فہرست الطاہر شمارہ نمبر ۴۵
جمادی الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق جولائی ۲۰۰۷ع

تصوف و تزکیہ

صاحبزادہ مولانا محمد جمیل عباسی طاہری

 

بیعت

تصوف کی راہ میں بیعت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بغیر کامل فائدے کا حصول ناممکن ہے۔ اور یہ قرآن حکیم و احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے جس طرح قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ“ ترجمہ: تحقیق وہ لوگ جو آپ کی (رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی) بیعت کرتے ہیں در حقیقت وہ خدا تبارک و تعالیٰ کی بیعت کرتے ہیں۔

بیعت کی معنیٰ: بیعت کی لغوی معنیٰ حوالے کرنا، سپرد کرنا، فروخت کرنا کی جاتی ہے۔ تصوف میں مرید کا اپنے شیخ کامل کے ہاتھ پر اپنے نفس کو سپرد کرنے اور فروخت کرنے کا نام بیعت ہے۔ یعنی اپنے تمام تر ارادوں و اختیارات اور خواہشات نفسانی کو ختم کرکے خود کو شیخ کامل کے حوالے کردے اور راہ سلوک میں اس کی رضا و منشا کے خلاف کوئی بھی قدم نہ اٹھائے۔ اور اگر اس کے بعض احکام مرید کو صحیح معلوم نہ ہوں تو اس کو اپنے عقل کا قصور سمجھے اور ان افعال و اقوال کو افعال خضر علیہ السلام کے مثل سمجھے۔ گویا کہ اپنے شیخ کے ہاتھوں میں ’مردہ بدست زندہ‘ بن کر رہے۔ اس کو ہی بیعت سالکین کہا جاتا ہے اور یہی مقصود مشائخ مرشدین ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو خدائے عزوجل تک آسانی سے رسائی حاصل کرواتا ہے۔ یہی بیعت آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لی۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ ہر آسانی و دشواری، ہر خوشی و ناگواری میں حکم سن کے قبول کریں گے اور اس کی اطاعت کاملہ کریں گے، اور صاحب حکم کے کسی حکم میں چوں چرا نہیں کریں گے۔ شیخ کامل کا حکم بھی درحقیقت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہی ہوتا ہے کیونکہ ولی کامل نائب رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے اور ولی کامل کی تعریف ہی یہی ہے کہ جو کامل طریقے سے اتباع رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم پر کاربند ہو۔ تو اس کا کوئی بھی حکم شریعت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہیں ہوگا۔ اس طرح شیخ کامل کا حکم رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کا ہوا اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا حکم اللہ کا حکم ہے اور اللہ عزوجل کے حکم میں مجال دم روا نہیں۔

بیعت کی حیثیت و اہمیت

ائمہ دین اور مشائخ طریق کا اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بیعت فرض ہے یا واجب ہے یا سنت ہے یا مستحب۔

جو افراد بیعت کو فرض کا درجہ دیتے ہیں وہ اپنے مؤقف کے لیے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کو دلیل بتاتے ہیں ”یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وابتغو الیہ الوسیلہ و جاہدو فی سبیلہ لعلکم تفلحون۔“ ترجمہ: اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور خدا تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح حاصل کرو۔ دوسری آیت میں ہے ”واتبع سبیل من اناب الی“ ترجمہ: اور اس شخص کے راستے کی پیروی کرو جو میری طرف رجوع کرتا ہو۔

چونکہ مذکورہ دونوں آیات میں امر کا صیغہ لایا گیا ہے اس لیے بیعت کو فرض سمجھا گیا اور اس کے ساتھ جب بیعت علم الاحسان کا (جو عبادات کا مغز ہے) دروازہ ہے تو اس کی فرضیت میں کیا شبہ ہے۔

بعض مفسرین کرام جو وجوب بیعت کے قائل ہیں انہیں دو مذکورہ آیات کی تفسیر کرتے لکھتے ہیں کہ صیغہ امر وجوب کی تعریف میں آتا ہے اور اگر بیعت فرض ہوتی تو اس کا انکار کرنے والا کافر ہوتا حالانکہ علماء کا اتفاق ہے کہ بیعت سے انکار کرنے والا کافر نہیں ہے۔ اکثر علماء کا یہ خیال ہے کہ صیغہ امر سے مراد استحاب ہے، دلیل کے طور پر کہتے ہیں کہ اگر بیعت فرض یا واجب ہوتی تو اس کے ترک کرنے والے کے لیے شارع علیہ السلام کے طرف سے کوئی وعید ہوتا اور اس کو ترک کرنے والا فاسق ہوجاتا مگر شریعت میں ایسا کوئی امر نہیں ہے اور طریقت شریعت کی ہی تابع ہے۔

بیعت کا سنت ہونا

احایث مشہورہ میں منقول ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کرتے تھے۔ اکثر ارکان اسلام پر استقامت کے لیے، کبھی معرکوں میں ثابت قدم رہنے کے لیے، کبھی ہجرت کے لیے تو کبھی جہاد کے لیے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ سے بیعت لیا کرتے تھے جیسے بیعت رضوان۔ اور قرآن کریم میں ان بیعتوں کا تذکرہ موجود ہے۔

سورہ فتح میں ارشاد ہے ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ یداللہ فوق ایدیہم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ ومن اوفیٰ بما عاہد علیہ اﷲ سیاتہ اجرا عظیما۔“ ترجمہ: جو لوگ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کررہے ہیں وہ در حقیقت اللہ عزوجل کی بیعت کر رہے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے، پھر جو شخص بیعت کو توڑے گا تو بیعت توڑنے کا وبال اسی پر ہوگا اور جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا جس کا بیعت کے وقت خدا سے وعدہ کیا تھا تو عنقریب خدا عزوجل اس کو بڑا اجر عظیم عطا فرمائے گا۔“

ایک اور آیت میں ارشاد ہے ”لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ فعلم ما فی قلوبہم فانزل السکینۃ علیہم واصابہم فتحا قریبا۔“ ترجمہ: بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ مؤمنین سے راضی ہوا جب یہ لوگ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے اور جو کچھ ان کے قلوب میں تھا وہ اللہ کو معلوم تھا سو اللہ نے ان پر اطمینان نازل فرمایا اور قریبی فتح عطا فرمائی۔

قرآن کریم میں ایک اور جگہ پر بیعت کا تذکرہ ان الفاظ مبارک سے آتاہے ”یا ایہا النبی اذا جاءک المؤمنات یبایعنک علیٰ ان الا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولادہن ولایاتین ببہتان یفترینہ بین ایدیہن وارجلہن ولا یعصینک فی معروف فبایعہن واستغفرلہن اللہ ان اللہ غفور رحیم (سورہ الممتحنۃ آیت 12)

ترجمہ: اے نبی (صلّی اللہ علیہ وسلم) جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو بھی نہ شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ ہی زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریںگی اور کوئی ایسا بہتان نہ لگائیں گی جو انہوں نے خود گھڑا ہو اور آپ (صلّی اللہ علیہ وسلم) کے کسی امر معروف میں نافرمانی نہ کریںگی، تو پھر ان سے بیعت لے لیں اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ان کے لیے مغفرت طلب فرمائیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

ان تمام تر آیات و دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیعت سنت ہے اور نہ صرف مردوں کے لیے بلکہ عورتوں کے بھی۔ اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے کرام راشدین و ائمہ ہادین مشائخ عطام نے اس سنت کو جاری و رائج رکھا اور خواتین کو باپردہ بیعت سے نوازتے رہے تو بھی ثابت ہوتا ہے کہ بیعت سنت ہے اور اس کی تاکید بھی ہے۔

بیعت کا فائدہ

صاحب عوارف المعارف لکھتے ہیں کہ شیخ کے زیر حکم ہونا اللہ اور اس کے رسول کے زیر حکم ہونا ہے اور اس کی سنت کو وہی زندہ کرتا ہے جس نے اپنے جسم و روح کو شیخ کے حوالے کردیا اور اپنے ارادے سے نکل آیا اور اپنا اختیار چھوڑ کر شیخ میں فنا ہوگیا۔ غرضیکہ بیعت فلاح باطنی کے لیے ہے جس سے مقصود ہوتا ہے کہ اپنے اندر کو رذائل چیزوں سے پاک کرکے اسے روشن کیا جائے اور اپنے دل سے شرک خفی نکالا جائے۔ تو جب کوئی بھی نیت صحیحہ و اخلاص کے ساتھ اپنے شیخ کامل کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اور اس کی صحبت میں رہ کر تمام آداب کو بجا لاتا ہے تو شیخ کامل کی باطنی نظر سے روحانی فیوض و برکات اس مرید کے قلب باطن میں سرایت کر جاتے ہیں اور مرید کا باطن روشن و منور ہوجاتا ہے۔ اس روحانی و باطنی انوار و تجلیات کا حصول شیخ کامل کی محبت و صحبت پر ہی منحصر ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب مرید شیخ کامل کی خدمت وصحبت میں حاضری کے وقت اپنے قلب و روح کو تمام تر توجہ کے ساتھ پیر کی طرف مرکوز رکھے تاکہ شیخ کامل کی پاکیزہ فطرت و وظائف باطنی کے تناسب سے مرید کے اندر بھی روحانی ربط و ضبط بڑھتا رہے اور وہ عروج حاصل کرتا ہوا خدا کا قرب حاصل کرلے۔ مگر سالک ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ ان تمام منازل روحانی کا دارومدار شیخ کامل کی بیعت و صحبت پر ہی ہے۔

صحبت شیخ

جب یہ واضح ہوا کہ روح کی پاکیزگی و طہارت اور باطن کی ترقی و خدائے عزوجل کے قرب کو حاصل کرنے کے لیے بیعت شیخ و صحبت شیخ ایک اہم ذریعہ ہے، اب ضروری ہے کہ صحبت شیخ کی اہمیت و مقام کو پہچانا جائے تاکہ کامل طریقے سے مطلوبہ فوائد کو حاصل کیا جائے۔ سالک جب پیر کی صحبت میں حاضر ہو تو اپنے روح و قلب کو پیر کی طرف ہی متوجہ رکھے۔ چونکہ پیر اپنی توجہ سے سالک کو فیض پہنچاتا ہے، اگر سالک باطنی طرح پیر کی طرف متوجہ نہ ہوگا تو اس کے حصے کا فیض کسی دوسرے مشتاق و متوجہ سالک کو حاصل ہوجائے گا۔ کیونکہ سالک کی باطنی بے توجہی شیخ کامل کو اس کی طرف سے بے رغبت کردیتی ہے اور شیخ کامل مشتاق و متوجہ شخص کو اپنی توجہات سے نواز دیتا ہے، اس لیے صحبت میں بے توجہی سے بیٹھنا اپنے آپ کو محروم کردینا ہے۔

امام ربانی مجدد و منور الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ صحبت مرشد سے استفادہ حاصل کرنے کے بارے میں حکیم عبدالوہاب کو لکھتے ہیں کہ اس گروہ (اولیاء) کے پاس خالی ہوکر آنا چاہیے تاکہ بھرے ہوئے واپس جائیں اور اپنی مفلسی کو ظاہر کرنا چاہیے تاکہ ان کو شفقت آئے اور سالک کے لیے استفادہ کا راستہ کھل جائے۔ سیر آنا اور سیر چلے جانا کچھ مزا نہیں دیتا کیونکہ پرشکمی کا پھل سوائے بیماری کے اور کچھ بھی نہیں اور استغناء و بے پرواہی سے سوائے سرکشی کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ امام ربانی علیہ الرحمۃ کے اس مکتوب مبارک سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پیر کی صحبت میں ہمیشہ اپنی باطن و قلب کی طرف مکمل دھیان رکھا جائے اور ان کی صفائی و درستگی کے لیے کوشان رہا جائے، نہ کہ وہاں موجود دیگر سالکین ذاکرین و شاغلین کی نگرانی کرتا پھرے۔ اور علاوہ ازیں پیر کی صحبت میں یا اس کی خانقاہ میں کسی بھی ایسے فعل و قول سے دور رہے جس سے وہاں پر موجود کسی بھی شخص کو تکلیف یا ایذاء پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ پیر کے سامنے کبھی بھی فضول اور لایعنی باتوں سے مکمل احتراز کرنا چاہیے کیونکہ بسا اوقات اس طرح کی باتوں سے شیخ کامل کی قلب میں کلفت پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ سالک کی ترقی کے لیے نہایت ضرر رساں چیز ہے۔ اور اس کے علاوہ سالک کو یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ صرف دور بیٹھے فون یا خط کے ذریعے پیر کو اپنے واقعات و حالات سے آگاہ رکھنا شافع نہیں بلکہ صحبت شیخ میں حاضری ضروری چیز ہے۔

صحبت شیخ کے بغیر سالک کو ثمرات خاصہ حاصل نہیں ہوسکیں گے اگر بغیر صحبت شیخ حاصل کیے ہوئے کوئی بھی سالک لاکھ اوراد و وظائف میں مصروف رہے تب بھی کچھ نفعہ حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ خدائے عزوجل کا یہ طریقہ عطا ہے کہ وہ نفعہ، انعام و فیض ہمیشہ وسیلہ سے ہی جاری فرماتا ہے۔ اس لیے سالک کے لیے لازم ہے کہ نہ صرف صحبت میں آمد و رفت کو ضروری سمجھے بلکہ اس میں کثرت کو لازم رکھے۔ حضرت خواجہ غریب نواز پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوبات مبارک میں تحریر فرماتے ہیں کہ صحبت شیخ میں اس قدر آمد و رفت ہوکہ پیر کے وطن کو اپنا وطن اور گھر سمجھنے لگے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اولیائے کاملین نے صحبت شیخ کے لیے محبت شیخ کو شرط اول قرار دیا ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر الفت کے بغیر سالہا سال صحبت رہے تو بھی کوئی فائدہ برآمد نہ ہوگا۔

اس لیے سالک پر لازم ہے کہ فائدہ کے حصول کے لیے کامل محبت، مکمل توجہ اور یکسوئی کے ساتھ پیر کی صحبت میں حاضری دے۔ اسی طرح ہی سالک کو اس نظر کیمیا کا حصول ہوسکے گا جو تمام عمر کے لیے منقاد سعادت بن جائے گی۔ اسی لیے ہمیشہ مشتاق بن کر محبت کی حق ادائیگی بجا لانی چاہیے تاکہ اس نظر کیمیا کا مستحق بن پائے۔