہوئے۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد ملازمت ترک کی اور والدہ محترمہ کے مشورہ سے مزید دینی تعلیم کے لئے گیریلو ضلع لاڑکانہ تشریف لے گئے، جہاں پر اس وقت کے جید عالمِ دین علامہ الحاج رضا محمد رحمۃ اللہ علیہ تدریسی فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے متعدد مدارس میں رہ کر زیادہ تر دینی تعلیم ان ہی سے حاصل کی۔

حضرت پیر سوہنا سائیں قدس سرہ کے آباءواجداد بکھری تحصیل کنڈیارو کے راشدی سادات خاندان کے مرید تھے لیکن آپ ابھی علامہ رضا محمد کے یہاں بھریا میں زیر تعلیم تھے کہ خانواہن سے قریب ہالانی میں پنجاب کے مشہور نقشبندی کامل ولی و بزرگ حضرت پیر فضل علی قریشی تشریف فرما ہوئے۔ آپ ان سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور ان سے سلسلہ نقشبندیہ کے دو اسباق ہی حاصل کئے تھے کہ رمضان المبارک کی چاند رات بروز جمعرات ۱۳۵۴ھ کو حضرت پیر قریشی قدس سرہ کا انتقال ہوگیا۔ جس کے بعد ان کے عالم باعمل نائب و خلیفہ حضرت خواجہ محمد عبدالغفار رحمت پوری رحمۃ اللہ علیہ کے دست اقدس پر تجدید بیعت کی اور ان سے دائرہ لاتعین تک مکمل سلوک طے کیا، مدّۃ العمر انکی خدمت و صحبت میں رہے۔

مسندِ ارشاد: حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا اور بارہا خلفاء کرام کے مجمعہ میں اس کا اعلان فرمایا۔ نیز تحریری اجازت نامہ میں واضح طور پر اپنا نائب و قائم مقام لکھا اور خلفاء کرام کو اپنے بعد حضرت سوہنا سائیں سے تجدید بیعت کا امر فرمایا۔ اس کے علاوہ بعض نئے آدمیوں کو جو آپ سے بیعت ہونے کے لئے حاضر ہوئے تھے، حضرت سوہناسائیں (گو آپ نے بہت معذرت کی لیکن تاکیدی امر فرماکر) سے بیعت کرواکر عملی طور پر اپنا نائب اور قائم مقام متعین فرمایا اور بعد کے حالات اور حضرت سوہنا سائیں کی دینی و ملی خدمات نے ثابت کیا کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے خلفاء کرام میں سے حضرت سوہنا سائیں کا انتخاب بروقت، برمحل اور بہت ہی مناسب تھا۔ اور اس سے امتِ مسلمہ کو مثالی دینی فائدہ حاصل ہوا۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ وفات کے بعد آپ نے لاڑکانہ سے ۳۰ میل کے فاصلہ پر ضلع دادو میں اپنا پہلا تبلیغی مرکز اپنے مرشد اول حضرت پیر قریشی علیہ الرحمۃ کے پہلے مرکز کے نام پر فقیر پور رکھا۔ جہاں ماہوار گیارھویں شریف کا جلسہ مقرر فرمایا۔ ساتھ ہی پاکستان کے چاروں صوبوں میں کئی تبلیغی دورے کئے۔ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے بیشتر خلفاء کرام بھی ان تبلیغی پروگراموں میں آپ کے ساتھ رہے اور لوگ جوق در جوق جماعت میں داخل ہوتے رہے۔

مثالی شیخ کی مثالی خدمات: حضرت پیر سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ بہت سے اوصاف میں عام پیروں سے مختلف تھے۔ مثلا آپ کے توکل کا یہ عالم تھا کہ مرکز، مدرسہ، مسجد، خواہ لنگر کے لئے مدۃ العمر چندہ و سوال سے محترز رہے۔ اپنے خرچہ پر تبلیغی سفر کیا کرتے تھے۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنے شوق سے کسی بھی مد میں مالی معاونت کرنا چاہتا تو سنت کے مطابق قبول کرتے تھے۔ کبھی بھی کسی فرد، جماعت یا فرقے کی مخالفت نہیں کی۔ لاکھوں مریدین کے شیخ اور پیر و مرشد تھے لیکن آپ نے کبھی بھی اپنے آپ کو پیر یا بزرگ نہ سمجھا اور نہ ہی متعلقین کو اپنا مرید۔ بلکہ اپنے قول و عمل سے اپنے آپ کو خادم اور فقیر سمجھتے اور مریدین کو دوست اور پیر بھائی کہتے اور سمجھتے تھے۔ بہت سی اصلاحی تنظیموں کے بانی و سرپرست تھے لیکن کبھی بھی اشارہ و کنایہ سے بھی اس کا اظہار بھی نہ کیا۔ غرض یہ کہ خلوص و للّہیت کے جو واقعات کتابوں میں پڑھے اور بزرگوں سے سنے تھے، بلاکم و کاست آپ کو انکا مصداق پایا۔

اصلاحی تنظیمیں

جماعت اصلاح المسلمین: حضرت سوہناسائیں نور اللہ مرقدہ اور آپ کے خلفاء کرام اور مریدین ہر سطح پر تبلیغ دین و اشاعتِ اسلام کی خدمت سرانجام دیتے تھے۔ لیکن ۱۹۷۱ء سے باقاعدہ سرکاری طور پر ایک رجسٹرڈ تنظیم کی حیثیت سے آپ کی سرپرستی میں جماعت اصلاح المسلمین کا قیام عمل میں آیا اور اس تنظیم نے شریعت، تصوف و طریقت کا منظم طور پر خدمات کا آغاز کیا اور آپ نے اسی سال محترم الحاج احمد حسن کی قیادت میں ایک تبلیغی وفد متحدہ عرب امارات روانہ فرمایا۔ اس طرح بیرونی ممالک میں تبلیغی کام کی ابتدا امارات سے ہوئی اور بعد میں یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ دنیا کے کئی ممالک میں اس خالص اصلاحی جماعت کے کارکن ملازمت اور ذاتی کاروبار کے ساتھ درس و تدریس اور وعظ و تبلیغ کی صورت میں خدمتِ دین متین انجام دینے لگے۔

جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ: حضرت پیر سوہنا سائیں قدس سرہ کے مریدین میں ایک بڑی تعداد علماء کرام کی تھی جو درس و تدریس اور تصنیف و تالیف، امامت و خطابت کی صورت میں شریعت مطہرہ اور طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی اشاعت میں مشغول رہتے تھے۔ آپ وقتًا فوقتًا دربار عالیہ اللہ آباد شریف یا فقیرپور شریف میں تعلیمی و تربیتی دورے منعقد کرواکر چند دن صحبت اور ملاقات کا خصوصی موقعہ فراہم کرتے اور انفرادی طور پر ان کے ذاتی مسائل اور دینی خدمات کے بارے میں پوچھتے۔ کوتاہی معلوم ہونے پر دردمندانہ تنبیہ کرتے اور مفید مشورے دیتے تھے۔
روحانی طلبہ جماعت: حضرت پیر سوہنا سائیں قدس سرہ چونکہ عالم و عارف بزرگ تھے اور امت مسلمہ کے حقیقی خیر خواہ تھے، اس لئے انکی مسلمانان عالم کی موجودہ حالات پر پوری نظر تھی اور ہر وقت دینِ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے فکرمند رہتے تھے۔ اسی مقصد کے پیش نظر آپ نے جدید تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے روحانی طلبہ جماعت نامی تنظیم قائم فرمائی۔ جس کے نتیجہ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم سینکڑوں طلبہ نیک و صالح بلکہ بعض تو مبلغ اسلام بنے۔

مثالی مراکز: یوں تو حضرت پیر سوہنا سائیں علیہ الرحمۃ اور آپ کے خلفاء کرام کی تبلیغی جدوجہد کے نتیجہ میں ہزاروں افراد کی اصلاح ہوئی اور وہ مکمل طور پر شریعت مطہرہ اور سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی پابندی کرنے لگے۔ لیکن جہاں جہاں خود آپ نے قیام فرمایا، وہاں ایک ایسے اصلاحی معاشرہ کی بنیاد ڈالی (مثالی مراکز بھی قائم کئے) اور عملی طور پر نظام مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم نافذ کرکے دکھایا، جن کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ایسے اصلاحی اور مثالی مراکز میں:

(۱) درگاہ اللہ آباد شریف کنڈیارو ضلع نوشہرو فیروز سندھ، (۲) درگاہ فقیرپور شریف ضلع دادو سندھ، (۳) درگاہ طاہر آباد شریف ضلع ٹنڈو الہیار قابل ذکر ہیں۔ ان مثالی تبلیغی مراکز میں مقیم تمام مرد حضرات، خواہ خواتین شریعت مطہرہ کے عین مطابق زندگی بسر کرتے تھے۔ نماز باجماعت، تہجد، سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ڈاڑھی اور عورتوں کا مکمل طرح سے شرعی پردہ کا اہتمام کرنا، نیز ضروری دینی مسائل برزبان یاد کرکے ان پر عمل کرنا، بلکہ ان کی تبلیغ کرنا۔ یہ حضرت پیر سوہنا سائیں قدس سرہ کی فقید المثال دینی خدمات ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کے درمیان فرقہ بندی اور فروعی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے سخت جدوجہد و محنت کی۔ مختلف فرقوں کے علماء کرام سے فرقہ بندی ختم کرنے کے لیے ملاقاتیں کیں اور دردمندانہ طور پر خطوط لکھے۔ جس میں آپ نے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اتحاد و اتفاق کے لیے بہت زور دیا۔ مختلف مشائخ عظام و علماء کرام سے ملاقات کے لیے پیراں سالی کی وجہ سے جس طرف آپ نہیں جا پاتے تھے تو اپنے خلفاء کرام و علماء عظام پر مشتمل وفد بھیجا کرتے تھے۔ آپ نے اس اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کے لیے اپنے خلفاء، علماء، مریدین و متوسلین کو یہی درس دیا کہ کسی بھی گروہ یا فرقے کی مخالفت نہ کریں اور اگر کوئی آپ کی مخالفت کرتا ہے تو اس پر صبر کریں اور ان کے ساتھ محبتیں بڑھانے کی کوشش کریں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہم عاجز بندے ہیں، ہمارا کام خلوص سے اتحاد و اتفاق امت مسلمہ کے لیے کوششیں کرنا ہیں۔ اس کا نتیجہ و اثرات ظاہر کرنا یہ خدائے عزوجل کا کام ہے۔

جوانی کے زمانہ سے لیکر بڑھاپے تک مسلسل محنت، مجاہدات، عبادات و ریاضات کیوجہ سے عوارضات کے باوجود آپ نے نماز باجماعت، تہجد اور تبلیغ و تلقین و ذکر کا سلسلہ کبھی منقطع نہ کیا۔ یہاں تک کہ دنیوی زندگی کے آخری دن بھی بعد از نماز عصر نئے واردین کو بیعت کرکے وعظ و نصیحت کی اور آخری رات وفات سے چند لمحہ پہلے تکلیف کے باوجود اٹھ کر نماز تہجد ادا کیا اور قبلہ رو ہوکر لیٹ گئے اور اللہ، اللہ کہتے ہوئے ۶ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ (مطابق ۱۲ دسمبر ۱۹۸۳ء) پیر کی رات اپنے خالق و مالک کے حضور حاضر ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اللہ یا محمد ہووے زبان پہ جاری
جب یہ روح میری چرخِ کہن سے نکلے