فہرست الطاہر شمارہ نمبر ۴۵
جمادی الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق جولائی ۲۰۰۷ع

عورت

ڈاکٹر غلام یاسین طاہری

گذشتہ سے پیوستہ

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا: ہمارے آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی پیاری صاحبزادی جن کے احترام میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کھڑے ہوجایا کرتے تھے آپ کی تربیت نے صاحبزادگان حسنین کریمین کو وہ کردار عطا کیا کہ دین اسلام کے لیے ان کی دی ہوئی قربانی کی نظیر نہیں مل سکتی۔

ذات النطاقین حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما: ہجرت کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کو رازدار بنایا تھا۔ اس وقت آپ کم سن تھیں۔ جب کفار کو حضور صلّی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مکے سے نکل جانے کی خبر ملی تو ابوجہل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر آیا اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو ڈرا دھمکا کر پوچھا کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کس طرف گئے ہیں۔ بہادر بچی نے کچھ نہ بتایا۔ ابوجہل ملعون نے آپ کو زدوکوب کیا اور اس زور سے طمانچہ مارا کہ آپ کے کان کی ایک بالی نکل کر دور جا گری۔ جب تک حضور صلّی اللہ علیہ وسلم غار میں روپوش رہے آپ کے لیے کھانا لے جاتی رہیں۔ آپ نے بعد میں ہجرت کی اور غزوات میں بھی حصہ لیا اور مجاہدین کی خدمت کی۔ حجاج بن یوسف نے جب ظلم کے پہاڑ توڑے تو پیرسنی کی باوجود کھری کھری سنائیں۔

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا: آپ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ آپ نہایت نڈر اور بہادر خاتون تھیں۔ غزوہ خندق کے دوران آپ عورتوں کے ہمراہ ایک قلعے میں تھیں۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ بیمار ہونے کی وجہ سے قلعے میں تھے لیکن کمزوری کے باعث نگرانی کرنے سے قاصر تھے۔ ایک یہودی جاسوسی کی نیت سے قلعے کے نزدیک آیا تو خیمے کی چوب سے اس کا سر پھاڑ دیا اس کے بعد اس کا سر کاٹ کر قلعے کے باہر پھینک دیا۔ یہودیوں نے یہ سمجھا کہ قلعہ کے اندر کافی فوج ہے جس وجہ سے ان کو قلعے کی طرف آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفار نے شہید کرنے کے بعد نعش کا مثلہ کردیا تھا لیکن آپ نے بہت اور صحابہ کے ساتھ بھائی کی نعش کی زیارت کی۔

حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا: اسلام کی پہلی خاتون جو راہ حق میں شہید ہوئیں۔ بوڑھی اور ناتواں سی کنیز تھیں۔ جب مسلمان ہوئیں تو کفار نے ان پر ظلم وستم کی انتہا کردی لیکن انہوں نے راہ حق کو نہ چھوڑا۔ تنگ آکر ابوجہل نے ان کو برچھی مارکر شہید کر ڈالا۔

حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا: آپ مکے کی ایک دولت مند خاتون تھیں۔ مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے خفیہ طور پر عورتوں میں تبلیغ شروع کردی، لیکن کفار کو کسی طرح ان کی خبر لگ گئی اور انہوں نے اس قدر ظلم وتشدد کیا کہ اپنے حواس کھو بیٹھیں لیکن اسلام کا دامن کہاں چھوٹنے والا تھا۔ آخر کفار نے ان کو مکے سے نکال دیا، لیکن فتح مکہ کے موقعہ پر ان کا گھر مسلمانوں کا مہمان خانہ تھا اور انہوں نے بڑی فیاضی سے مسلمانوں کی خاطر مدارات کی۔

حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا: جنگ احد، خیبر، فتح مکہ، جنگ یمامہ میں شریک ہوئیں۔ جنگ احد میں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے ابن قمہ پر تلوار سے وار کئے۔ جنگ یمامہ میں مسلیمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئے آپ کا بیٹا حبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگیا تو قسم کھائی کہ یا تو مسلیمہ کذاب کو قتل کروں گی یا خود شہید ہوجاؤں گی۔ چنانچہ میدان جنگ میں نہایت بہادری کے ساتھ لڑیں۔ آپ کا ایک ہاتھ کٹ گیا، جسم پر بارہ زخم آئے، یہاں تک آپ کو اطلاع دی گئی کہ مسلیمہ کذاب قتل ہوگیا ہے۔

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا: ایک لحاظ سے حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی خالہ ہیں۔ آپ کا پہلا نکاح مالک بن نفر سے ہوا تھا جو کافر تھا۔ اس کے بعد ابوطلحہ نے جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے نکاح کا پیغام دیا تو اس کے کفر کی وجہ سے رد کردیا۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے سامنے کلمہ پڑھ لیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نکاح پڑھایا، آپ نے یہ کہہ کر اپنا حق مہر معاف کردیا کہ ”اسلام سب سے بڑا مہر ہے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ”یہ مہر عجیب و غریب تھا۔“ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پاک میں جو مواخات قائم کی تھی اس کا اجتماع ام سلیم رضی اللہ عنہ کے گھر ہوا تھا۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم آپ کے گھر میں تشریف لے جاتے تھے۔ آپ نے کافی غزوات میں شرکت کی۔ جنگ حنین میں آپ کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا، حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے دریافت فرمانے پر کہا کہ ”اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو اس خنجر سے اس کا پیٹ چاک کرکے اسے جہنم رسید کروں گی“ یہ سن کر آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔

حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا: آپ دشمن رسول ابوجہل کے بیٹے حضرت عکرمہ کی زوجہ تھیں۔ فتح مکہ کے موقعہ پر اسلام قبول کیا۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ یمن کی طرف فرار ہوگئے تھے۔ حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کے لیے پناہ طلب کی اور یمن جاکر شوہر کو لے آئیں۔ جنگ اجنادیں میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا۔ قنظرہ ابن حکیم کے نزدیک رسم ادا ہوئی ابھی دعوت ولیمہ سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ رومیوں نے حملہ کردیا۔ آپ کے شوہر حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے۔ آپ نے خیمے کی چوب اکھاڑی اور اس سے سات رومیوں کو جہنم رسید کیا۔

حضرت ام ھابان رضی اللہ عنہا: شادی کے چند روز بعد شوہر کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئیں۔ آپ کے شوہر لڑتے لڑتے شہید ہوگئے، آپ بھی لڑرہی تھیں، جب شوہر پر نظر پڑی تو مردانہ وار دشمن کی صفوں کے اندر سے شوہر کی لاش پیٹھ پر لاد کر اٹھا لائیں۔ بعض مجاہدین نے شوہر کی شہادت کا احوال پوچھا تو فرمایا ”وہ خوش نصیب تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت کا رتبہ عطا فرمایا، ایک میں ہوں کہ ابھی تک شہادت کی سعادت حاصل کرنے سے محروم ہوں، اسی خدا نے جس نے ہمیں رشتہ ازدواج میں منسلک کیا تھا اب اللہ تعالیٰ نے انہیں واپس لے لیا ہے میں اس کی رضا پر راضی ہوں اور عہد کرتی ہوں کہ اپنے شوہر کی موت کا انتقام لوں گی اور جلد سے جلد ان کے پاس پہنچنے کی کوشش کروں گی۔“ دوسرے دن ام ھابان نے بہادری سے جنگ میں حصہ لیا۔ دشمنوں نے تیر برسائے دشمن کے علم بردار کو تیر مارکر گرادیا۔ دمشق کے حاکم کو جو فوج کی قیادت کررہا تھا آنکھ میں تیر مارا جس سے وہ زخمی ہوکر میدان جنگ سے بھاگ نکلا۔

حضرت ()رضی اللہ عنہا: نہایت ہی باہمت مجاہدہ صحابیہ جو شاعرہ بھی تھیں، اپنے چار بیٹوں کو ترغیب دیکر جنگ میں بھیجا، یکے بعد دیگرے چاروں نے جام شہادت نوش فرمایا لیکن سلام اس عظیم ماں پر کہ رونے پیٹنے کی بجائے خوشی کا اظہار فرمایا کہ وہ چار شہیدوں کی ماں ہیں۔

مندرجہ بالا تذکرہ جاوداں ان ان گنت عظیم صحابیات میں سے چند خواتین کا تھا جنہوں نے اپنے قول عمل و کردار سے لازوال داستانیں رقم کیں جو آج بھی ہماری خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں اور ان خواتین کی بصارت میں اضافے کا ذریعہ ہیں جو دین اسلام سے ناواقفیت اور اغیار کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکر کہہ بیٹھتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کومحبوس و مقید کردیا ہے یا ان کے حقوق کا استحصال کیا ہے۔ عظیم خواتین کی یہ داستان یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ تاریخ اسلامی ان عظیم المرتبت خواتین کے تذکرہ سے مزین ہے جن کی مثال کسی بھی خطے سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی قوم قدیم ہو یا جدید پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ماں کی حیثیت سے بچوں کی بہترین تربیت کرنے والی گھریلو خاتون سے لیکر مجاہدہ، ولیہ، شاعرہ، طبیبہ، عالمہ، قاریہ تک بلکہ حکومت سنبھالے ہوئے قابل تقلید حاکمہ کے روپ میں رفاہ عامہ کی وہ ان مٹ مثالیں قائم کرتی نظر آتی ہے جس پر جدید دور کے حکمران بھی حیرت زدہ ہیں۔ ایسی خواتین کے تذکرے پر تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے، بخوف طوالت چند مثالیں پیش کرنے پر ہی اکتفا کروں گا۔

ام الخیر حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیہا: مشہور و معروف ولیہ گذری ہیں۔ آپ کا زہد، عبادت، تقویٰ خواتین بلکہ مردوں کے لیے بھی قابل تقلید ہے۔ خواتین کے علاوہ کثیر تعداد میں جلیل القدر علماء صلحاء بھی خدمت میں آکر فیض یاب ہوئے جن میں حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ قابل ذکر ہیں۔

حضرت آمنہ رملیہ رحمۃ اللہ علیہا: آپ بھی مشہور پاکباز ولیہ گذری ہیں۔ حضرت بشیر بن حارث رحمۃ اللہ علیہ آپ کی خدمت میں آتے تھے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت بشیر بن حارث رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے آپ سے اپنی مغفرت کے لیے دعا کروائی۔ رات کو حضرت ام الخیر رحمۃ اللہ علیہا نے دیکھا کہ ایک رقعہ ان کی گود میں آ گرا ہے جس پر لکھا ہے کہ ”ہم نے تمہیں معاف کردیا اور ہم زیادہ بھی کرسکتے ہیں۔“

ملکہ زبیدہ خاتون (امۃ العزیز): آپ نے اپنے دور حکومت میں رفاہ عامہ کے ان گنت کام کروائے۔ آپ ایک وسیع النظر، فیاض اور غریب پرور خاتون تھیں۔ آپ کا ہمیشہ یاد رکھا جانے والا کارنامہ ”نہر زبیدہ“ ہے جو آج بھی جاری ہے۔

حضرت فاطمہ بنت عبدالمالک رحمۃ اللہ علیہما: آپ کی پوری عمر قصر خلافت میں گذری کیونکہ آپ کے دادا، والد، دو بھائی اور شوہر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ ہوئے ہیں۔ آپ بلند پایہ عالمہ، سخی اور منکسر المزاج خاتون ہو گذری ہیں۔ بڑے علماء اور محدثین آپ کے تلامیذ تھے لیکن آپ کے اندر علم یا قصر خلافت کے گھمنڈ کا کوئی ذرا سا بھی اثر نہ تھا۔ آپ کے شوہر نہایت سادہ مزاج اور متقی خلیفہ ہو گذرے ہیں۔ آپ نے ہمیشہ شوہر کی نیکی میں مدد اور مطابقت کی۔

جہاں آرا بیگم: آپ شہنشاہ اورنگزیب کی بہن تھیں۔ بھائی کی طرح آپ بھی بزرگان دین اولیاء کرام کی عقیدت مند، علم و ادب کی شیدا اور غریبوں کی غم گسار تھیں۔ آپ نے رفاہ عامہ کے کئی کام کروائے۔ آگرہ کی جامع مسجد، اجمیر کا بیگی دالان، کشمیر میں ملا بدخشانی کی مسجد اور دہلی کی سرائے آپ کی تعمیر کروائی ہوئی عمارتیں تھیں۔ آپ ادیبہ بھی تھیں، اولیاء اللہ کے حالات زندگی کے بارے میں آپ کی تصنیف ”مونس الارواح“ معروف ہے۔

محترمہ خدیجہ فیروز الدین: قیام پاکستان سے پہلے اور بعد کے اخبارات میں قائد اعظم اور دوسرے مسلم زعماء کے ساتھ تصاویر میں ایک برقع میں ملبوس خاتون نظر آتی ہیں۔ یہ خاتون محترمہ خدیجہ فیروز الدین ہیں جو ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں جو کہتے ہیں کہ پردہ عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ آپ ”آل پاکستان مسلم ویمن ایجوکیشن کانفرنس“ کی صدر، ”پاکستان فرینڈ شپ سوسائٹی“ کی صدر اور خواتین کی عالمی جماعت کی سرگرم رکن تھیں۔ آپ پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جن کو انگریزی زبان میں پشتو کے شاعر خوشحال خان خٹک کے حالات پر ایک محققانہ کتاب لکھنے پر ڈاکٹر آف لٹریچر کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ آپ نے ایم اے (گولڈ میڈل) ایم او ایل او ڈی لٹ (لندن)کی ڈگریاں بھی حاصل کر رکھیں تھیں۔ سالہا سال تک گورنمنٹ کالج امرتسر کی پرنسپل رہیں۔ خواتین کے بڑے جلسوں کی صدارت اور تقاریر کیں۔ بیرون ملک کئی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ ایک نامور ماہر تعلیم بلند پایہ ادیبہ اور سماجی کارکن ہونے کے باوجود نماز، روزہ، اور پردہ کی سخت پابند تھیں۔ آپ کے والد بھی ایک اعلیٰ سرکاری عہدہ دار تھے۔

ماضی بعید و قریب کی عظیم خواتین کے تذکرہ کو میں نامکمل سمجھوں گا اگر اپنے پیران کبار کی خواتین کا تذکرہ نہ کروں۔ ہمارے حضرت خواجہ پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی اہلیہ محترمہ اور صاحبزادیاں جنہوں نے حضور کی زندگی میں آپ کی متابعت اور تعاون کیا اور آپ کے بعد بھی آپ کے مشن کو جاری رکھا اور رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ نے باوجود یہ کہ آپ کے شوہر نامدار کا انتقال ہوچکا تھا اپنے عظیم المرتبت صاحبزادہ کو دینی تعلیم دلوائی اور آپ کی غیر موجودگی میں گھر کے معاملات کو خوش اسلوبی سے چلایا۔ اپنی صاحبزادیوں کی بہترین تربیت کی یہاں تک کہ حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے فراغت جسمانی و ذہنی کے ساتھ دینی و دنیوی علوم کی تکمیل فرمائی۔ مختلف ادوار کی منتخب خواتین کا تذکرہ کرنے کا مقصد قارئین کو یہ باور کرانا ہے کہ خواتین نے ہر دور میں معاشرہ پر انمٹ نقوش مرتب کیے ہیں۔ ابتدائے آفرینش سے ہی تہذیبوں کے عروج  و زوال میں عورت کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے لیکن باوجود اس کے معاشرے کے اس اہم حصے کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کی وہ حقدار تھی، بلکہ اکثر اوقات اس کی انتہائی تذلیل کی جاتی رہی ہے۔ بعثت اسلام سے پہلے عرب میں عورت کی حالت و حیثیت سے کون واقف نہیں۔ ذلت کی پستیوں سے اٹھا کر انتہائی معزز مقام عطا کرنا یہ اسلام کا ایسا کارنامہ ہے جس کی قدیم و جدید میں مثال موجود نہیں ہے۔ اسلام کی دی ہوئی حیثیت اور عزت ملنے کے بعد مسلم خواتین نے ہر دور میں قابل قدر کارنامے سر انجام دیکر یہ ثابت کردیا کہ عورت معاشرے کا ہر کام کرسکتی ہے اور اس کے لیے پردہ ہرگز رکاوٹ نہیں۔ دراصل پردہ مرد و عورت کے درمیان ایک فطری حد ہے (Barrier) ہے جو دونوں کے درمیان آزادانہ اختلاط کو روکتا ہے اور اس کے لیے الگ میدان عمل متعین کرتا ہے۔

 


توجہ طلب

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اس دنیا کے اندر پیغمبر بھیجے تو ان کی تائید اور مدد کے لیے ان کو معجزات عنایت کیے گئے تاکہ منکرین نبوت جب ان کے نبی ہونے کا ثبوت مانگیں تو وہ خلاف عادت کام یعنی معجزہ دکھا کر ان کو عاجز کردیں۔ اور انسانی فطرت بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ خلاف عادت کام دیکھ کر انسان کو اس کے سچے ہونے کا یقین ہوجاتا ہے۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوا اور ان کے نائب اولیاء اللہ اسلام کے آفاقی پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لیے قیامت تک مصروف عمل رہیں گے۔ اولیاء اللہ چونکہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلمکے نائب ہیں تو ان سے بھی کرامات کا ظہور اسلامی تاریخ سے ثابت ہے۔ کوئی بھی مسلمان کرامات کا انکار نہیں کرسکتا۔ اسی طرح ہمارے مرشد و مربی حضور قبلہ عالم قلبی و روحی فداہ جو موجودہ دور میں آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے سچے نائب و ولی خدا ہیں آپ کی کرامتیں بھی ہر فقیر (خواہ خاص و عام ہو) کی زندگی کا خاص حصہ ہیں۔ ادارہ الطاہر حضور سجن سائیں مدظلہ العالی کی کرامات ہر شمارے میں شایع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں جملہ خلفاء، علماء، تنظیمی عہدیداران و فقراء سے گذارش ہے کہ ایسی کوئی کرامت جس نے ان کی زندگی یا ان کے کسی دوست و متعلقین کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہو تو آپ کو عرض کیا جاتا ہے کہ برائے مہربانی پہلی فرصت میں لکھ کر الطاہر کی ایڈریس پر روانہ کردیں۔ شکریہ۔