فہرست الطاہر شمارہ نمبر ۴۵
جمادی الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق جولائی ۲۰۰۷ع

آپ کے خطوط

 

محترم قارئین! السلام علیکم! مزاج بخیر

الطاہر شمارہ نمبر 45 آپ کے ہاتھوں میں ہے. ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ آپ کی آراء و تجاویز کی روشنی میں الطاہر کو بہتر سے بہترین بنایا جاسکے، لہٰذا ادارہ الطاہر آ پ کے مضامین آراء و تبصروں کا ہمیشہ منتظر رہتا ہے۔ امید ہے ہمیشہ کی طرح ہماری حوصلہ افزائی فرماتے رہیں گے۔

آپ کا بھائی محمد جمیل عباسی طاہری


 

﴾ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے اپنی انتھک کوششوں سے الطاہر کو قارئین کے سامنے دوماہی کرکے پیش کیا اور الحمداللہ اب رسالہ پڑھ کر اور دیکھ کر دل کو خوشی ہوتی ہے۔ جناب بندہ ناچیز ایک نہایت ہی اہم موضوع ”میٹنگ کی اہمیت نتائج و ثمرات کا حصول کیوں اور کیسے؟“ لکھ کر بھیج رہا ہوں امید ہے کہ ضرور شایع کریں گے۔

(فقیر محمد اویس طاہری۔ جنرل سیکریٹری روحانی طلبہ جماعت صوبہ سندھ)

بھائی محمد اویس صاحب آپ کا مضمون قابل ستائش ہے انشاء اللہ اگلے شمارے میں شایع کردیا جائے گا۔ سراہنے کا شکریہ۔

 

﴾ شمارہ نمبر 44 پڑھا دل کو بڑا سکون ملا خصوصاً ولادت مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مضمون بڑا ہی پیارا تھا۔ اس کے علاوہ روحانی طلبہ جماعت اور ساؤتھ افریقہ کا خط پڑھ کر دل میں انقلاب برپا ہوا اور یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم لوگ بڑے بے قدرے ہیں کہ ایسی کامل ہستی ہمارے بالکل نزدیک ہونے کے باوجود ہم ان کے مشن و تبلیغ کا کام عام کرنے میں بہت سست ہیں اور تبلیغ کا صحیح حق تو وہ لوگ ادا کررہے ہیں جو ملک پاکستان سے کوسوں دور مرشد کا پیغام سن کر مسلم و غیر مسلم کو پیش کررہے ہیں اور جو اس پیغام و محبت کے پیغام سن کر دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کو ہم جماعت کے تمام افراد کارکنان عہدیداران خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے مسائل اور ان کا حل یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ اسکے علاوہ خواتین کا بھی خیال رکھیں وہ بھی الطاہر سے فیضیاب ہوں ان کے لیے بھی برائے مہربانی ہر شمارہ میں کوئی مضمون لازمی شامل کریں۔

(فقیرشبیر نعمان طاہری۔ ضلع ٹنڈوالہیار)

 

﴾ پچھلے شمارے میں ہم نے سرہاری سے ذہنی آزمائش 71 میں خط لکھا تھا لیکن نام سرہاری کے بجائے سانگھڑ کے نام سے شایع کیا گیا تھا۔

(محمد منور بروہی و حافظ شاہنواز بروہی۔ سرہاری۔ غلام سرور بروہی۔ سرہاری)

اس شمارے نے اگلے شمارے کی تلافی کردی ہے ۔توجہ دلانے کا شکریہ۔

 

﴾ شمارہ الطاہر دوماہ کا ہوا پڑھ کر خوشی ہوئی۔ مگر شمارہ ہمیں اتنا لیٹ ملتا ہے کہ ہم مقابلہ ذہنی آزمائش میں حصہ نہیں لے سکتے جس کا ہمیں بہت افسوس ہوا اور آپ نے آپ کے مسائل اور ان کا حل کا سلسلہ بھی ختم کردیا ہے۔

(تاج دین طاہری۔ چک نمبر 208 رب فیصل آباد)

انشاء اللہ آئندہ آپ کی شکایت دور کردی جائے گی۔

 

﴾ شمارہ 44 پڑھ کر بہت روح کو راحت نصیب ہوئی اور آپ سے ایک گذارش ہے کہ الطاہر رسالے کو ایک ماہی کیا جائے تاکہ ہم کو اتنا بڑا انتظار کرنا نہ پڑے مہربانی فرماکر اس پر توجہ دی جائے۔

(غلام مصطفی پنہور طاہری۔ ٹنڈو الہیار)

 

﴾ یہ عاجز الطاہر کا رسالہ خریدتا ہے اور خوب مطالعہ کرتا ہے اور اپنے دوستوں کو بھی گفٹ کرتا ہے۔ اب یہ رسالہ دوماہی ہوا ہے امید ہے کہ آپ جیسے نوجوان اس الطاہر کو ہفتہ وار شایع کرنے کی کوشش کریں گے۔ (محمد علی انگاریہ۔ اوتھل)

 

﴾ شمارہ نمبر 44 پڑھنے کی سعادت ملی ماشاء اللہ کافی اچھے مضامین تھے خاص طور پر مضمون ”روحانی طلبہ جماعت پاکستان“ تعریف کے لائق ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ مضمون ”مسلم نوجوان کا کردار“ شامل کیا جائے تو میرے خیال سے نوجوان نسل خصوصاً طلبہ و طالبات کی دلچسپی دین کے حوالے سے اور بھی بڑھ جائے گی۔

(محمد صادق میمن۔ غریب آباد لاڑکانہ)

 

﴾ پیارے ادارے کے بھائیوں سے گذارش ہے کہ الطاہر رسالہ ہر دفعہ دیر سے ملتا ہے پلیز مہربانی کرکے جلدی روانہ کردیا جائے۔ اس دفعہ بھی 07-05-2007 کو ملا ہے لیکن میں نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری اورتحریر اور سوالنامہ بھیج رہی ہوں۔

(ثمینہ کوثر بھلیر 119)

 

﴾ گذارش یہ ہے کہ میں ایک مضمون ارسال کررہی ہوں اور ایک نظم۔ میری آپ سے التماس ہے کہ میری غلطیوں کو نظرانداز کرکے شایع کریں گے۔

(مہناز عباسی طاہری)

آپ کا مضمون قابل اشاعت ہے انشاء اللہ جلد شایع ہوگا۔

 

﴾ شمارہ نمبر 44 پڑھا تمام مضامین بہت اچھے تھے خصوصا حضور پیر مٹھا کے بارے میں پڑھ کر بہت ہی اچھا لگا۔ ہم سالانہ میمبر شپ بننا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔

(”ط“ طاہری۔ لاڑکانہ)

سالانہ ممبر شپ کے لیے آپ سالانہ فیس الطاہر کے سرکیولیشن مینیجر کے پتے پر اپنے مکمل ایڈریس کے ساتھ روانہ کردیں۔

 

﴾ شمارہ نمبر 44 پڑھا تمام مضامین اپنی اپنی جگہ معیاری تھے۔ رسالہ الطاہر کے حوالے سے خطابات طاہریہ کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ رسالہ الطاہر میں حمد و نعت کے ساتھ منقبت کا بھی اضافہ ہوجائے۔

(فقیر محمد رمضان طاہری۔ ٹنڈوالہیار)

 

﴾ عاجز پشاور میں الطاہر کے ممبر بنانے کی سعی کررہا ہے۔ ہمیں رسالہ 15، 16 دن گذرنے کے بعد ملتا ہے پھر دوستوں تک پہنچانے میں وقت لگ جاتا ہے۔ جوابات ڈھونڈتے ہوئے اور خط لکھتے ہوئے بھی دن لگ جاتے ہیں اس لیے سرحد اور بلوچستان والوں کے لیے ذرا زیادہ ٹائم دیا کریں۔ لیٹ ملنے والے خطوط کے ارسال کنندگان کے نام شایع کیا۔

(سید علی شاہ)

انشاء اللہ آئندہ سرحد صوبے کے دوستوں کو شکایت کا موقعہ نہیں ملے گا۔

 

﴾ رسالہ دوماہی ہوچکا ہے یہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی اور شمارہ نمبر 44 کے سارے مضامین بہت اچھے تھے لیکن ان میں ”ذرا کاغان تک“ نہ تھا اس کی وجہ سے ہماری خیالی کاغان تک سیر رہ گئی آپ سے میری درخواست ہے کہ یہ مضمون بھی لکھیں۔

(سعدیہ طاہری۔ خاص کری والہ جھنگ)

 

﴾ سلام کے بعد عرض ہے کہ میں نے مضمون ”بچے کا مقدمہ“ لکھا ہے جو یقینا آپ کو پسند آئے گا۔ اس مضمون میں کچھ غلطیاں بھی ہوں گی اگر یہ قابل اشاعت ہو تو درست فرمادیجیے گا۔ الطاہر اچھا جارہا ہے ”عورت“ بڑی زبردست تحریر تھی پڑھ کر سمجھ آیا اسلام نے عورت کو کیا مقام عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ الطاہر کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور سب پر اللہ کی سلامتی ہے۔

(خان سواتی۔ سعید آباد کراچی)

 

﴾ واجب الاحترام بعد از سلام آپ کا شمارہ نمبر 44 پڑھا نہایت خوشی محسوس ہوئی۔ کافی وقت کے بعد پہلی مرتبہ ہماری برانچ کے باڈی کی رپورٹ شایع کی گئی مگر وہ بھی جماعت اصلاح المسلمین کے نام سے جو حقیقتاً روحانی طلبہ جماعت پاکستان برانچ کرماں باغ کے عہدیداران ہیں۔ واجب الاحترام برائے کرم اگر ہماری برانچ سال 2007 کی منتخب باڈی دوبارہ درست شایع فرمائیں تو نہایت شکر گذار رہیں گے۔

(روحانی طلبہ جماعت پاکستان برانچ کرماں باغ لاڑکانہ کے عہدیداران)

امید ہے کہ اس دفعہ آپ کی ناراضگی دور ہوگئی ہوگی۔

 

﴾جیسا کہ اگلے شمارے کے ”الطاہر اوپن فورم“ میں میرا انعام نکلا تھا اور آپ نے کتاب ”خطابات طاہریہ“ انعام کے طور پر بھیجا ہے۔ لیکن ابھی تک مجھے نہیں ملا ہے۔ یہ آپ نے بھیجا نہیں ہے یا پوسٹ والوں نے گم کیا ہے اس کی خبر نہیں۔ اگر آپ نے نہیں بھیجا ہے تو مہربانی فرماکر کتاب بھیج دیں۔

(پروفیسر طاہری مسلم بروہی)

پروفیسر طاہری مسلم صاحب آپ کی طرف خطابات طاہریہ مؤرخہ 15 مارچ 2007 کو بذریعہ ڈاک بھیجی گئی ہے اب اگر وہ آپ تک نہیں پہنچی تو یہ محکمہ ڈاک کی کارستانی ہے کچھ دن انتظار فرمائیں پھر بھی اگر کتاب موصول نہ ہو تو آپ اللہ آباد شریف میں اس عاجز سے وصول کرلیجیے گا۔

 

﴾ ایڈیٹر صاحب السلام علیکم۔ الطاہر کا تازہ شمارہ کھول کر جب فہرست دیکھی تو دکھ ہوا کیونکہ حضور کا خطاب دلنواز موجود نہیں تھا بہرحال تمام مضامین اچھے تھے جن سے علم میں اضافہ ہوا۔ آخر میں عرض کہ ذہنی آزمائش کے تمام سوال الطاہر سے باہر کے دیے جائیں تاکہ قارئین بھی ذرا آزمائش محسوس کریں۔

(ع شکور اعوان طاہری۔ مانسہرہ)

 


ان احباب کے نام جن کے خطوط شامل اشاعت نہ ہوسکے

آصف حسین بھٹی۔ اللہ آباد شریف۔

شاہنواز احمد چانڈیو طاہری۔ سرکاری کھوہ۔

فقیر حضور بخش طاہری۔ حب چوکی۔

سلیمان طاہری۔ دنبہ گوٹھ۔

ذیشان احمد طاہری۔ ماتلی۔

محمد رمضان جوکھیو طاہری۔گڈاپ۔