فہرست الطاہر شمارہ نمبر ۴۵
جمادی الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق جولائی ۲۰۰۷ع

محمد صلّی اللہ علیہ وسلم ہندومت میں

ترجمہ و ترتیب۔ محمد جنید بن خالد
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

 

ایک ہندو پروفیسر پنڈت ویدا پرکاش اُپارائے نے اپنی مشہورکتاب کل کی اواتر (کل کا راہنما) میں یہ راز افشاں کیا ہے کہ ہندومت کی مقدس کتابوں میں مذکور کل کی اواتر کا محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت سے گہرا تعلق ہے۔

گزشتہ چند سال پہلے حقیقت سے پردہ اٹھانے والی یہ کتاب انڈیا میں شایع ہوئی اور پوری دنیا میں یہ موضوع زیر بحث رہا۔ اس کتاب کے مصنف ویدا پرکاش اپارائے ایک قابل اور مشہور ہندو پروفیسر ہیں اور اللہ آباد یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔ ہندومت کی مقدس کتابیں ویداس، پوراناس اور اوپانیشاد پر کئی سال تحقیقات کرنے کے بعد انہوں نے یہ کتاب لکھی اور صرف یہی نہیں بلکہ آٹھ پنڈتوں نے بھی اس بات کی تائید کی اور کہا کہ پروفیسر ویدا پرکاش کی تحقیقات بالکل صحیح ہیں۔

پروفیسر ویدا پرکاش کہتے ہیں کہ ہندومت کے عقائد کے مطابق ہم لوگ ایک راہنما کے انتظار میں ہیں، جس کو مقدس کتاب میں کل کی اواتر کہا گیا ہے اور ان کے متعلق جو نشانیاں لکھی ہیں وہ محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی طرف اشارہ کرتی ہیں جن کا تعلق عرب کی سر زمین سے ہوگا۔ اس لئے ہمیں اب زیادہ انتظار نہیں کرنا چاہیے اور محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کو کل کی اواتر تسلیم کرلینا چاہیے۔

مصنف کہتا ہے کہ ہندو جس کل کی اواتر کا انتظار کر رہے ہیں وہ کبھی نہ ختم ہونے والا ہے کیونکہ ۱۴۰۰ سال پہلے ایسے عظیم پیغمبر کی آمد ہوچکی ہے۔ اور مصنف نے اپنے اس دعوے کو ویداس اور دوسری مقدس کتابوں کے ذریعے صحیح ثابت کیا ہے۔ دلائل مندرجہ ذیل ہیں

  • ہندومت کی مقدس کتابوں میں یہ ذکر ہے کہ کل کی اواتر اس دنیا میں خدا کا آخری پیغمبر ہوگا اور وہ ساری دنیا اور عالمِ انسانیت کے لیے راہنما کی حیثیت سے آ ئے گا۔
  • مقدس کتابوں کی پیشنگوئی کے مطابق کل کی اواتر کی پیدائش صحرائی علاقے میں ہوگی۔
  • مذہبی کتابوں میں جو تاریخ پیدائش کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ کل کی اواتر کی پیدائش مہینے کی ۱۲ تاریخ کو ہوگی، بلکل اسی طرح نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ۱۲ ربیع الاول ہے۔
  • ہندو مت کی کتابوں میں کل کی اواتر کے والد اور والدہ کا نام جو سنسکرت میں لکھا ہوا ہے وہ ہے ”وشنو بھگت Wishno Bhagat اور سومانی Somani“ ہے، جب ہم ان ناموں کے مطالب کی طرف دیکھتے ہیں تو بڑے دلچسپ نتیجے پر پہنچتے ہیں
    وشنو کا مطلب خدا اور بھگت کا مطلب غلام یا بندہ اور اسطرح مکمل نام کا مطلب خدا کا بندہ بنتا ہے اور نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام عبداللہ تھا جس کا مطلب بھی خدا کا بندہ ہے۔
    کل کی اواتر کی والدہ کا نام سومانی لکھا ہے جس کا مطلب ہے ”امن“ اور نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کا نام آمنہ تھا جس کا مطلب بھی یہی بنتا ہے۔
  • ہندومت کی مقدس کتاب ویداس میں لکھا ہے کہ کل کی اواتر کی پیدائش ایک معزز قبیلے میں ہوگی اور نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش قبیلہ قریش میں ہوئی جس کی شان اور عظمت تمام قبیلوں سے زیادہ تھی۔
  • مقدس کتابوں میں لکھا ہے کہ کل کی اواتر کی بنیادی غذا زیتون اور کھجور ہوگی اور وہ اپنے علاقے کا سب سے زیادہ ایماندار اور سچا آدمی ہوگا۔ جب ہم نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کیطرف دیکھتے ہیں تو بغیر کسی شک و شبہ کے یہ تمام خصوصیات آپ صلّی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتی ہیں۔
  • خدا اپنے پیغمبر ”فرشتے“ کے ذریعے کل کی اواتر کو ایک غار میں پڑھائیگا اور اللہ تعالی نے غار حرا میں محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کو جبرئیل کے ذریعے وحی کی صورت میں علم عطا فرمایا۔
  • خدا کل کی اواتر کو تیز رفتار گھوڑے پر سات آسمانوں کی سیر کرائیگا اور یہ نشاندہی براق اور واقعۂ معراج کی طرف ہے جو نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آیا تھا۔
  • خدا کل کی اواتر کو غیبی مدد عطا فرمائیگا اور یہ پیشنگوئی غزوہ بدر اور غزوہ احد میں سچ ثابت ہوئی۔
  • ہندومت کی مذہبی کتابیں کہتی ہیں کہ کل کی اواتر گھڑسواری اور تلوار بازی میں ماہر ہوگا اور اس کے جسم سے میٹھی خوشبو آیا کریگی، یہ تمام خصوصیات آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت میں اتم درجہ موجود تھیں۔

اسطرح مصنف نے اپنے کئے گئے دعوے کی تائید میں کافی دلائل دیئے اور یہ کہا کہ کل کی اواتر جس کا ہندو انتظار کر رہے ہیں وہ محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہی ہے اور اب انکو زیادہ انتظار نہیں کرنا چاہیئے۔

توراۃ کے صحیفے ڈینٹرنومی Denternomy ۱۵:۱۸ میں اور بائبل کی کتاب جون John ۱۶:۱۴، ۲۶:۱۵ اور ۷:۱۶ میں بھی نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ذکر ہے۔ بدھ مت اور پارسی مذہب کی مذہبی کتابوں میں بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا ذکر ہے اور اب پوری دنیا کو بغیر کسی حیل و حجت کے محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا آخری پیغمبر تسلیم کرلینا چاہیئے۔