مراقبہ کرانے کا طریقہ
طریقۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ طاہریہ میں ذکر قلبی کا حلقہ و مراقبہ انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے، اور حضرت قبلہ عالم سیدی و مرشدی محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی کے معمولات میں سے ہے۔ آپ روزانہ بعد از نماز فجر حلقۂ ذکر قلبی کا اہتمام فرماتے ہیں۔ آپ کے ارشاد عالیہ کے مطابق جہاں بھی فقراء اہل ذکر کی مجلس ہوتی ہے، وہاں پر بھی حلقۂ ذکر ضرور ہوتا ہے۔
حلقۂ ذکر کے اندر مراقبہ کرانے والا چند آیات قرآنی، نعت و منقبت کے اشعار، علاوہ ازیں اشعار نصیحت، مناجات وغیرہ پڑھتا ہے۔ چونکہ یہ اشعار سب فقراء کو یاد نہیں ہوتے، لہٰذا یہاں پر مراقبہ کرانے کا مختصر طریقہ اور وہ اشعار پیش کئے جاتے ہیں جو حضور قبلہ عالم دوران مراقبہ پڑھتے ہیں۔
آیات قرآنیہ:
حضور سیدی و مرشدی محبوب سجن سائیں مراقبہ کی ابتدا ہمیشہ چند مختصر آیات قرآنیہ سے فرماتے ہیں۔ آیات کی تلاوت کے دوران تسبیح استعمال کرنے سے آپ نے منع فرمایا ہے۔ مراقبہ کرانے والا قرآن مجید کی کوئی سی بھی چند مختصر آیات سے ابتدا کرے۔ یہاں پر وہ آیات درج کی جاتی ہیں، جو حضور قبلہ عالم اکثر تلاوت فرماتے ہیں:
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
-
اِنَّا اَعۡطَینٰکَ الۡکَوثَر۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انۡحَر۔ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الاَبۡـتَر۔
-
وَ الۡعَصۡرِ۔ اِنَّ الۡاِنسَانَ لَفِیۡ خُسرٍ۔ اِلَّا الَّذِینَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصَّالِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبرِ۔
-
لَقَدۡ جائَکُم رَسُولٌ مِّنۡ اَنفُسِکُمۡ عَزِیزٌ عَلَیہِ مَا عَنِّتُمۡ حَرِیصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِینَ رَؤُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ۔ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوۡ، عَلَیہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ھُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیم۔
-
وَ عِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِینَ یَمۡشُونَ عَلَی الۡاَرۡضِ ھَونًا وَّ اِذا خاطَبَھُمُ الۡجَاھِلُونَ قَالُوۡا سَلامًا۔ وَالَّذِینَ یَبِـیـتُونَ لِرَبِّھِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا۔
-
قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّیٰ وَ ذَکَرَ اسۡمَ رَبِّہٖ فَصَلّیٰ۔
بَلۡ تُؤۡثِرُونَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَالۡاٰخِرَۃُ خَیرٌ وَّ اَبۡقیٰ۔
اِنَّ ھٰذا لَفِی الصُّحُفِ الۡاُولٰی۔ صُحُفِ اِبۡراھِیمَ وَ مُوسیٰ۔
آیات قرآنی کی تلاوت کے فورًا بعد حضور قبلہ عالم مندرجہ الفاظ مبارک پڑھتے ہیں:
اٰمَنتُ بِاللہِ صَدَقَ اللہُ مَولَانَا الۡعَظِیم
وَ صَدَقَ رَسُولُہُ النَّبِیُّ الۡکَرِیم
وَ نَحنُ عَلیٰ ذَالِکَ مِنَ الشَّاھِدِینَ وَ الشَّاکِرِین
وَ الۡحَمۡدُ لِلہِ رَبِّ الۡعَالَمِین
تلاوت کے بعد اشعار پڑھے جاتے ہیں، جن میں نعت، منقبت، مناجات، نصیحت، وغیرہ شامل ہوتی ہے۔ اکثر حضور قبلہ عالم تلاوت کے بعد نعت کے چند اشعار پڑھتے ہیں۔ اردو کے علاوہ کبھی فارسی یا عربی کی مشہور نعتیں بھی پڑھتے ہیں۔ ان میں سے چند نعتیہ اشعار پیش ہیں:
نعت (قصیدہ بردہ شریف کے اشعار)
مَولایَ صَلِّ وَ سَلِّم دائِمًا اَبَدًا
عَلیٰ حَبِیبِکَ خَیرِ الخَلقِ کُلھمٖ
مُحَمَّدٌ سَیِّدُ الۡکَوۡنَینِ وَ الثَّقَلَین
وَالۡفَرِیقَینِ مِنۡ عَرَبٍ وَّ مِن عَجَمٖ
ھُوَ الۡحَبِیبُ الَّذِیۡ تُرجیٰ شَفَاعَتُـہٗ
لِکُلِّ حَولٍ مِّنَ الاَحوَالِ مُقتَحَمٖ
نعت (مولانا جامی علیہ الرحمہ)
نسیما جانبِ بطحا گذر کُن
ز احوالم محمّد را خبر کن
بسے اندر عذابم یا محمد
علاجِ غم نہ دارم یا محمد
ترحم یا رسول اللہ ترحم
بــبُـر ایں جانِ مشتاقم در آنجا
فدائے روضۂ خیر البشر کُن
بروں آور سر از بُردِ یمانی
زِ روئے لُطف سُوئے من نظر کُن
نعت (حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ)
کرکے نثار آپ پر گھربار یا رسول
اب آ پڑا ہوں آپ کی دربار یا رسول
عالِم نہ متقی ہوں زاہد نہ پارسا
ہوں اُمتی تمہارا گنہگار یا رسول
دونوں جہاں میں مجھ کو وسیلہ ہے آپ کا
کچھ غم نہیں اگرچہ ہوں بہت خوار یا رسول
ہو آستاں تمہارا اور امداد کی جبیں
اس سے زیادہ کچھ نہیں درکار یا رسول
نعت
محبت غیر کی دل سے اٹھادو یا رسول اللہ!
مجھے اپنا ہی دیوانہ بنادو یا رسول اللہ!
پڑا ہوں قعرِ دریا میں، بھنور میں کھاتا ہوں چکر
مجھے لطفِ کنارہ سے لگادو یا رسول اللہ!
اندھیری قبر میں مجھ کو اکیلا چھوڑ جائیں گے
وہاں ہو کرم تیرے سے اُجالا یا رسول اللہ!
لگا تکیہ گناہوں کا، پڑا دن رات سوتا ہوں
مجھے اس خواب غفلت سے جگادو یا رسول اللہ!
بڑی قسمت ہماری ہے کہ ہم اُمت تمہاری ہیں
بھروسہ دین و دنیا میں تمہارا یا رسول اللہ!
نعت (حضور پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ)
یا محمد مصطفیٰ میں قربان تیرے نام پر
پاک سچا دین تیرا، ہوں فدا اسلام پر
بہت شیرین و لذیذ و پاک تیرا نام ہے
جو ادب سے نام لیوے لائق انعام ہے
کوئی پیدا نہ ہوا تجھ سا نہ ہووے گا کبھی
جو نبی پیدا ہوئے خادم ہوئے تیرے سبھی
کشش اپنی دو زیادہ دم بدم پاوے کمال
پاس بلواؤ دکھادو یا رسول اللہ جمال
نعت
نہیں واقف کسی کا میں، ہوں بس شیدا محمد کا
سمایا ہے ازل سے آنکھ میں نقشہ محمد کا
نہیں دیر و حرم سے واسطہ دنیا کے جھگڑوں سے
میں دیوانہ ہوں دیوانہ ہوں دیوانہ محمد کا
تجھے مجنوں بلالِ عاشقِ صادق سے کیا نسبت
تو دیوانہ ہے لیلہ کا وہ مستانہ محمد کا
نہ جائے یا خدا سر سے کبھی سودا محمد کا
مروں تو شوق سے پڑھتا ہوا کلمہ محمد کا
منقبت
نعت شریف کے بعد حضور قبلہ عالم کبھی منقبت کے اشعار پڑھتے ہیں، اور کبھی اولیاء اللہ کی عظمت اور ان کی صحبت کی فضیلت کے متعلق اشعار پڑھتے ہیں۔ ان میں سے چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں۔
منقبت
اے تیری آواز آوازِ خدا
اور خاموشی تیری رازِ خدا
تھے لبِ شیریں لبِ دریائے ذات
اس لئے ہر بات تھی آبِ حیات
جو حکایت جو مثل جو بات تھی
عالمِ معنیٰ کی اک سوغات تھی
در ہزاراں دام باشد ہر قدم
چوں تو با مائی نہ باشد ہیچ غم
سرائیکی اشعار
قسم خدا دی، قسم نبی دی
عشق ہے چیز لذیذ عجیب
تھیئـنڑ سُونہاں منہہ نہ لاوے
جے لُک ڈیکھاں تے گھونگھٹ پاوے
بیشک ضرب حبیب زبیب
توڑے جو نفسی خِلق ہو غالب
پر مایوس نہ تھیئے طالب
جڈ پیر مُغاں ہِن خاص طبیب
نعتیہ اشعار
یا رب یہ جان میری جب اس بدن سے نکلے
صلّ علیٰ کا کلمہ میرے دہن سے نکلے
اللہ یا محمد ہووے زباں پہ جاری
جب یہ روح میری چرخِ کُہن سے نکلے
نصیحت برائے ذکر
اللہ اللہ کرنے والے جنتوں میں جائیں گے
جو ذکر نہیں کرتے وہ بہت پچھتائیں گے
اللہ اللہ کرنے والے کی دل میں خدا کا نور ہے
جو ذکر سے غافل ہے وہ اس نعمت سے دور ہے
منقبت
اللہ اللہ کا مزا مرشد کے میخانے میں ہے
دو جہانوں کی حقیقت ان کے پیمانے میں ہے
جس چمن میں پیر میرے جاکے زلفاں کھولیاں
لے چلی بادِ صبا خوشبو کی بھر بھر جھولیاں
نہ کڈھیں تسبیح پڑھیم، نہ کڈھیں نیتُم نماز
پِیر دے جد قدم چُم لَے، سب ادائیاں ہوگیاں
اِک نظر پیر دی، بالکل صفائیاں ہوگیاں
دل اندھیری کوٹھڑی وچ روشنائیاں ہوگیاں
نہ خدا کعبے میں رہتا اور نہ بتخانے میں ہے
عاشقوں رِندوں سے پوچھو کس کاشانے میں ہے
مناجات
الٰہی میں بس ہوں خطاوار تیرا
مجھے بخش، ہے نام غفّار تیرا
نہیں کوئی میرا سوا تیرے یارب
تو مالک، میں ہوں عبد بیکار تیرا
کوئی تجھ سے کچھ اور کوئی کچھ چاہتا ہے
میں تجھ سے ہوں یا رب طلبگار تیرا
فنا ہو گیا جو تیری دوستی میں
تو ہے یار اس کا، وہ ہے یار تیرا
کہاں میرے عصیاں کہاں تیری رحمت
کہاں خس، کہاں بحرِ زخّار تیرا
فضائل اولیاء اللہ
جیکر چاہیں تھئے محبت خدا دی
تہ بَنڑ ونج خاک قدمِ اولیاء دی
جِنہاں پکڑیا ہے دامن اولیاء دا
اُنہاں پکڑیا ہے دامن مصطفیٰ دا
اِنہاں دا ہتھ رسول اللہ دا ہتھ ہئی
رسول اللہ دا ہتھ اللہ دا ہتھ ہئی
”ید اللہ فوق ایدیھم“ گواہی
دُنہاں جگ وِچ اُنہاں دی بادشاہی
نظر کر خاک کُوں سونا بناوِن
مَگس کوں کر ہُما ظاہر ڈکھاوِن
جِہیں تے چا مہر دی بھال بھالِن
قسم رب دی ہزاراں درد ٹالِن
مناجات کے چند اشعار
مجھ کو سراپا ذکر بنادے، ذکر تیرا اے میرے خدا
نکلے میرے ہر بلِ منہ سے ذکر تیرا اے میرے خدا
اب تو کبھی چھوڑے بھی نہ چُھٹے ذکر تیرا اے میرے
خدا
حلق سے نکلے سانس کے بدلے ذکر تیرا اے میرے خدا
جان ہو جاتی ہے شیریں کیسے مزے کا ذکر ہے واہ
ذکر قلبی نعمت ربی جذب حقانی کی ہے راہ
اب تو میرا بس ورد الٰہی ہر دم ہو اللہُ
سوئے لیٹے اٹھے بیٹھے آٹھ پہر ہو اللہُ
تیرے سوا مقصود حقیقی کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
تیرے سوا معبود حقیقی کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
تیرے سوا مسجود حقیقی کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
تیرے سوا موجود حقیقی کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
نصیحت
شبنم روتی ہے کہ نئے رنگِ جہاں کچھ بھی نہیں
خندہ زن ہیں بلبلیں اور گل کا نشاں کچھ بھی نہیں
جن کے محلوں میں ہزاروں رنگ کے فانوس تھے
جھاڑ ہے ان کی قبر پر اور نشاں کچھ بھی نہیں
چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات ہے
یہ تیرا حُسن و شباب اے نوجواں کچھ بھی نہیں
جن کی نوبت کی صدا سے گونجتا تھا آسماں
دم بخود ہیں مقبروں میں ہونہاں کچھ بھی نہیں
نصیحت
اے بشر تو یاد کر آخر ہے جانا خاک میں
باغ بنگلے چھوڑ کر ہے گھر بنانا خاک میں
اوروں کو تو دیکھتا ہے ملتے ہوئے خاک میں
ایک دن دیکھے گا تجھ کو بھی زمانہ خاک میں
**********
آیا تھا جس کام کو بھول گئی وہ بات
مالک لیکھا مانگے گا ہم خالی دونوں ہاتھ
نصیحت برائے ذکر (سرائیکی)
اشعار حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ
غافل توں نہ غفلت کر، ذکر کر اللہ دا
صبح و مسا خواہ شام و سحر دائم ہک اللہ دا
اللہ ہے فرمایا حکم حقانی آیا
نجات دا ہے پایا ذکر کثیر اللہ دا
ذکر کَن جنّ و بشر، مرغ و ماہی حجر و شجر
دنیا آسماں شمس و قمر، کُجھ شرم دھار اللہ دا
موتی جنگ جہاد توں، سونا چاندی خیرات توں
ہر عمل خواہ برکات توں، اعلیٰ ذکر اللہ دا
میڈا پیر غفاری آیا، جنہہ مردہ قلب جِوایا
جگ کوں رنگ چا لایا، ہے محبوب اللہ دا
جے توں سچا غفاری، تے چھوڑ دنیا دی یاری
رکھ سنت نبی دی پیاری، بَن خاص ولی اللہ دا
اختتام مراقبہ
مراقبہ کے اختتام پر حضور قبلہ عالم اکثر فارسی کے چند اشعار پڑھتے ہیں، جو ذکر یا صحبت صالحین سے متعلق ہوتے ہیں۔
یک زمانہ صحبتِ با اولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
ہر کہ خواہد ہمنشینی باخدا
او نشین اندر حضور اولیاء
**********
ذکر کن ذکر کن تا ترا جان است
پاکئ دل ز ذکر رحمان است
ذکر حق پاک است چوں پاکی رسید
رخت بربن در بروں آید پدید
نوٹ: مراقبہ کے دوران جو اشعار پڑھے جاتے ہیں، ان میں معانی کی مناسبت سے کچھ تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ لہٰذا مندرجہ بالا اشعار کو شعر گوئی کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ یہ صرف مراقبہ کرانے کے لئے یہاں پیش کئے گئے ہیں۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہی اشعار اور اسی طرح پڑھے جائیں۔ یہ صرف تبرک کے طور پر درج کئے گئے ہیں، ورنہ اور بھی بہت سے اشعار دوران مراقبہ پڑھے جاتے ہیں۔ بلکہ کوئی بھی اچھی نعت، منقبت، اولیاء اللہ کی شاعری یا دیگر نصیحت آموز اشعار پڑھے جاسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ کسی بھی طرح کی غلطی نظر آئے، تو اسے ٹائپسٹ کی غلطی تصور فرماکر اصلاح فرمادیں۔