کلام فضلیہ

منظوم کلام خواجہ فضل علی قریشی نقشبندی قدس اللہ سرہ

 

نعت شریف

یا محمّد مصطفیٰ قربان تیرے نام پر
پاک سچا دین تیرا ہوں فدا اسلام پر

بہت شیرین و لذیذ و پاک تیرا نام ہے
جو ادب سے نام لیوے لائق انعام ہے

کوئی پیدا نہ ہوا تجھ سا نہ ہووے گا کبھی
جو نبی پیدا ہوئے خادم ہوئے تیرے سبھی

تو ہے محبوبِ خدا رب چاہتا ہے تیری رضا
نفس و شیطاں سے بچالو ہے یہ میری مدعا

بہت ہی مظلوم عاجز غرق ہے تقصیر میں
جاوے گا ملکِ عرب میں ہے اگر تقدیر میں

کشش اپنی دو زیادہ دم بدم پاوے کمال
پاس بلواؤ دکھاوو یا رسول اللہ جمال

کب ہووے مقبول دل کی اُس جنابِ پاک میں
آرزو دیدار کی آگے نہ جاؤں خاک میں

عربی و مکّی و مدنی نازنینِ کبریا
کشش ہووے تیز چہ حاجت مقناطیس و کہربا

وطن تیرا پاک دیکھوں خوب عیداں جا کروں
جب تلک روضہ نہ دیکھوں آگے ہرگز نہ مروں

یہ قریشی خاک تیرے قدموں کی ہے شوق مند
جاکے تیرے قدموں میں پاوے وہاں قدرِ بلند

نصیحت

عزیزو دوستو یارو! یہ دنیا دار فانی ہے
دل اپنا مت لگاؤ تم لحد میں جا بنانی ہے

تم آئے بندگی کرنے پھنسے لذاتِ دنیا میں
ہوئی اندھی عقل تیری، تری کیسی جوانی ہے

گناہوں میں نہ کر برباد عمر اپنی تو کر توبہ
کہاں ہیں باپ دادا سب کہ تو جن کی نشانی ہے

نہ کر بَل اپنی دولت پر نہ طاقت پر نہ حشمت پر
کہ اس دنیا کی ہر اِک چیز تجھ کو چھوڑ جانی ہے

تو کر نیکی نمازیں پڑھ خدا کو یاد کر ہر دم
کہ آخر میں تری ہر نیکی تیرے کام آنی ہے

نہ ہو شیطان کے تابع نہ بے فرمان رب کا ہو
نبی کے در کا خادم بن مراد اچھی جو پانی ہے

شریعت کی غلامی کر گناہوں سے تو بچ یارا
بری حالت ہو ظالم چور کی جو مرد زانی ہے

تو روزی کھا حلال اپنی سراپا نورِ تقویٰ بن
کہ تقویٰ میں ترقی ہے یہ دولت جاودانی ہے

پکڑلے پیرِ کامل کو کہ بیعت بھی ضروری ہے
بجز مرشد کے اچھی بات کس جا تجھ کو پانی ہے

خدا یاد آئے جس کو دیکھ کر وہ پیر کامل ہے
سوا مرشد کے دنیا کی محبت کس مٹانی ہے

شریعت کا غلام ہووے عجب اخلاق ہوں اس میں
دل اس کا مثل آئینہ ہو یہ اس کی نشانی ہے

اگر تو طالب مولیٰ ہے اور اصلاح کا جویا
تو جلدی کر پکڑ مرشد نصیحت یہ ایمانی ہے

قریشی دست بستہ عرض کرتا ہے سنو بھائی
قسم رب کی نہ جھوٹ اس میں نہ لائق بدگمانی ہے

شجرہ شریف

اوّل فضل تیرا میں منگاں یا رب سچّا سائیں
برکت نال نبی صاحب دے منزل عشق پہنچائیں

برکت نال صدیق اکبر دے جو پہلا یار پیارا
بخش محبّت اپنی مینوں بھل ونجم جگ سارا

حضرت دا اصحاب پیارا حضرت سلمان نامی
خاطر اس دے کریں ہدایت بخش گناہ تمامی

برکت حضرت قاسم دے جو پوتا یار اوّل دا
رات ڈیہاں میں ہاں سوالی بخش نصیب فضل دا

برکت نال امام جعفر جو صادق سیّد سڈیوے
کریں عنایت تانکہ میرا غلبہ نفس تے تھیوے

حضرت بایزید اویسی ابوالحسن خرقانی
طفیل انہاں دے کریں عنایت چُھٹّن کم شیطانی

برکت نال ابوالقاسم گرگانی بوعلی دے
مرضوں قرضوں چا چھڑائیں برکت اس ولی دے

برکت نال ابویوسف اتے حضرت غجدوانی
کریں زبان میری توں ذاکر دل کریں نورانی

برکت نال محمد عارف بھی محمود پیارے
مطلب میرے ڈوہیں جہانیں حل کریں توں سارے

برکت علی عزیزاں صاحب بھی محمد سائیں
جو میں منگاں ڈیویں مینوں کریں قبول دعائیں

برکت سیّد امیر محمد، بہاؤ الدین بخاری
ہر دم نام مبارک تیڈا دل وچ ہووم جاری

برکت نال علاؤالدین یعقوب خدا دا پیارا
فضل کریں جو باجھوں فضلاں میں ہاں بہوں بیکارا

برکت نال عبیداللہ دے بھی محمد زاہد
عشق محبت تیری مینوں دم دم ہووے زائد

بھی درویش محمد صاحب امکنگی دے خاطر
وچ عبادت اپنی دے مینوں توں رکھیں شاطر

برکت نال محمد باقی بھی مجدد صاحب
بخش ایمان مکمل ربّا رہاں گناہوں تائب

بھی خواجہ معصوم طفیلوں سیف الدین حضوری
روا کریں حاجات مطالب جو جو ہین ضروری

برکت حافظ محسن دے اتے نور محمد عالی
عشق محبّت اپنی کولوں رکھ نہ مینوں خالی

برکت شمس الدین منوّر بھی غلام علی دے
وصفاں بخش حمیدہ مینوں جو اخلاق ولی دے

خاطر ابوسعید مبارک شاہ سعید قریشی
بخش رضا لقا الٰہی ایہہ سوال ہمیشی

برکت حاجی دوست محمد حضرت عثمان نالے
تیرا فضل ہمیشہ ربّا میرے غم سب ٹالے

برکت خواجہ حضرت صاحب لعل شاہ ہمدانی
غالب ہووے ذکر فکر بھی عشق سدا صمدانی

برکت نال سراج الدین محمد پیر ولایت
قطع محبّت غیر خدا دی مینوں کریں عنایت

فضل علی مسکین قریشی شجرہ ایہہ بنایا
منگیاں جو دعائیں عاجز کر مقبول خدایا

فضل علی مسکین قریشی لکھیا شجرہ سارا
پڑھنے والا اس عاجز کو کرے نہ مول وسارا

جو پڑھے ایہہ شجرہ پاکاں ویلے شام سحر دے
روا حاجات مطالب ہووے پیر توجہ کردے

برکت نیکاں توں چا بخشیں اس عاجز دے تائیں
توں ہیں لائق فضل کرم دے تیڈیاں ہون رضائیں

 

 

counter hit make