فہرست الطاہر شمارہ نمبر ۴۵
جمادی الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق جولائی ۲۰۰۷ع

الطاہر اوپن فورم

 

 گذشتہ شمارہ کے موضوع ایثار پر کئی احباب نے تحریریں بھیجیں۔ ایڈیٹوریل بورڈ کے فیصلے کے مطابق اس مرتبہ حافظ ابوالحسن غلام حسین بلالی طاہری کی تحریر انعام یافتہ قرار پائی۔ انعام کے طور پر ان کی طرف کتاب الطاہر سوہنا سائیں نمبر بھیجی جارہی ہے۔ اس دفعہ جو مختلف مضامین موصول ہوئے ان میں سے زیادہ تر مختلف کتابوں سے نقل کیے ہوئے تھے اور بیشتر مضامین لفظ بلفظ ایک دوسرے سے متماثل تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے مضمون لکھنے والے دوست اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے برعکس سرقہ کی طرف زیادہ دھیان دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر فی الحال کچھ عرصہ کے لیے ادارہ الطاہر ”الطاہر اوپن فورم“ کے سلسلے کو جاری رکھنے سے قاصرہے۔

ادارہ


انعام یافتہ تحریر

حافظ ابوالحسن غلام حسین بلالی طاہری

ایثار

ایثار رضائے الٰہی کے پیش نظر دوسروں کی ضرورت کو اپنی ذات حاجت سے ترجیح دینا ایثار کہلاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا تعلق دل و نیت سے ہے. چونکہ جب کوئی اپنی ضرورت کو پس پشت ڈال کر دوسرے کی ضرورت کو پورا کرتاہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح راضی ہوجاتا ہے اور اس کا وہ فعل بارگاہ رب العزت میں بڑا مقبول و منظور ہوتاہے۔ اس وجہ سے اسلام میں اس کی بے پناہ فضیلت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایثار کو اہل مدینہ کی وصف قرار دیا ہے چونکہ مسلمان جب مکۃ المکرمہ سے ہجرت کرکے مدینۃ النبی صلّی اللہ علیہ وسلم آئے تو وہاں پہلے سے رہنے والوں مہاجرین کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جس میں جذبہ ایثار قدم قدم پر نمایاں نظر آتا ہے۔ در حقیقت خود ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کی ہر لحاظ سے مدد کی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ان کا ایثار بہت پسند آیا چنانچہ ارشاد ربانی ہے کہ والذین تبوؤوا الدار والإیمان من قبلہم یحبون من ہاجر الیہم ولا یجدون فی صدورہم حاجۃ مما اوتوا ویؤثرون علی انفسہم ولو کان بہم خصاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحون۔ پارہ نمبر 28 سورۃ الحشر آیۃ نمبر 9۔ اور اس مال میں ان کا حق ہے جو ان سے پہلے مدینہ میں رہتے تھے۔ اور اسلام میں داخل ہوچکے ہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے آتا ہے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دیا جائے یہ اپنے دل میں اس کی خواہش نہیں پاتے۔ اور اپنے اوپر تنگی ہی کیوں نہ ہو انہیں اپنے سے مقدم رکھتے ہیں۔ جو شخص اپنے نفس کے بخل سے محفوظ رہے تو ایسے ہی لوگ فلاح پائیں گے۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انصار کی تعریف فرمائی ہے کہ انہوں نے ہجرت کے موقعہ پر مہاجرین کو اپنے گھر دیے اپنے باغ دیے کھیت دیے اپنے کاروبار میں شامل کیا اور خود ہر طرح کی تکالیف برداشت کی مگر آنے والوں کو آرام پہنچایا۔ پھر جب بنی نضیر کی زمین مسلمانوں کے ہاتھ آئی تو نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے دو انصاریوں کے سوا باقی ساری زمین مہاجروں کو دے دی تو انصار نے بصد احترام اس فیصلہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کیا۔ اللہ تعالیٰ کو جب ان کی یہ عادت پسند آئی تو مندرجہ بالا الفاظ سے انکی حوصلہ افزائی فرمائی۔ اس آیت کریمہ کے شان نزول کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ کر بیٹھے ہی تھے کہ ایک مہمان آگیا۔ مہمان کے چہرے سے معلوم ہورہا تھا کہ بہت بھوکا ہے سرکار صلّی اللہ علیہ وسلم نے کاشانہ نبوت صلّی اللہ علیہ وسلم میں سے دریافت فرمایا پر گھر سے ایک ہی جواب آیا کہ پانی کے سوا گھر میں کچھ نہیں ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص آج رات اس شخص کو اپنا مہمان بنائے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے گا۔ ایک انصاری کھڑے ہوگئے عرض کیا حضور میں انکو اپنا مہما بناؤں گا اور اجنبی کو اپنے گھر لے کر گئے۔ بیٹھک میں مہمان کو بٹھلایا اور گھر میں جاکر اپنی اہلیہ سے دریافت کیا گھر میں کھانے کو کچھ ہے؟ بیوی نے کہا صرف بچوں کا کھانا ہے۔ صرف ایک لمحے کا توقف ہوا بیوی سے کہا بچوں کو بہلا پھسلا کر سلادو مگر اس سے بھی تو کام نہیں بنے گا بیوی نے کہا چونکہ ہمارے رواج کے مطابق میزبان کو مہمان کے ساتھ کھانا کھانا پڑتا ہے اور کھانا صرف ایک آدمی کی کفایت کرسکتا ہے۔ انصاری سوچ میں پڑگئے ذہن تیزی سے کام کرنے لگا، ایک بہت اچھی ترکیب ذہن میں آئی، بیوی سے کہا نیک بخت ایک تدبیر کرو وہ یہ کہ جب دستر خوان پر کھانا لگایا جائے تو چراغ کی بتی ٹھیک کرنے کے بہانے چراغ بجھا دینا پھر میں سب سنبھالوں گا۔ بیوی نے کہا ٹھیک ہے۔ دسترخوان پر کھانا لگا دیا گیا، میزبان نے مہمان کو دعوت طعام دی، جب بھوکا مہمان دستر خوان پر بیٹھ گیا تو انصاری نے اپنی بیوی سے کہا کہ خدا کی بندی ذرا چراغ تو ٹھیک کردے صحیح طور پر لو نہیں دے رہا۔ بات تو پہلے سے ہی طے شدہ تھی بیوی نے بتی چراغ درست کرنے کے بہانے ہاتھ بڑھایا اور کمرہ تاریک ہوگیا۔ میزبان نے کہا بندۂ خدا کھانا شروع کردیں دوبارہ چراغ جلانے میں کافی دیر ہوگی۔ مہمان نے عرب کے رواج کے مطابق کہا کہ پہلے آپ بسم اللہ فرمائیں اور میزبان نے شروع کردیا مگر کھانا کہاں شروع کیا یہ تو صرف کھانا کھانے کی آواز تھی جو انصاری کے منہ سے نکل رہی تھی۔ مہمان کھانے میں مصروف رہا اور وہ غریب سمجھتا رہا کہ میزبان بھی شریک طعام ہے۔ انصاری بھوکا بھی ہے اور دسترخوان پر کھانا بھی رکھا ہوا ہے مگر مجال نہیں کہ ایک لقمہ منہ میں چلا جائے۔ محض منہ سے کھانا کھانے کی آواز نکل رہی ہے۔ بشریت کا کمال اور ایثار کا ایک ایسا نمونہ ظاہر ہورہا ہے جس کی مثال تاریخ انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہے اپنی بھوک کو مارہا ہے اپنی خواہشات کو کچل رہا ہے کہ ایک مؤمن موقع اظہار کردار ہے۔ وہ مؤمن ہی کیا جو اپنے بھائی کی خواہشات و طلب کو ترجیح نہ دے سکے۔ انصاری کی بھوک ماں کی مامتا اور خاندان کے آرام کی خواہش سب ٹھٹھک کر کھڑے ہیں کہ تقاضائے ایمان آڑے آگیا مہمان شکم سیر ہوگیا اور دستر خوان اٹھالیا گیا تو چراغ کی لو بھی ٹھیک ہوگئی اور مکان کا حجرہ بھی روشن ہوگیا مگر حجرے سے زیادہ سینۂ انصاری اور اس کی نیک بخت بیوی کا دل نور ایمان سے منور ہوگیا۔ صبح ہوئی انصاری اپنے مہمان کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا۔ مسلم شریف میں ہے کہ نماز کے بعد سرور کونین صلّی اللہ علیہ وسلم انصاری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ”رات تم نے جس حسن سلوک کا مظاہرہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوا ہے۔“

ایثار اہل تقویٰ کے اوصاف کا خاصہ ہے چونکہ متقیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اخلاص و جذبہ ایثار کے تحت دین خداوندی کو سر بلند کرنے کے لیے اس کی راہ میں خرچ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ہر طرح سے راضی ہو۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنو اور تعمیل کرو اور خرچ کرتے رہو کہ یہ تمہارے اپنے ہی حق میں بہتر ہے اور جو شخص اپنے بخل طبعی سے بچا رہا تو ایسے ہی لوگ علاج پانے والے ہیں۔ پارہ 28 سورہ التغابن 16 اس آیت کریمہ سے بھی جذبہ ایثار کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے کہ راہ خاص میں ایثار دراصل انسان کے اپنے لیے ہی بہتر ہوتا ہے اس وجہ سے بزرگان خدا بننے کے لیے جذبۂ ایثار پر کاربند رہنا چاہیے۔ چونکہ ایثار میں دین و دنیا کی فلاح مضمر ہے جذبہ ایثار کا تقاضا ہے کہ راہ خدا میں دوسروں کی تکلیف دور کرنے کے لیے قیمتی سے قیمتی چیز دینے سے دریغ نہ کیا جائے اور دنیا کی اشیاء کی محبت رضائے الٰہی میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ آپ فرمائیے کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیبیاں اور قبیلے والے اور وہ مال جو تم نے کمائے اور وہ تجارت جس کے ماند پڑ جانے سے ڈرتے ہو اور وہ احکامات جن کو تم پسند کرتے ہو تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں تو ذرا صبر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم تم پر بھیجے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں کرتا۔ پارہ 10۔24

اس آیت میں اس طرح ایثار کی ترغیب دی گئی ہے کہ اللہ کی خاطر ماں باپ اولاد اور عزیز و اقارب کی محبت کو بھی قربان کرنا پڑے تو کردو، گھر بار کاروبا چھوڑنا پڑے تو چھوڑدو چونکہ اللہ کی رضا کیلئے ہر اس چیز کو ترک کرنا ضروری ہے جو رضائے الٰہی میں رکاوٹ بنے۔ ایک اور مقام پر ایثار کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے بڑے جامع الفاظ میں یوں ارشاد فرمایا کہ ”لن تنالوا البر حتیٰ تنفقوا مما تحبون۔“ جب تک تم اپنی پیاری چیزوں میں سے خرچ نہ کرو گے بھلائی ہرگز حاصل نہیں کرسکتے۔ پارہ نمبر 4 آل عمران۔ اس آیت میں جذبہ ایثار کی تعریف بڑے عمدہ طریقے سے بیان کی گئی ہے۔ انسان اس وقت تک اس خاص نیکی، مراد راستے کو حاصل نہیں کرسکتا جس سے اللہ کی خاص رحمت و ولایت کا راز حاصل ہوجاتا ہے اور وہ ہے اللہ کی راہ میں محبوب اشیاء کا ایثار۔ اس وجہ سے رضائے الٰہی کے لیے پسندیدہ مال و متاع، جسم و جان و منصب وغیرہ کے ایثار سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔


 

دیگر احباب کی تحریروں سے اقتباسات

پروفیسر طاہری مسلم بروہی
میرو خان ضلع قمبر شہدادکوٹ

ایثار کی معنیٰ ہے دوسرے کے فائدے اورغرض کو اپنے فائدے پر مقدم رکھنا اور ترجیح دینا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان صرف دوسروں کے لیے ہی کام کرے اور ان کے بھلائی اور بہتری کی طرف نگاہ رکھے بلکہ مراد یہ ہے کہ انسان خود اپنے نفس کے لیے اور دوسروں کے لیے بھی خدمت اور کام کا جذبہ موجود رہے اور جس کام کا موقعہ ملے پورے جذبے اور ہمت سے کام کرے۔ ظاہر ہے کہ انسان کے خود اپنے نفس کے بھی حقوق ہیں۔ ہر حق کی ادائیگی اس پر فرض ہے کہ وہ ان کو پوری طرح ادا کرے، غفلت یا کمی کے باعث فائدے کے بجائے نقصان کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ایثار کا مفہوم قربانی بھی ہے، وہ قربانی چاہے جان کی ہو یا مال کی مگر آج کل ایک دوسرے کے خیالات، احساسات اور جذبہ وغیرہ کے سلسلے میں ایثار کی سخت ضرورت ہے۔ بہرحال ایثار کو علیحدہ بیان کرنے اور اسی پر زور دینے سے مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذاتی مفاد کو ترجیح نہ دیتا رہے کیونکہ زندگی کے معاملات میں اکثر انسان خود اپنے متعلق زیادہ سوچنے لگتا ہے۔ تو اس وقت برے بھلے کی تمیز اس کے لیے ناممکن ہوجاتی ہے۔ رحم، ہمدردی اور اعلیٰ اوصاف کو پس پشت ڈال کر بڑے سے بڑا کام بھی کرتا ہے۔

 

ع شکور اعوان طاہری۔۔مانسہرہ

ویؤثرون علی انفسہم ولو کان بہم خصاصۃ

ترجمہ: اور ایثار کرتے ہیں اپنے جانوں کا اگرچہ وہ ضرورت مند بھی ہوں۔

ایثار نفس انسانی کی وہ کیفیت ہے جس میں اپنی ذات پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ بندگان خدا کے لیے محبت و ہمدردی کا جذبہ دل میں بیدار ہو۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ چیز پسند نہ کریں جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔“

ایثار کی تعریف دراصل یہی ہے کہ انسان دوسروں کے لیے زندہ رہے، دوسروں کو زندہ رکھنے کے لیے زندہ رہے۔ یہ مال و دولت کا ہی ایثار نہیں بلکہ اپنی زندگی کا ایثار ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے۔ بذل و ایثار اگرچہ صرف دولت سے تعلق رکھتا ہے مگر حقیقی ایثار یہ ہے کہ محبوب کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہ کیا جائے اور ظاہر ہے کہ جان اس وقت قربان کی جاتی ہے جب وہ مقصد جس کے لیے جان قربان کی جارہی ہے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو۔

 

ان احباب کے نام جن کے مضامین ہم تک پہنچے۔

محمد حفیظ اجمل بوزدار، ثمینہ کوثر طیب طاہری، حنا سحر کشمیری طاہری، مصباح نورین، محمد ابوبکر طاہری، محمد عمران طاہری، فرزانہ جہانگیر، شکیل احمد طاہری، ط طاہری، محمد آصف بھٹی۔