فہرست الطاہر شمارہ نمبر ۴۵
جمادی الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق جولائی ۲۰۰۷ع

اداریہ    خود احتسابی

    ہمارا پیارا ملک پاکستان جو کہ مملکت خداداد ہے ان دنوں شدید ترین مصیبتوں، صعوبتوں اور مشکلاتوں سے دوچار ہے۔ ہر درد دل رکھنے والا پاکستانی دکھ اور بیچارگی کے بھنور میں آیا ہوا ہے۔ ان تلخ دنوں میں خوشی کی خبر بھی نوحہ محسوس ہوتی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے دل ناتواں پر ایک بھاری پتھر ہر وقت براجماں ہے۔ ہماری ساٹھ سالہ ملکی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایک آدھ دہائی کے علاوہ تقریباً ہر دہائی کے بیشتر سالوں میں ہم مشکلاتوں سے دوچار رہے ہیں۔ مگر ان دنوں ملک کے اندر پیدا ہونے والے دردناک اور سفاکانہ واقعات نے ہر امید صبح نو رکھنے والے شخص کو بھی مایوسی کے اتھاہ غاروں میں دھکیل دیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اجتماعی و ملکی مفادات کے ذمہ داروں نے ذاتی مفادات کو اپنا کعبہ و قبلہ بنالیا ہے۔ حالانکہ دنیا کی تاریخ میں ہر مہذب و اصلاح پسند معاشرے میں یہ قانون لاگو رہا ہے ”سید القوم خادمہم“ کہ قوم کا سردار درحقیقت قوم کے افراد و مفادات کا خادم ہوتا ہے جو ملک و قوم پر آنے والی ہر مشکل کو خود پر جھیلنا اپنے لیے فرض، لازم و خوشبختی سمجھتا ہے اور خود کو مشکلات میں ڈال کر بھی قوم و ملت کے لیے سکھ و امن کا سامان مہیا کرتا ہے اور یہی ہماری اسلامی تاریخ کا سبق ہے جو اسوہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین، صحابہ کرام، ائمہ عظام اور ماسلف اولیائے کاملین و واصلین کی سیرت و سوانح سے بلکل روشن و نمایاں نظر آتا ہے۔ خود برصغیر کی تاریخ بھی ایسے سرداروں و بادشاہوں کی گواہ و امین ہے۔ ہر قوم کے قائد و لیڈر بلکہ ہر مسلم کے لیے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مشعل راہ ہے کہ ”یحب لاخیہ مایحب لنفسہ“ اپنے بھائی کے لیے وہ ہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ اور یہ فرمان بھی تواتر سے ثابت ہے ”المسلم اخ المسلم“ تمام تر مسلمان ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ پتہ نہیں کیوں آج ہم خود کو فخریہ طور پر مسلمان کہلانے کے باوجود ان فرمودات کی طرف توجہ کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عالیشان ہے کہ ہر امتی پر ہونے والا ظلم و ستم میں خود پر محسوس کرتا ہوں۔ مگر آج ہمارا کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ اتنا معنی خیز جملہ آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آ پایا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال میں ہم سب پر عمومی اور مقتدرہ حلقوں پر خصوصی لازم ہوتا ہے کہ ہم سب قرآن و حدیث او ر اسوۂ رسول، اسوۂ صحابہ اور اولیاء اﷲ کی سوانح کی روشنی میں خود اپنا احتساب کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ ہر ایک کے لیے سب سے بڑا مفتی اور جج انسان کا اپنا ضمیر ہے۔ جیسے کہ مرشد و مربی حضرت محبوب سجن سائیں قلبی و روحی فداہ اکثر اپنے خطابا ت میں ارشاد فرماتے ہیں کہ دنیا کے سامنے اور جہال و نادانوں کے سامنے بڑا بن جانا آسان ہے مگر حقیقی طور پر بڑا بننا چاہتے ہو تو اپنے ضمیر اپنے اندر کے سامنے بڑا بن کے دکھاؤ۔ وہ ہی تمہارے ثواب و گناہ سے بالکلیہ واقف ہوتا ہے۔ آج ہم سب پر من الحیث المسلم اور من الحیث القوم یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے اعمال و کردار کا جائزہ لیں، خود احتسابی کریں اور اپنی ملت و ملک کو دنیا کے سامنے روشن و بلند کرنے کے لیے خوب کوشش کریں وگرنہ کل ہمارے لیے مگر مچھ کے آنسو بہانا بھی ممکن نہ ہوگا۔

محمد جمیل عباسی طاہری