فہرست الطاہر شمارہ نمبر ۴۵
جمادی الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق جولائی ۲۰۰۷ع

جو میں نے دیکھا

عرفان اللہ عباسی

 

مجھ جیسے ناکارہ بندے کو بھی مرشد مربی حضرت قبلہ سجن سائیں مدظلہ نے اپنی نظر کرم سے نواز دیا۔ اور تو کرم ہوتے رہے مگر سب سے بڑا کرم خدا کے حکم اور مرشد کی نگاہ سے یہ ہوا کہ میرا ذکر جاری ہوگیا اور دنیا کی لالچ گھٹنے لگی۔ عجیب سی کیفیت ہونے لگی۔ ایک تو انجانی سی خوشی رہنے لگی، وجہ بھی معلوم نہیں ہوئی پھر بھی میں اتنا خوش رہنے لگا کہ جیسے ہواؤں میں اڑرہا ہوں اور میرے جیسا خوش نصیب دنیا میں ہی کوئی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ شاید آپ میں سے کوئی سوچے کہ عجیب پاگل ہے خوشی کا پتا ہی نہیں ہے کہ کون سی خوشی ہے پھر بھی اتنا خوش ہے۔ دوستو آج کی بے سکونی والے دور میں اگر کسی کو کوئی خوشی ملتی بھی ہے تب بھی وہ خوش نہیں ہوتا، شاید اگر ہوتا بھی ہو تو اتنا نہیں ہوتا جتنا اس خوشی کا حق ہے اور ایک میں پاگل جو بنا خوشی کے ہواؤں میں اڑتا پھررہا ہوں۔ ذرا سوچیے جب مجھے کوئی خوشی ملے گی تو لذت کتنی بڑھ جائے گی اور اگر اس کو کوئی پاگل پن بولے تو اس پاگل پن پہ جاگیرداروں کی جاگیریں، پیسے والوں کی ساری دولت، رئیسوں کی رئیس داری، غرور والوں کا غرور ہزار بار قربان۔ دوسرا یہ ہونے لگا کہ کسی کا اگر ایک روپیہ بھی میری طرف رہ گیا ہو تو عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوجاتا ہوں اور کوشش کرکے اس آدمی کو ڈھونڈ کر بھی حساب برابر کرتا ہوں۔ پہلے یہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ اگر کسی کا کچھ رہ بھی جاتا تو نودوگیارہ ہونے کے چکر میں رہتے۔ یہ چیزیں شاید قلبی ذکر سے جڑی ہوئی ہیں کیونکہ جب کبھی ذکر کم ہوجاتا ہے یا غفلت ہوجاتی ہے تو یہ انمول چیزیں بھی ختم ہونے لگتی ہیں۔ مگر پھر بھی جب مرشد مربی کی صحبت کا موقع ملتا ہے تو ذکر قلبی پھر شروع ہوجاتا ہے۔ یعنی ایسا لگتا ہے کہ میرے دل کی میل مرشد مربی کی نظر سے صاف کردی گئی ہو۔ میرے خیال میں مرشد کی نظر سے دل کا زنگ بھی اتر جاتا ہے اور دل پھر سے تازہ توانا ہوجاتا ہے۔ میری بھی جب نسبت حضور قبلہ عالم سجن سائیں مدظلہ العالی سے ہوئی تو ان کی محبت میں گرفتار ہونے لگا اور ان سے ملنے بات کرنے کا موقع ڈھونڈتا اور سوچتا کہ میں ان سے کیوں اتنی محبت کرنے لگا ہوں؟ کیا واقعی یہ میری محبت اللہ پاک اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی رضا کی طرف جانے والی ایک گلی ہے؟ اور خدا کا شکر ہے کہ یہ ثابت ہوگیا کہ واقعی یہ محبت ایک کڑی ہے۔ کہتے ہیں کہ کامل ولی اللہ کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ ان کو دیکھ کر خدا یاد آئے اور یقینا میرے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔ جب میں مرشد مربی کی دربار میں حاضر ہوتا ہوں تو بے اختیار ذکر زبان و قلب میں جاری ہوجاتا ہے۔ میرے دوستو ذکر قلبی میں اتنی لذت ہے شاید دنیا کی کسی چیز میں نہ ہو۔ کسی بزرگ کا واقعہ ہے کہ وہ قبرستان سے گذرے تو ان کے کانوں میں ذکر خدا کی آذان آئی۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگے مگر وہاں کوئی نظر نہیں آیا۔ پھر وہ درختوں کو دیکھنے لگے کہ شاید کوئی وہاں ہو مگر وہاں پہ بھی کوئی نہیں تھا۔ جب انہوں نے زیادہ غور کیا تو وہ آواز ایک پرانی خستہ قبر سے آرہی تھی۔ جب وہ اس قبر کے قریب گئے تو اس قبر کے تختے جو نظر آرہے تھے اور آواز ذکر مسلسل آرہی تھی۔ انہوں نے ہمت کرکے ایک تختہ ہٹایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ میت کا سر سے نیچے والا جسم تو بالکل مٹی ہوگیا تھا مگر اس کا سر اس طرح سلامت تھا کہ جیسے ابھی ابھی دفن کیا گیا ہو اور ذکراللہ اس سر سے جاری تھا۔ وہ بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے ایک بزرگ کو یہ روداد بتائی انہوں نے فرمایا کہ اس بندے نے دنیا میں ذکر زبانی کثرت سے کیا تھا تو اس کی زبان اور سر سلامت تھے، اگر وہ بندہ ذکر قلبی کثرت سے کرتا تو سارا جسم قیامت تک سلامت ہوتا۔ تو دوستو کیا آپ بھی قیامت تک زندہ رہنا چاہتے ہیں؟ اگر چاہتے ہیں تو کسی صاحب دل کے پاس جائیے اور ذکر قلبی جلد از جلد حاصل کیجیے کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، ایسا نہ ہو کہ پچھتانا پڑے اور چیختے رہیں کہ ہمیں کسی نے بتایا نہیں تھا اور ہاں اگر آپ کو صاحب دل ڈھونڈنے میں مشکل ہو تو اس ناچیز کی آپ کو دعوت ہے میرے شیخ کامل کے پاس آئیے جو صاحب دل بھی ہیں تو کامل ولی بھی اور ہمارے دل کے ڈاکٹر بھی۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ میرے شیخ ہیں تو میں یہ سب کہہ رہا ہوں۔ آپ آئیے کچھ وقت دیجیے ذکر قلبی کو ہمارے ڈاکٹر کا علاج سمجھیں اور یقینا آپ کے دنیاوی مسائل بھی حل ہونگے تو آگے کا سفر بھی اچھا رہے گا۔ ہمارے ہاں کسی سفارش کی ضرورت نہیں، آپ کا امیر ہونا لازم نہیں، آپ پیدل ہیں یا کار پر کچھ اثر نہیں، صرف اور صرف آپ اپنا دل ہر چیز سے خالی کرکے آئیں۔ جیسے ہمارے ڈاکٹر صاحب (مرشد مربی) اس کو ذکر سے بھردیں اور جب دل ذکر اللہ سے بھرا ہوا ہو تو آپ کامیاب ہیں دنیا بھلے آپ کے گھر میں ہو، جیب میں ہو مگر انشاء اللہ آپ کے دل میں اس کی جگہ نہ ہوگی اور جب دنیاوی کوئی چیز آپ کے دل میں نہ ہوگی تو لالچ بھی نہ ہوگا حسد بھی نہ ہوگا اور آپ پریشان بھی نہ ہونگے۔ آپ کا ہر کام خدا پاک کے حوالے ہوگا۔ انشاء اللہ مرشد کامل کی نسبت سے آپ مدینے والے سرکار صلّی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور خدا پاک کا راضی ہونا خود محسوس کریں گے۔ آپ نے سخی اور بھی دیکھے ہونگے میرے سخی مرشد اور سرکار مدینہ کے سچے غلام و نائب کی بھی سخاوت فیض دیکھیے۔ آپ پر منحصر ہے کہ سوالی کتنی سخاوت لوٹ سکتا ہے اور اگر آپ ہمارے مرشد مربی اور ماسلف کے واقعات سنیں گے تو آپ حیران ہونگے کہ واقعی سلسلہ نقشبند حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پہ رواں دواں ہے۔

اے بشر تو یاد کر آخر ہے جانا خاک میں
یہ باغ بنگلے چھوڑ کر ہے گھر بنانا خاک میں

اوروں کو تو دیکھتا ہے ملتے ہوئے خاک میں
ایک دن دیکھے گا تجھ کو بھی زمانہ خاک میں

یہاں پر بھی آپ گھر بنائیں مگر خدارا جہاں آپ کو ہمیشہ رہنا ہے اس گھر کو بنانے کے لیے بھی سوچیے کیونکہ وہاں کرائے کے گھر نہیں ملتے۔ اگر کوئی صاحب دل کامل ولی کے ہوتے ہوئے بھی ذکر سے محروم ہو تو اس کی مثال اس جیسی ہوگی کہ کوئی دریا کنارے ہو اور کہے کہ میں پیاسا ہوں۔