پیش لفظ

صلّی اللہ علیہ وسلم

 

اللہ تعالیٰ کے دوست (اولیاء اللہ) اللہ کے بندوں کی خدمت اپنے معبود حقیقی کی سب سے بڑی عبادت سمجھتے ہیں۔ جب زخم خوردہ، مصیبت کے مارے، ہر طرف سے مایوس انسان ان کی خانقاہوں پر پہنچتے ہیں تو وہ دنیا کے غم اور نفرت آمیز رویے بھول جاتے ہیں اور یہ سب ان بندگان خدا کی محبت سے لبریز اخلاق کریمانہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

صوفیاء کرام کی یہ خانقاہیں درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اس زمین پر بلاتفریق، اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کے لیے ماویٰ اور مسکن ہوتی ہیں۔ (اور خانقاہوں کا اصل رنگ یہی ہے اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ ہر بندۂ خدا ان کو اپنا گھر سمجھے) وہاں زخموں پر مرہم لگایا جاتا ہے اور وہ شراب محبت پلائی جاتی ہے کہ جس کے پہلے گھونٹ سے ہی مرضوں سے شفا نصیب ہوجاتی ہے۔

اس دنیا کی آلائشوں میں آلودہ ہوکر اپنی آدمیت کھودینے والے انسان ایسے پاک اور صاف باطن ہوجاتے ہیں کہ وہ زمین سے اٹھ کر آسمان کی بلندیوں میں پرواز کے لائق بن جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انسان اپنی انسانیت کو پاکر خلیفۃ اللہ کے منصب پر فائز ہوجاتا ہے۔ اسلئے صوفیاء کرام اپنے شیخ کی دربار کی سرزمین کو آسمان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجدد وقت حضرت شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ جب اپنے شیخ خواجہ مظہر جان جاناں کی خانقاہ پر حاضر ہوئے اور بیعت کا شرف حاصل کیا تو اس موقع پر بے اختیار پکار اٹھے۔

از بروئے سجدۂ عشق آستانے یافتم
سرزمین بود منظور آسمانے یافتم

(فیض نقشبند)

کیونکہ ایسے ہی مقدس آستانوں پر رہ کر اپنے کامل شیخ کی خدمت گذاری کرتے کرتے یہ خادم ایک دن مخدوم بنے۔ معروف ولی شیخ ابوسعید ابوالخیر مہنی قدس سرہ اپنے مریدوں کی ایک جماعت کے ہمراہ خرقان تشریف لائے اور کئی روز شیخ ابوالحسن خرقانی کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔ نقل ہے کہ شیخ ابوالخیر ابوسعید مہنی بعد میں فرمایا کرتے تھے کہ میں پہلے ناپختہ اینٹ تھا، جب خرقان پہنچا تو گوہر نایاب بن کر واپس آیا۔ (تذکرۃ الاولیاء عطار)

اولیاء اللہ کی مخلوق خدا سے محبت

اولیاء اللہ کے دلوں میں چونکہ اللہ کی محبت اور بے انتہا تعظیم ہوتی ہے، اسی وجہ سے وہ اللہ کی مخلوق سے بھی پیار کرتے ہیں۔ بندگان خدا سے پیار خدا کے ساتھ پیار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اسی محبت کی وجہ سے اپنی خانقاہ پر ہر آنے والے کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ مشہور ہے کہ قطب عالم حضرت ابوالحسن خرقانی قدس سرہ نے اپنی خانقاہ کے دروازے کے اوپر لکھ رکھا تھا۔

”جو شخص بھی اس سرا میں آئے اسے روٹی دو اور اس کے ایمان کے بارے میں مت پوچھو کیونکہ اللہ نے جسے بھی جان عنایت فرمائی ہے وہ ابوالحسن کے دستر خوان کے لائق ہے۔“

(تذکرہ شیخ ابوالحسن خرقانی صفحہ ۳۶ از نذیر رانجھا)

شیخ کی دربار پر آویزاں بورڈ پر کِندہ یہ الفاظ جہاں حضرت شیخ کی بشر دوستی اور انسان نوازی کا پتہ دیتے ہیں، وہیں ان پاکیزہ جملوں سے صوفیاء کرام کے نظریے کا علم بھی ہوتا ہے۔ جیسے ایک انسان دوست ڈاکٹر اور حاذق حکیم مرض سے تو نفرت کرتا ہے لیکن مریض سے نہیں۔ اسی طرح یہ حضرات گناہوں سے تو نفرت کرتے ہیں لیکن گنہگاروں سے نہیں۔ یہ اپنے اندر سارے عالم سے ہمدردی اور غم خواری کا جذبہ رکھتے ہیں۔ حضرت شیخ خرقانی قدس سرہٗ کا یہی مقولہ ہے، فرماتے ہیں۔

”اگر ترکستان سے لیکر شام تک کسی انسان کی انگلی میں کانٹا چبھ جائے تو اس کا درد مجھے ہوتا ہے۔ اسی طرح ترکستان سے لیکرشام تک کسی انسان کے پاؤں پر پتھر لگے تو اس کا زخم مجھے لگتاہے اور اگر کسی دل میں بھی کوئی دکھ موجود ہے تو وہ دکھی دل میرا ہوتاہے۔“

(تذکرہ شیخ ابوالحسن خرقانی صفحہ ۷۲)

ایک اور موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا جس سے آپ انکی مخلوق نوازی کی تڑپ کا اندازہ بآسانی لگا سکتے ہیں۔ فرمایا ”میں شب و روز اسی کے شغل میں زندگی گذارتا ہوں جس کی وجہ سے میری فکر بینائی میں تبدیل ہوگئی، پھر شمع بنی، پھر انبساط، پھر ہیبت، پھر میں اس مقام تک پہنچ گیا کہ میری فکر ہمت بن گئی اور جب میری توجہ شفقت مخلوق کی طرف مبذول ہوئی تو میں نے اپنے سے زیادہ کسی کو بھی مخلوق کے حق میں شفیق نہیں پایا۔ اس وقت میری زبان سے نکلا کہ کاش مقام مخلوق کے بجائے صرف مجھے موت آجاتی اور تمام مخلوق کا حساب قیامت میں صرف مجھ سے لیا جاتا اور جو لوگ سزا کے مستحق ہوتے ہیں ان کے بدلے میں صرف مجھے عذاب دے دیا جاتا۔“

(تذکرہ شیخ ابوالحسن خرقانی صفحہ ۷۲)

المختصر صوفیائے کرام کا منشور یہی ہے ”سب کی خیر سب کا بھلا“۔

عالمی شہرت یافتہ، ہر دور میں اہل علم و اخلاص کی نگاہوں میں عزت کے مالک قطب عالم حضرت ابوالحسن خرقانی کا ارشاد ملاحظہ فرمائیے۔

فرمایا کہ ”ہر صبح علماء اپنے علم کی زیادتی اور زہاد اپنے زہد میں زیادتی طلب کرتے ہیں لیکن میں ہر صبح خدا سے وہی شئے طلب کرتا ہوں جس سے بھائیوں کو مسرت حاصل ہوسکے“۔

(تذکرہ شیخ ابوالحسن خرقانی صفحہ ۷۸)

خانقاہی نظام کی ایک جھلک طبقات اور تاریخ کی کتابوں کے ذریعے پیش کرنے کی ایک کوشش کی۔ لیکن ایسا نہیں کہ یہ سب ماضی کے قصے ہیں بلکہ بندگان خدا کی تسکین اور ان کی رہنمائی کے لیے ایسی خانقاہیں اور ان پر موجود روشن چراغ اب بھی موجود ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ رہتی دنیا تک خدائے وحدہ ایسے مقدس وجود تخلیق فرماتے رہیں گے۔

میں اپنے آپ کو خوش نصیب تصور کرتا ہوں کہ جیسے ہی ہوش سنبھالا خود کو ایسی ہی ایک مقدس خانقاہ عالیہ کی جلوہ سامانیوں میں موجود پایا۔

ایں سعادت بزور بازو نیست
گر نہ بخشد خدائے بخشندہ

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ دربار عالیہ اللہ آباد شریف کی معطر فضاؤں میں اس صدی کے مجدد، تمام سلسلوں کی نسبتوں کے کامل، خصوصاً سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم سالار، صوفیائے کرام کی پاکیزہ روایتوں کے امین، انسان سے تو کیا جانوروں سے بھی پیار کرنے والے، زخمی دلوں پر مرہم رکھنے والے، مشفق و مہربان، سیدی و مرشدی حضرت خواجہ اللہ بخش المعروف سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ کی دربار عالیہ اللہ آباد شریف پر میں نے متعدد بار مشاہدہ کیا کہ کئی آنے والے روتے ہوئے آئے، لیکن اللہ آباد کی فضاؤں میں جیسے ہی پہنچے، اپنے غم بھول گئے۔ خود کو منوں وزنوں میں ڈوبا ہوا محسوس کرنے والے خود کو ہلکا محسوس کرنے لگے۔ آنسو بہاتے ہوئے آئے اور ہنستے ہوئے لوٹے۔ آنے سے پہلے بھٹکے ہوئے تھے لیکن آپ کی صحبت کی برکت سے راہ راست پر گامزن ہوگئے۔ یہ میں لفاظی نہیں کررہا، بلکہ ایسے ہزاروں لوگ آج بھی موجود ہیں جو نفرت کی چکی میں پس رہے تھے، یہاں تک کہ زندگی سے بھی تنگ آچکے تھے، لیکن آستانہ عالیہ پر حاضری اور آپ کے دامن سے وابستگی کے بعد نہ صرف خود محبت کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوئے بلکہ الفت کی شیرینی کو انسانیت میں بانٹنے کا ذریعہ بھی بن گئے۔

دل چاہتا ہے کہ اس موقع پر بطور تحدیث نعمت یا اظہار حقیقت اپنے شیخ کامل کی خانقاہ عالیہ کی برکات، آپ کے فیوض و برکات کی ایک جھلک، آپ کے فیض یافتاؤں کی زبانی بیان کردہ واقعات قارئین کی نظر کریں جن کو سن کر یا پڑھ کر نہ صرف آپ کی انسان دوستی کا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے بلکہ بے اختیار زبان پر یہ مصرعہ بھی آجاتا ہے

کہ کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا

اس عاجز کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب یہ عاجز چھوٹا تھا، میری عمر شاید ۱۳ سال ہوگی، ان دنوں ہر عید پر جملہ رشتہ دار خانواہن شہر میں اکٹھے مل جل کر عید کرتے تھے۔ ایسے مواقع پر اس عاجز کو حاجی عبدالخالق شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ خانواہن بھیجتے تاکہ جملہ رشتہ داروں سے ملاقات ہوجائے اور حضرت قبلہ و کعبہ کی نیک خواہشات ان تک پہنچائی جائیں۔

رشتہ داروں کو تحفہ تحائف

تحفہ دینا سنت نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم ہے ”تہاد وا تحابّوا“ ایک دوسرے کو تحفہ دیا کرو اس سے محبت پیدا ہوگی۔ خصوصاً رشتہ داروں کو تحفہ دینا تو اور بھی باعث اجر عظیم ہے اور حصول باری تعالیٰ ہے۔ یہ عاجز جب بھی خانواہن جاتا تو کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور ساتھ لے جانے کا حکم فرماتے۔

رشتہ داروں کی مدد کرنا

حدیث شریف میں کامل مؤمن کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ضرورت مند کی حاجت خوش دلی سے پوری کرے۔ آپ اس سنت پر بھی پوری طرح کاربند رہتے۔ جب بھی کوئی رشتہ دار کسی مشکل وقت میں نقد رقم یا کسی اور قسم کی مدد کے لیے آپ کی خدمت میں آتا تو آپ بغیر حیل و حجت اس کا مطالبہ پورا فرماتے۔ اس عاجز کو اچھی طرح یاد ہے کہ آپ کے ایک رشتہ دار کو زمین خریدنے کے لیے نقد رقم درکار تھی۔ وہ آپ کے پاس آیا، حالانکہ اس وقت آپ کے پاس مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی پھر بھی آپ نے ارشاد فرمایا دو دن بعد آکر لے جائیں۔ چنانچہ آپ نے وہ رقم اپنے ایک معتمد علیہ ساتھی سے ادھار لے کر اپنے عزیز کو عطا فرمائی۔

اپنا آبائی گھر رشتہ داروں کو عطا فرمادیا

آپ کا اپنا آبائی گھر خانواہن میں موجود تھا، وہ گھر آپ کے والد ماجد یا دادا رحمۃ اللہ علیہما نے تعمیر کروایا تھا۔ آپ کو اپنا وہ گھر بے حد عزیز تھا، کیونکہ آپ نے اس گھر میں اپنی پیاری نیک و صالح پارسا والدہ ماجدہ رحمۃ اللہ علیہا کے ساتھ بہت اچھے دن گزارے تھے۔ اس گھر سے آپ نے تبلیغ دین کی ابتداء کی، اس گھر میں آپ اپنے پیر و مرشد حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کو دعوت دے کر لائے تھے اور وہ چند دن مسلسل اس میں قیام پذیر رہے۔ آپ اپنے اس گھر میں اکثر تشریف بھی لے جاتے جو کہ بہت اچھی حالت میں موجود تھا۔ آپ کے ایک رشتہ دار نے تمنا ظاہر کی کہ اپنا یہ گھر مجھے دے دیں۔ اس عاجز کو اچھی طرح یاد ہے کافی دن آپ اس بات پر غور فرماتے رہے۔ گھر میں بھی یہ تذکرہ رہا۔ بالآخر محض اللہ تعالیٰ کی رضا طلبی اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی تابعداری کرتے ہوئے آپ نے اپنا وہ گھر بغیر معاوضہ لیے اپنے رشتہ دارکو دے دیا اور بعد میں کبھی اس کا تذکرہ بھی نہ فرمایا کہ ہم نے ایسا کیا۔ جب کہ اس موقع پر بہت سے رشتہ داروں نے آپ کو منع کیا کہ ایسا مت کریں، یہ گھر بہت قیمتی ہے آپ اپنے پاس رکھیں۔

مخلوقِ خدا سے محبت

حضور جامشورو ہسپتال میں زیر علاج تھے، قریب ہی دوسرے کمرے میں کوئی دوسرا مریض تھا، اچانک ایک رات اس کمرے سے کراہنے اور رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ تھوڑی دیر میں وہاں سے ایک آدمی آیا اور عرض کی یا حضرت مریض سخت تکلیف میں مبتلا ہے، ڈیوٹی پر کوئی ڈاکٹر بھی نہیں ہے، مہربانی فرماکر آپ چلیں اور مریض کے لیے دعا فرمائیں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ مجھے سہارا دے کر اٹھائیں، نہ معلوم کتنی دیر سے وہ بیچارہ تکلیف میں ہے، ہم اس کے پاس جائیں گے۔ حالانکہ اس وقت حضور کا تازہ آپریشن ہوا تھا اور آپ کو چلنے پھرنے کی اجازت نہ تھی۔ ڈاکٹر عبداللطیف صاحب جو وہاں موجود تھے، انہوں نے اس آدمی کو سمجھایا کہ حضور کا آپریشن ہوا ہے اور آپ کو ڈاکٹروں نے اٹھنے سے منع کیا ہے۔ لہٰذا آپ حضرت صاحب کو چلنے کی تکلیف نہ دیں۔ مگر حضور دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ان کے سہارے مریض کے پاس پہنچے۔ اس وقت حضور قبلہ عالم کی حالت یہ تھی کہ آپ کے پاؤں مبارک زمین سے گھسٹتے آرہے تھے، جسم پر لرزہ طاری تھا۔ آپ نے مریض کے پاس پہنچ کر دعا فرمائی اور واپس اپنے کمرے میں تشریف فرما ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد وہی آدمی پھر حاضر ہوا اور بتایا اب مریض کی حالت بہتر ہے۔

خواتین کے حقوق کا پاس

آج کے دور میں بعض ان پڑھ، دیہاتی اور ناسمجھ لوگ تو عورت کو پاؤں کی جوتی کے برابر سمجھتے ہیں اور حقارت آمیز سلوک روا رکھتے ہیں۔ جیسا کہ شوہر کی جگہ پر یا ساتھ نہیں بیٹھ سکتی، عورت کا جھوٹا پینے سے کتراتے ہیں، بڑے دکھ کی بات ہے کہ اس طرح کی خرابیاں نیک و صالح لوگوں میں بھی موجود ہیں، حالانکہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ طعام تناول فرماتے تھے اور بوٹی پہلے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تناول فرماتیں اور وہی بوٹی بے حد محبت اور شوق سے آپ لے لیتے اور اسی جگہ سے تناول فرماتے ہیں جہاں سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے استعمال کی ہوتی، جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے۔ اس سنت نبویہ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر جو کہ آج تقریباً متروک ہوچکی ہے سیدی مرشدی قلبی و کعبتی حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ خود بھی عمل کرتے رہے اور جماعت اہل ذکر کو بھی اس پر عمل کرنے کا حکم دیتے۔

وہ دن بھی عجیب خوبصورت دن تھے جب آپ فقراء کے درمیان نصیحت فرماتے ہوئے ایسی احادیث تفصیل سے بیان فرماتے اور حقوق العباد خصوصاً اہل خانہ کے حقوق ادا کرنے پر زور دیتے۔ ایک مرتبہ حلقہ ذکر کے بعد جملہ خلفاء اور فقراء سے دریافت فرمایا کہ آج رات تم میں سے کس کس نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر کھانا کھایا ہے۔ شاید کوئی بھی نہیں اٹھا۔ آپ نے فرمایا کہ خلفاء اس کو کسر شان سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے بزرگ ہیں، لوگ ہماری بڑی تعظیم کرتے ہیں، باہر ہمارے ہاتھ پاؤں چومے جاتے ہیں، علامہ مولانا کے القاب سے پکارا جاتا ہے، اب ہم اگر بیوی کے ساتھ بلاتکلف رہیں گے اور اس کے ساتھ کھانا کھائیں گے یا کام میں ہاتھ بٹائیں گے ہماری شان کم ہوجائے گی۔ آپ نے اس کو تکبر سے تعبیر فرمایا اور حکم دیا کہ جملہ جماعت اہالیان اللہ آباد اپنی بیویوں کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں، کل بعد نماز فجر پوچھا جائے گا۔ اور پھر دوسرے دن صبح آپ نے باقاعدہ حاضری لی اور تقریباً سب خلفاء و فقراء نے اس سنت پر عمل کیا تھا۔ سبحان اللہ کیا آپ کا انداز تربیت تھا اور کس عمدگی سے ایسی سنتوں پر بھی عمل کرتے اور متعلقین سے بھی عمل کراتے جن سے بڑے بڑے عالم بھی لاپرواہ ہیں۔

پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک

حدیث مبارکہ کے مطابق کہ جب سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈالو تاکہ شوربہ زیادہ بنے اور اس سالن میں سے اپنے پڑوسیوں کو بھی پیش کرو، آپ ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کو کھانے میں حصہ بھیجتے رہے، خصوصاً اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھتے جب کہ وہ پڑوس میں بھی ہوں تو ان کا حق اور بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس معاملے میں حد درجہ احتیاط کرتے کہ مبادا ہمارے کسی رویہ سے ہمارے پڑوسی کی دل آزاری ہو۔

یتیموں کے ساتھ شفقت اور محبت:

درگاہ اللہ آباد شریف میں ایک پرانے فقیر (متوفی) کی بچی جو کہ شادی شدہ بھی تھی اور صاحب اولاد بھی، اپنے ماموں کے لڑکے سے اس کا بیاہ ہوا تھا۔ اس کی ماں نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد شادی نہیں کی بلکہ اپنے بچوں کی پرورش میں لگی رہی حتیٰ کہ ا س کی سب بچیوں کی شادیاں ہوگئیں۔ اس بیوہ عورت کو نرینہ اولاد بھی نہیں تھی۔ آخر کار اس کے بھائیوں نے اس کی رضامندی سے شادی کرادی۔ اس کی شادی شدہ بچی اپنی ماں کی شادی پر بہت روئی غمگین ہوئی کہ اب ہماری ماں بھی ہمیں بھلا دے گی۔ باپ تو پہلے ہی وفات پاچکا ہے۔ جب یہ خبر حضرت قبلہ و کعبہ سیدی مرشدی وسیلتی فی الدارین تک پہنچی تو آپ نے اس بچی کو بلوایا اور گھر والوں کے ذریعے پیغام بھیجا کہ تجھے پریشان نہیں ہونا چاہیے، تو ہمیں اپنے والد کی طرح سمجھ، ہمارے گھر کو اپنا میکا جان۔ آپ نے اسی روز اس یتیم بچی کو گھی آٹا وغیرہ کے ساتھ کپڑے شاید نقد رقم بھی عطا فرمائی۔ آپ ہمیشہ اس یتیم بچی کا خیال رکھتے اور امداد فرماتے تھے۔
جب بھی آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی بچے کے والدین میں سے کوئی ایک وفات پاگیا ہے تو اس بچے کو اپنے گھر بلواتے، اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے۔ (جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرنے سے اس کے سر پر جتنے بال ہیں اللہ تعالیٰ اتنے گناہ معاف فرمائے گا) اسے رقم، لباس اور طعام کی صورت میں عطا فرماتے۔ قاری غلام حسین صاحب کی اہلیہ بہت نیک، صالح، پارسا خاتون اور تہجد کی بہت پابند تھیں، اس کی وفات ہوگئی جب کہ قاری صاحب کا فرزند (محمد حسین) جو اس وقت الحمد اللہ عالم دین اور مبلغ ہے، بہت چھوٹا تھا۔ آپ نے محمد حسین کو اپنے گھر بلوایا اور اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور دعائیں دیں۔

ہمارے نانا محترم سید نصیرالدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو ان بچیوں کو بہت شفقت اور پیار سے نوازا۔ اکثر و بیشتر ان بچیوں کا اور نانا صاحب کی تینوں بیویوں کی ضروریات کا خیال رکھتے رہے۔ ان کو اپنے خاندان کے افراد کی طرح سمجھتے اور چاہتے تھے۔

اپنے مرشد مربی قطب دوران حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے اسوہ حسنہ اور صفات کریمانہ کو تحریر کرتے ہوئے دل تڑپ رہا ہے، رو رہا ہے کہ ہم نے آپ کے اسوۂ مبارکہ جو کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے عین مطابق تھا، کو چھوڑ دیا ہے۔ یارب العالمین ہمیں اور ہماری اولاد و علماء، طلباء و فقراء کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرما۔ آمین۔

چیونٹی جیسی کمزور مخلوق کا بھی خیال کرتے تھے

مولانا محمد حسن اوٹھو صاحب بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نوابشاہ گھر والوں کے علاج کے سلسلے میں تشریف لائے۔ تقریباً آپ کا ۱۰ دن قیام رہا۔ روزانہ بعد نماز عصر حضرت صاحب تفریح کے لیے قاضی احمد موڑ سے گورنمنٹ کالج روڈ پر چہل قدمی کرتے ہوئے چلتے چلتے گورنمنٹ کالج کے سامنے فٹ پاتھ پر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔ جب آپ اٹھ کر واپس ہوتے تو اس عاجز کو فرماتے دیکھو کپڑے پر کوئی چیونٹی تو نہیں۔ یہ عاجز دیکھتا تھا، اگر کوئی چیونٹی ہوتی تو اسے اسی جگہ جھاڑ کر واپس چلتے تھے۔ اگر کبھی کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد کوئی چیونٹی نظر آتی تو اس کو واپس اسی جگہ چھوڑنے کے لیے تشریف لے جاتے۔

اس بات سے آپ کا مخلوق علی اللہ سے تعلق اور محبت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ آپ کا یہ عمل مبارک حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی علیہ الرحمۃ کے واقعہ کی یاد دلاتا ہے۔ کہتے ہیں ایک بار شیخ ابوالحسن خرقانی علیہ الرحمۃ کسی گاؤں سے گندم خرید کر گھر لائے۔ جب گٹھڑی سر سے اتارکر نیچے رکھی اور کھولی تو اس میں ایک چیونٹی کو چلتے دیکھا۔ یہ دیکھ کر سخت پریشان ہوگئے۔ آپ نے دوبارہ گٹھڑی کو باندھ کر سر پر رکھا اور مذکورہ گاؤں میں دوبارہ تشریف لے گئے جہاں سے گندم خریدی تھی۔ وہاں پہنچے، گٹھڑی کھول کر وہاں رکھی، جب چیونٹی اپنی مرضی سے گندم سے نکل کر فرش پر چلی گئی تو آپ نے پھر گٹھڑی کو باندھا اور گندم گھر لے کے آئے۔

غیر مسلموں کی سوہنا سائیں سے محبت

حضور سوہنا سائیں کا آبائی گاؤں خانواہن ہے۔ حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی اتنی نیک، فقیرانہ چال چلن، ایسا عظیم خلق و محبت سے پیش آنا، اتنی شفیقانہ طبیعت، پرہیزگاری، تقویٰ اور شریعت کی پابندی تھی کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ گھر سے مسجد میں جاتے ہوئے گلی سے گذرتے تو سر پر چادر (جو کہ بعد میں زندگی بھر عموماً ہم نے دیکھی) سے پورا سر ڈھانپ کر نظریں نیچی کرکے ایسے گذر جاتے تھے کہ جیسے کوئی سفید لباس میں ملبوس فرشتہ خدا کے ذکر میں مشغول دلوں کو سرشار کرتا ہوا جاتا ہے۔ ان کی اس حسین سیرت پر مسلمان تو کیا غیر مسلم ہندو بھی واری واری جاتے۔ سوہنا سائیں نے جب خانواہن سے دین پور ہجرت کا ارادہ فرمایا تو مسلمانوں نے بڑی عرض گذارشات کیں کہ خدارا ہمیں اکیلا کرکے نہ جائیں۔ مسلمانوں کی محبت کا یہ حال تھا، جب کہ وہاں رہنے والے ہندو مذہب کے افراد اپنے گلے میں کپڑا ڈالے ہوئے آپ کے گھر پر آئے۔ بڑی معافیاں طلب کیں اور عرض کیا کہ ہم سے ایسی کونسی غلطی ہوگئی ہے جو آپ ہمیں چھوڑ کے جا رہے ہیں۔ خدا کے لیے یہیں رہیں اور ہمیں یتیم کرکے نہ جائیں۔ سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں اپنی ہجرت کے اسباب بتائے، مگر پھر بھی وہ بضد رہے اور مسلسل روتے رہے۔ حتیٰ کہ کہتے ہیں کہ جس دن حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ خانواہن سے وداع ہوئے اس دن خانواہن کے باسیوں کا یوں حال تھا جیسے کوئی میت ہوگئی ہو۔

ان چند واقعات سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ آپ کی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی محبت، اور سچے سردار سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع، خلق خدا پر شفقت اور بندگان خدا سے محبت میں گذری۔ ہم ظاہر بینوں کے سامنے آپ کی شخصیت کا صرف یہی رخ ہے کہ آپ طالب مولیٰ اور عاشق مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم تھے، لیکن حقیقت میں آپ مطلوب و معشوق تھے جیسا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی اس سلسلے میں فرماتے ہیں

عاشق سي چئجن، جن تي عاشق پاڻ ٿيو،
اهڙي رنگ رچن، سي عاشق معشوق ٿيا.

اس شعر میں شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عجیب راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ سچا عاشق وہی ہے جس پر معشوق بھی ایک دن عاشق ہوجائے۔ یہ بلکل اسی طرح ہے کہ عاشق اپنے محبوب یعنی اللہ تعالیٰ کے محبوب (سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم) کے رنگ ڈھنگ کو اختیارکرے، بالکل وہی ادائیں اور ناز انداز اپنائے جس کے بدولت اس سچے عاشق پر محبوب ایک دن خود فدا ہوجائے گا۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں رنگ کا ذکر کیا ہے۔ یعنی عاشق خود کو اسی رنگ میں رنگنے کے بعد ہی معشوق اور محبوب بنتا ہے۔

دوستو یہ رنگ محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا رنگ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ”قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہ“ فرمادیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یعنی لوگو! اگر تم اپنے دعوائے محبت میں سچے ہو تو میری محبت کے حصول کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کرو۔ یہ فریب کاری اور دھوکے کا زمانہ ہے۔ لوگوں سے انسانیت کا جوہر نکل گیا ہے، انسان سے انس کافور ہوگیا ہے۔ آج انسان انسان کے خون کا پیاسا ہے۔ حیوان اپنے ہم جنسوں کو چیر پھاڑ کر نہیں کھاتے۔ لیکن افسوس انسان انسان کا شکاری بن گیا ہے، جیسا کہ

کسی شاعر نے کہا ہے۔

آدمين اخلاق مٽائي ماٺو ڪيو،
هاڻي کائي سڀڪو ماڙهون سندو ماس.

ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہوجا

کاش انسان انسانیت کے مقام کو پہچان کر ایک دوسرے پر ظلم و ستم کرنا چھوڑدے۔ اپنے حقوق کے ساتھ دوسرے کے حقوق کا تحفظ کرے۔ قبیلہ، قوم، ذات، فرقہ، مذہب کے فرق کے بغیر ہر انسان دوسرے انسان سے اخوت پیدا کرے۔

ایسے اندوہناک حالات میں کامل اولیاء کا وجود انسانیت کی بقاء کی علامت ہے اور عذاب الٰہی سے اس فانی دنیا میں بچنے کا باعث اور سبب ہے۔ سفید پوشی کا بھرم قائم کرنے سے انسان کامل نہیں بن جاتا۔ اس سلسلے میں محبت کے ساتھ ساتھ اطاعت خداوندی اور عشق کے ساتھ اتباع رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم اور بغیر کسی فرق و امتیاز کے ہر انسان کے ساتھ محبت کرنا ضروری ہے۔ بیشک یہ تمام اوصاف میرے مرشد و مربی میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔

غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و کرم کے بیان و شکر کے لیے الفاظ نہیں ملتے کہ جس نے ہمیں ایسے محبوب کی نسبت سے نوازا کہ تن من قربان کرکے بھی اس محبوب کا حق ادا کرسکیں۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

ایسے انمول انسان جن پر بنی نوع انسانی کو فخر ہے، ایسے عاشق جن کے صدق کے طفیل یہ دنیا قائم ہے، ایسے فانی فی اللہ و باقی با اللہ جن کی زندگی شمع ہدایت، جن کی زندگی دنیا بھر کی زندگی، جن کی ہمت و حوصلے پر اہل اسلام کو فخر، جن کی قربانی قرآن مجید کی ترجمانی، جن کی حیاتی ابدی حیاتی، جو قیامت تک نہ ختم ہونے والی حیاتی ہے۔

مرڻا اڳي جي مئا، سي مري ٿيا نه مات،
هوندا سي حيات، جيئڻا اڳي جي جيا.

ظاہری طور پر آج ہماری نظروں سے پوشیدہ اس فانی جہاں میں ہم سے دور، ہمیں داغ مفارقت کا دکھ دے کر خود مالک حقیقی کے حضور بہشت کی لذات سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ لیکن آج بھی میرے حضرت سیدی و مرشدی قدس سرہ العزیز کی دربار عالیہ پر فیوض و برکات کا دریا اسی طغیانی سے بہہ رہا ہے۔ آپ کے آستانہ عالیہ اللہ آباد شریف کی دلکشی اور رنگینی نہ صرف قائم ہے بلکہ اس کی جاذبیت اور دل ربائی روز بروز افزوں ہے۔ آپ کی خانقاہ عالیہ پر آج بھی محبت کا سودا لینے والے پوری دنیا سے آتے ہیں اور بامراد ہوکر جاتے ہیں۔ میرے پیر کے آستانہ عالیہ پر حاضری دینے والوں میں دن بدن اضافہ ہے اور یہ مختلف قوموں، مختلف ملکوں مختلف مذہبوں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

زیر نظر مجموعہ کے متعلق چندگذارشات

میرے پیر کی دربار پر آنے والے معزز کرم فرماؤں اور راہ سلوک کے مبتدیوں کے لیے دوستوں کے اصرار پر یہ چند معروضات پیش خدمت ہیں، اس امید کے ساتھ کہ خود بھی پڑھیں گے، گھر میں اپنے گھر والوں اور بچوں کو بھی سنائیں اور پڑھنے کی تلقین کریں۔ لیکن اس کے لیے گھر میں دوستانہ ماحول پیدا کریں اور بچوں خصوصاً بچیوں کی تعلیم اور تربیت کا خاص خیال رکھیں۔

٭ دوستوں کی محفل اور حلقہ ذکر وغیرہ کے بعد یا پہلے فقیروں کی محفل میں پڑھ کر سنائیں۔

٭ راہ سلوک میں قدم رکھنے والے اس سے ضرور استفادہ کریں اور سنیں لیکن یہ ذہنوں میں ضرور رہے کہ فرائض و واجبات اور ادائیگی عبادات کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا پورا پورا خیال رکھیں، اس میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔ لیکن یہ اس وقت آسان ہوگا جب آپ اپنے مشائخ کی طرح مخلوق خدا سے بلاتفریق محبت کریں۔ یہ حدیث مبارکہ ہمیشہ ذہن میں رہے کہ ”الخلق عیال اللہ“ کے حکم میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ جس طرح آپ کو اپنا کنبہ پیارا ہے اسی طرح اللہ عزوجل کو بھی اپنا کنبہ پیارا ہے۔ برے بھلے سب اسی کے ہیں۔ اس طرح کی سوچ و فکر اپنانے سے آپ آسانی سے حسن سلوک کا مظاہرہ کرسکیں گے۔

آخر میں یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ تمام معروضات مشائخ کی معتبر اور مسلم کتابوں سے چن کر آپ تک پہنچانے کی ادنیٰ سی کوشش کی ہے۔

ہمیں امید ہے کہ اگر ہم نے اپنے مشائخ کی تعلیمات قدسیہ کو سمجھا اور ان پر عمل پیرا ہوئے تو ضرور ایک دن آئے گا کہ دوست کا (حقیقی دوست اللہ جل جلالہ) دیدار نصیب ہوگا اور دل جلوہ گاہ دوست بنے گا۔

رب کائنات کے حضور دست بدعا ہیں کہ مشائخ کرام خصوصا اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اس حقیر کاوش کو قبول فرمائے، لغزشوں کو معاف فرمائے، اپنے کرم سے مخلوق کو اس سے فائدہ پہنچائے۔

رَبِّ أَوْزِعْنِی أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِی أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلَیٰ وَالِدَیَّ وَ أَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاہُ وَ أَدْخِلْنِی بِرَحْمَتِکَ فِی عِبَادِکَ الصَّالِحِین۔

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ حبیبہٖ سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم

 

محمد طاہر عباسی بخشی نقشبندی

آستانہ عالیہ اللہ آباد شریف

۲۸ شوال المکرم ۱۴۲۸ ہجری بمطابق ۱۰ نومبر ۲۰۰۷ء