فہرست الطاہر شمارہ نمبر ۴۵
جمادی الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق جولائی ۲۰۰۷ع

علامہ اقبال

محمد عمر فاروق عباسی

 

یوں تو دنیا میں بہت سے شاعر پیدا ہوچکے ہیں۔ انہی شاعروں میں اقبال کا مقام اور مرتبہ کئی شعراء سے بہت بلند ہے۔ اقبال نہ صرف ایک شاعر بلکہ بہت بڑے فلسفی، دانشور اور عالم بھی مانے جاچکے ہیں۔ اقبال کے اشعار حکمت، دانش، نصیحت، فکر اور درد مندی سے بھر پور ہیں۔ اقبال جن کا پورا نام محمد اقبال تھا، سیالکوٹ شہر میں 1877ء میں پیدا ہوئے۔ اقبال نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ شہر میں حاصل کی۔ قانون اور ادب کی اعلیٰ تعلیم جرمنی اور انگلستان سے حاصل کی۔ اقبال نے فارسی، اردو اور انگریزی میں بہت سی کتابیں لکھیں۔ ان کی کتابیں بانگ درا، بال جبرئیل، ضرب کلیم اور ارمغان حجاز خاص طور پر مشہور ہیں۔ اقبال ایک سچا مسلمان تھا۔ ان کے سامنے اسلام کی روشن تاریخ تھی۔ وہ ہر لمحہ متحرک رہے، وہ سراپا عمل تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے تھے اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کوشان رہتے تھے۔ علامہ اقبال کہتے تھے جو لوگ سچے ارادے کو دل میں لے کر کوشش کرتے ہیں کامیابی ان کے قدم چومتی ہے اور رحمت حق انہیں نوازتی ہے اور کوشش نہ کرنے والے، ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھے رہنے والے لوگ منزل سے دور ہوجاتے ہیں۔

سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

اقبال نوجوان کی خفیہ صلاحیت کو بیدار کرنے کے لیے ’شاہین‘ کی علامت استعمال کرتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو شاہین بنانا چاہتے تھے۔ ان کے خیال میں شاہین ایک ایسا پرندہ ہے جو انتہائی تیز رفتاری سے اڑتا ہے، وہ جب بلندیوں کی طرف بڑھتا ہے تو پستیوں کی طرف دیکھتا بھی نہیں، وہ کسی محل پر اپنا ٹھکانا نہیں بناتا بلکہ اس کا ٹھکانہ پہاڑوں کی چوٹیاں ہیں، اس کی نگاہ بہت تیز ہے، وہ انتہائی خود دار پرندہ ہے بلکہ وہ پرندوں کی دنیا کا درویش ہے۔

جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

اپنی روایات کے تحفظ اور غلط روایات کو حقارت سے ٹھکرانے کا جذبہ اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک نوجوانوں کی خودی صورت فولاد نہ ہو۔ خودی خود کو پہچاننے کا نام ہے اور جب انسان خود سے واقف ہوجاتا ہے تو معرفت الٰہی کے دروازے اس پر کھل جاتے ہیں ”مَنْ عَرِفَ نَفسَہ فَقَد عَرِفَ رَبَّہ۔“ تو پھر وہ ذرہ صحرا بن جاتا ہے، قطرہ ہے تو دریا بن جاتا ہے، کرن ہے تو آفتاب کی تابش کو سمیٹ لیتا ہے۔ پھر وہ موجوں کی طرح گیت نہیں گاتا بلکہ طوفان کی طرح ہنگامہ برپا کردیتا ہے۔ خودی اور خود شناسی ہی تو ہے جس سے قطرہ خود کو سمندر میں گم نہیں کرتا بلکہ صدف میں داخل ہوکر سمندروں کی تہہ میں پہنچ کر موتی بن جاتا ہے

ترے دریا میں طوفان کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلمان کیوں نہیں ہے

عبث ہے شکوہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

اقبال کے خیال میں یہ غیرت اس وقت تک نوجوانوں کے دلوں میں پیدا نہیں ہوسکتی جب تک وہ خود کو صحیح معنوں میں خلیفہ خدا نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا عکس اپنے کرداروں میں پیدا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ نوجوان اپنے دل میں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کریں۔ خود خدا نے فرمایا ہے خدا سے محبت مقصود ہے تو اس کے نبی حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو، اللہ تعالیٰ کی اطاعت چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کے محبوب کی اطاعت کرو، جب تک زندگی کے ہر معاملے میں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو آخری حکم نہ سمجھ لیا جائے اس وقت تک نہ انسان سچا مؤمن بن سکتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی دعویٰ میں سچا ہے اور نہ ہی دنیا کی ہر شوکت کو اپنے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ سکتا ہے۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

اقبال اک درد بھرا دل رکھتے تھے۔ ان کے دل میں قوم کی محبت تھی وہ مسلمان قوم کی تباہ حالی کو دیکھ دیکھ کر تڑپتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان اور ہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے اور نہ ہی ایک ملک میں رہ سکتے ہیں، کیونکہ دونوں کی تہذیب، معاشرت اور مذہب کی قدریں جدا جدا ہیں، اسی مناسب موقعہ پر انہوں نے دوقومی نظریہ پیش کیا۔ اس لیے انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک ایسے آزاد وطن کا خواب دیکھا جس میں وہ اپنی تاریخ اپنی روایات اور اپنی تہذیب کے مطابق زندگی گذار سکیں گے۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے ان کی دور اندیش سوچ نے قائد اعظم جیسی شخصیت کا انتخاب کیا جنہوں نے بڑی ہی کامیابی کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ لڑا۔ بڑی کوشش کے بعد انہوں نے ہمارا پیارا وطن پاکستان حاصل کرلیا۔ علامہ محمد اقبال 1938ء میں اس جہان فانی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔ ان کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی ان کا مقبرہ لاہور میں بادشاہی مسجد کے سامنے ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

 


اعلان خاص

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا سالانہ عرس مبارک بمقام درگاہ اللہ آباد شریف کنڈیارو 25-24-23 نومبر 2007ء بروز جمع، ہفتہ، اتوار انتہائی محبت و عقیدت سے منایا جائے گا۔ سب مریدین، معتقدین و متوسلین کی خدمت میں دعوت عرض کی جاتی ہے۔

خصوصی دعا بروز اتوار صبح 8:30 بجے

خصوصی خطاب حضرت خواجہ محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی بروز اتوار صبح 10:00 بجے