فہرست الطاہر شمارہ نمبر ۴۵
جمادی الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق جولائی ۲۰۰۷ع

مکتوب مبارک

امام ربانی مجدد و منور الف ثانی

رحمۃ اللہ علیہ

نرمی کرنے کی ترغیب دینے اور سختی کو ترک کرنے کے بیان میں اور اس کے مناسب احادیث نبوی علیٰ مصدرہا الصلوٰۃ والسلام کے لکھنے میں شیخ ذکریا کے بیٹے عبدالقادر کی طرف لکھا۔

 

    حق تعالیٰ مرکز عدالت پر استقامت بخشے۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی چند حدیثیں جو وعظ و نصیحت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لکھی جاتی ہیں، حق تعالیٰ ان کے موافق عمل نصیب کرے۔

قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ان اللہ رفیق یحب الرفق و یعطی علی الرفق ما لا یعطی علی العنف و ما لا یعطی علیٰ ما سواہ رواہ مسلم۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ رفیق ہے، نرمی کو دوست رکھتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ دیتا ہے جو سختی اور اس کے سوا اور چیز پر نہیں دیتا۔

اور مسلم کی دوسری روایت ہے قال العائشۃ علیک بالرفق و ایاک والعنف والفحش ان الرفق لایکون فی شیء الا زانہ ولا ینزع من شیء الا شانہ۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا نرمی کو لازم پکڑو اور درشت روئی اور بکواس سے بچو کیونکہ نرمی جس چیز میں ہو اس کو زینت دیتی ہے اور جس چیز سے نکل جائے اس کو عیب ناک کردیتی ہے۔

و قال ایضا علیہ وعلیٰ اٰلہ الصلوٰۃ والسلام من یحرم الرفق یحرم الخیر۔ جو نرمی سے محروم رہا وہ سب نیکی سے محروم رہا۔

و قال ایضا علیہ علیٰ اٰلہ الصلوٰۃ والسلام ان من احبکم الی احسبکم اخلاقا۔ تم میں سے زیادہ اچھا میرے نزدیک وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں۔

اور نیز علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا ہے من اعطی حظہ من الرقق اعطی حظہ من الدنیا والاٰخرۃ۔ جس کو نرمی کا کچھ حصہ دیا گیا اس کو دنیا و آخرت کی بھلائی کا حصہ مل گیا۔

اور نیز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے الحیاء من الایمان والایمان فی الجنۃ والبذاء من الجفاء والجفاء فی النار ان اللہ یبغض الفاحش الیذی الاخبرکم بمن یحرم علی النار ویحرم النار علیہ علیٰ کل ہین لین قریب سہل المؤمنون ہینون لینون کالجمل الاٰنف ان قید انقاد وان استنیخ علیٰ صخرۃ استناخ من لظم غیظا وہو یقدر علی ان ینفذہ ودعاہ اللہ تعالیٰ علی رؤس الخلائق یوم القیٰمۃ حتیٰ یخیرہ فی ای الحوراء شاء۔

حیا ایمان سے ہے اور اہل ایمان جنت میں ہے، اور بکواس جفا سے ہے اور جفا دوزخ میں ہے، اور اللہ تعالیٰ بے حیا بکواسی کو دشمن جانتا ہے۔ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ آگ دوزخ کی کس پر حرام ہے۔ ہر ایک نرم اور متواضع قریب سہل پر۔ مومن سب سے نرم اور تواضع کرنے والے ہیں، ناک میں مہار ڈالے ہوئے اونٹ کی طرح۔ اگر اس کو ہانکا جاوے تو چل پڑے اور اگر اس کو پتھر پر بٹھائیں تو بیٹھ جائے۔ جس نے غصہ کو پی لیا اور حالیکہ وہ اس کے جاری کرنے پر قابو رکھتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو سب خلقت کے سامنے بلائے گا تاکہ اس کو اختیار دے کہ جس حور کو چاہتا ہے پسند کرے۔

و ان رجلا قال للنبی صلّی اللہ علیہ وسلم اوصنی قال لا تغضب فرد مرارا قال لا تغضب الا اخبرکم باہل الجنۃ کل ضعیف متضعف لو اقسم علی اللہ لابرہ الااخبرکم باہل النار کل عتل جواظ مستکبر اذا کغب احدکم وہو قائم فلیجلس فان ذہب عنہ الغضب والا فلیضطجع ان الغضب لیفسدو الایمان کما یفسد الصبر العسل من تواضع لِلہ رفعہ اللہ فہو فی نفسہ صغیر وفی اعین الناس عظیم ومن تکبر وضعہ اللہ فہو فی اعین الناس صغیر وفی نفسہ کبیر حتیٰ ہو اہون علیہم من کلب اوخنزیر۔

ایک شخص نے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے وصیت کریں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ مت۔ اس نے پھر عرض کیا۔ پھر بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ مت کیا کر۔ کیا میں آپ کو اہل جنت کی نسبت خبر نہ دوں، وہ ضعیف اور عاجز ہے کہ اگر اللہ پر قسم کھائے تو اللہ اس کی قسم کو سچا کردے، اور میں کیا تم کو اہل دوزخ کی خبر نہ دوں وہ سرکش اکڑنے والا متکبر ہے۔ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہے تو بیٹھ جائے پس اگر اس کا غصہ دور ہوگیا تو بہتر ہے ورنہ اسے چاہیے کہ لیٹ جائے کیونکہ غضب ایمان کو ایسا بگاڑ دیتا ہے جیسے مصبر شہد کو بگاڑ دیتا ہے۔ جس نے اللہ کے لیے تواضع کی اس کو اللہ بلند کرتا ہے، پس وہ اپنے نفس میں حقیر اور لوگوں کی آنکھوں میں بڑا ہوتا ہے۔ اور جس نے تکبر کیا اللہ اس کو پست کرتا ہے پس وہ لوگوں کی آنکھوں میں حقیر اور اپنے نفس میں بڑا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور سؤر سے بھی زیادہ خفیف ہوجاتا ہے۔

حضرت موسیٰ بن عمران علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عرض کی یا رب تیرے بندوں میں سے تیرے نزدیک زیادہ عزیز کون ہے۔ فرمایا وہ شخص جو باوجود قادر ہونے کے معاف کردے۔

وقال ایضا علیہ الصلوٰۃ والسلام والتحیۃ من خرن لسانہ ستر اللہ عورتہ ومن کف غضبہ کف اللہ عنہ عذابہ یوم القیٰمۃ ومن اعتذر قبل اﷲ تعالیٰ عذرہ۔ جس نے اپنی زبان کوبند رکھا اللہ تعالیٰ اس کی شرمگاہ کو ڈھانپتا ہے اور جس نے غصہ کو روکا اللہ تعالیٰ قیامت کا عذاب اس سے روکے گا اور جس نے عذر قبول کیا اللہ تعالیٰ اس کے عذر کو قبول کرے گا۔

وقال ایضا علیہ الصلوٰۃ والسلام من کانت لہ مظلمہ لاخیہ من عرضہٖ اوشیء فلیتحلل منہ الیوم قبل ان لایکون دینار ولا درہم ان کان لہ عمل صالح اخذ بقدرہ مظلمتہٖ وان لم یکن لہ حسنات اخذ من سیات صاحبہ فحمل علیہ۔ جس شخص پر کسی اپنے بھائی کا کوئی مالی یا اور کوئی حق ہے تو اسے چاہیے کہ آج ہی اس سے معاف کرالے پیشتر اس سے کہ اس کے پاس کوئی درہم و دینار نہ ہوگا، اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے حق کے موافق لیا جائے گا اور اگر کوئی نیکی نہ ہوگی تو صاحب حق کی برائیاں لیکر اس کی برائیوں میں اور زیادہ کی جائینگی۔

وقال ایضا علیہ الصلوٰۃ والسلام اتدرون ماالمفلس قالو المفلس فینا من لادرہم لہ ولا متاع فقال المفلس من امتی من یاتی یوم القیٰمۃ بصلوٰۃ وصیام وزکوٰۃ ویاتی قد شتم ہٰذا واکل مال ہٰذا وقذف ہٰذا وسفک دم ہٰذا و ضرب ہٰذا من حسناتہ فان فنیت حسناتہ قبل ان یقضیٰ ماعلیہ اخذ من خطایاہم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار۔

نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ یاروں نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و اسباب کچھ نہ ہو۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ زکوٰۃ سب کچھ کرکے آئے اور ساتھ ہی اس کے اس نے کسی کو گالی دی ہے اور کسی کا مال کھایا ہے اور کسی کو تہمت لگائی ہے اور کسی کا خون گرایا ہے اور کسی کو مارا ہے پس اس کی نیکیوں میں سے ہر ایک کو دی جائیں گی۔ پس اگر حق ادا ہونے سے پہلے نیکیاں ختم ہوگئیں تو حق داروں کے قصور لیکر اس کے گناہوں میں اور زیادہ کیے جائیں گے اور پھر اس کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف لکھا کہ میری طرف کچھ لکھیں کہ جس میں آپ مجھے وصیت کریں لیکن بہت نہ ہو مختصر ہو۔ پس انہوں نے یہ لکھا: سلام علیک اما بعد فانی سمعت رسول اللہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ و صحبہ وسلم یقول من التمس رضی اللہ بسخط الناس کفاہ اللہ مؤتہ الناس ومن التمس رضی الناس بسخط اللہ وکلہ اللہ الی الناس والسلام علیک صدق رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم۔

آپ پر سلام ہو اس کے بعد واضح ہو کہ میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ جو شخص لوگوں کے غصہ کے مقابلہ میں اللہ کی رضامندی چاہے اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی تکلیف سے بچائے رکھتا ہے اور جس شخص نے اللہ کی ناراضگی کے مقابلہ میں لوگوں کی رضامندی چاہی اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کے حوالہ کردیتا ہے اور تجھ پر سلام ہو سچ فرمایا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے۔

حق تعالیٰ ہم کو اور آپ کو اس پر عمل کرنے کی توفیق دے جو مخبر صادق صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے والسلام۔

یہ حدیثیں اگرچہ بغیر ترجمے کی لکھی گئی ہیں لیکن شیخ جیؤ کی خدمت حاضر ہوکر ان کے معنی سمجھ لیں اور کوشش کریں کہ ان کے موافق عمل نصیب ہوجائے۔ دنیا کا بقا بہت تھوڑا ہے اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور دائمی ہے۔ عقل دور اندیش سے کام لینا چاہیے اور دنیا کی طراوت اور حلاوت پر مغرور نہ ہونا چاہیے۔ اگر دنیا کے باعث کسی کی عزت و آبرو ہوتی تو کفار دنیادار سب سے زیادہ عزت والے ہوتے۔ اور دنیا کے ظاہر پر فریفتہ ہونا بیوقوفی ہے۔ چند روزہ فرصت کو غنیمت جاننا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے پسندیدہ کاموں میں کوشش کرنی چاہیے اور خلق خدا پر احسان کرنا چاہیے۔ اللہ کے امر کی تعظیم کرنا اور خلق خدا پر شفقت کرنا آخرت کی نجات کے لیے دو بڑے رکن ہیں۔ مخبر صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو کچھ فرمایا ہے حقیقت حال کے مطابق ہے، بیہودہ اور بکواس نہیں ہے۔ یہ خواب خرگوش کب تک۔ آخر رسوائی اور خواری اٹھانی پڑے گی۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے اَفَحَسِبْتُمْ اِنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اِنَّکُمْ اِلَیْنَا لَاتُرْجَعُوْنَ۔ کیا تم نے خیال کیا ہے کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف نہ پھرو گے۔ اگرچہ معلوم ہے کہ تمہارا وقت اس قسم کی باتیں سننے کا تقاضا نہیں کرتا کیونکہ جوانی کا آغاز ہے اور دنیوی عیش و آرام سب موجود اور خلقت پر غلبہ اورحکومت حاصل ہے، لیکن آپ کے حال پر شفقت اس گفتگو کا باعث ہوئی ہے۔ ابھی کچھ نہیں گیا، توبہ و انابت کا وقت ہے اس لیے اطلاع دینا ضروری ہے:

درخانہ اگر کس است یک حروف بس است

ترجمہ :سنے کوئی اگر میری   فقط اک حرف کافی ہے۔

والسلام اولا و آخرا۔