فہرست الطاہر شمارہ نمبر 46
شعبان 1428ھ بمطابق اگست 2007ع

مسلمان سائنسدان

الطاف حسین میمن طاہری

 

اسلام کی فطری تعلیمات نے ہمیشہ ذہن انسانی میں شعور و آگہی کے ان گنت چراغ روشن کرکے اسے خیر وشر میں تمیز کا ہنر بخشا ہے۔ اسلام نے اپنے پیروکار کو سائنسی علوم کے حصول کا درس دیتے ہوئے ہمیشہ اعتدال کی راہ دکھائی ہے۔ اسلام نے اس کارخانہ قدرت میں انسانی فطرت اور نفسانیت کے مطابق انسان کو احکامات اور ضابطوں کا ایک پورا نظام دیا ہے۔ اور اس کے تضادات کو مٹاکر اسے اپنے نصب العین کی سچائی کا شعور عطا کیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنے سفر کی ابتدائی صدیوں میں تفکر و تدبر کے ذریعے سائنسی علوم میں نہ صرف بیش بہا اضافے کیے، بلکہ انسان کو قرآنی احکامات کی روشنی میں تسخیر کائنات کی ترغیب بھی دی۔ چنانچہ اس دور میں بعض حیران کن ایجادات بھی عمل میں آئیں اور سائنسی علوم کو ایسی ٹھوس بنیادی فراہم ہوئیں جن پر آگے چل کر جدید سائنسی علوم کی بنیاد رکھی گئی۔ یہاں پر ہم قرآن مجید کی چند ایسی آیات کریمہ پیش کر رہے ہیں جن کے مطالعے سے قرون اولیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کو سائنسی تحقیقات کی طرف ترغیب ملی اور اس کے نتیجے میں بنی نوع انسان نے تحقیق و جستجو کے نئے باب روشن کیے۔

آیات ترغیب تعلیم

اِنَّمَا یَخْشَی اللہ مِنْ عِبَادِہ الْعُلَمَآئُ (فاطر 28/35)

ترجمہ: اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے علم والے ہی ڈرتے ہیں (جوصاحب بصیرت ہیں)

قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اِنَّمَایَتَذَکَّرُ اُوْلُوالْاَلْباَبِ (الزمر 9/39)

ترجمہ: آپ فرمادیجیے کہ علم والے اور بے علم کہیں برابر ہوسکتے ہیں؟ تحقیق سوچتے وہی ہیں جو صاحب عقل ہیں۔

وَالَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ دَرَجَاتِ (المجادلۃ 11/58)

ترجمہ: اور جنہیں علم عطا کیا گیا ہے (اللہ) ان لوگوں کے درجے بلند کرے گا۔

فَسَئَلُوْا اَہْلَ الذِّکْرَ اِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (الخل 43/16)

ترجمہ: سو تم اہل ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو۔

کائنات میں غور و فکر کی ترغیب

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰت وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ والنَّہَارِ والْفُلْکِ الَّتیْ یَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا انْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمآئِ مِنْ مَّآء فَاحْیَا بِہٖ الْاَرْضَ بَعْدَ موْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃِ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ والسَّحَابِ المُسَخّرِ بَیْنَ السَّمآئِ والْاَرْضِ لَاٰیاتٍ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (البقرہ 164/2)

ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کی گردش میں اور ان جہازوں اور (کشتیوں) میں جو سمندر میں لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیزیں اٹھاکر چلتی ہیں اور اس (بارش) کے پانی میں جسے اللہ آسمان کی طرف سے اتارتا ہے، پھر اس کے ذریعے زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد زندہ کرتا ہے (وہ زمین) جس میں اس نے ہر قسم کے جانور پھیلا دیے ہیں اور ہواؤں کے رخ بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان (حکم الٰہی) کا پابند (ہوکر چلتا) ہے (ان میں) عقلمندوں کے لیے (قدرت الٰہیہ کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

إِنَّ فِی اخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَا خَلَقَ اللّہُ فِی السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَّقُون(یونس 6/10)

ترجمہ: بے شک رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور ان (جملہ) چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا فرمائی ہیں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو تقویٰ رکھتے ہیں۔

وَھُوَ الَّذِی مَدَّ الأَرْضَ وَجَعَلَ فِیہَا رَوَاسِیَ وَأَنْہَارًا وَمِن کُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِیہَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّہَارَ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ0وَفِی الأَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِّنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیلٌ صِنْوَانٌ وَغَیْرُ صِنْوَانٍ یُسْقَی بِمَاء وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلَی بَعْضٍ فِی الأُکُلِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَعْقِلُونَ (الرعد 4.3/13)

ترجمہ: اور وہی ہے جس نے (گولائی کے باوجود) زمین کو پھیلایا اوراس میں پہاڑ بنائے اور ہر قسم کے پھلوں میں (بھی) اس نے دو دو (جنسوں کے) جوڑے بنائے۔ (وہی) رات سے دن کو ڈھانک لیتا ہے۔ بے شک اس میں تفکر کرنے والے کیے (بہت) نشانیاں ہیں۔ اور زمین میں (مختلف قسم کے) قطعات ہیں جو ایک دوسرے کے قریب ہیں اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جھنڈدار اور بغیر جھنڈ کے۔ ان (سب) کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور (اس کے باوجود) پھر ذائقہ میں بعض کو بعض پر فضیلت بخشتے ہیں۔ بے شک اس میں عقلمندوں کے (بڑی) نشانیاں ہیں۔

ھُوَ الَّذِی أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء لَّکُم مِّنْہُ شَرَابٌ وَمِنْہُ شَجَرٌ فِیہِ تُسِیمُونَ0یُنبِتُ لَکُم بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُونَ وَالنَّخِیلَ وَالأَعْنَابَ وَمِن کُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَۃً لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (النحل 11,10/16)

ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لیے آسمان کی جانب سے پانی اتارا، اس میں سے (کچھ) پینے کا ہے اور اسی میں سے (کچھ) شجر کاری کا ہے (جس سے نباتات، سبزے اور چراگاہیں اگتی ہیں) جن میں تم (اپنے مویشی) چراتے ہو، اسی پانی سے تمہارے لیے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہرقسم کے پھل (اور میوے) اگاتا ہے۔ بے شک اس میں غور فکر کرنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔

وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِی الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِی الکِتَابِ مِن شَیْءٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ ۔(الانعام38/6)

ترجمہ: اور (اے انسانو) کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جانور) اور پرندہ جو اپنے دو بازؤں سے اڑتا ہو (ایسا) نہیں ہے مگر یہ کہ (بہت سی صفات میں) وہ سب تمہارے ہی مماثل طبقات ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی (جسے صراحۃ یا اشارتاً بیان نہ کردیا ہو) پھر سب (لوگ) اپنے رب کے پاس جمع کیے جائیں گے۔

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ دین فطرت بھی ہے جو ان تمام احوال و تفیہرات پر نظر رکھتا ہے۔ جس کا تعلق انسان اور کائنات کے باطنی اور خارجی وجود کے ظہور سے ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام نے یونانی فلسفے کے گرداب میں بھٹکنے والی انسانیت کو نور علم سے منور کرتے ہوئے جدید سائنس کی بنیادیں فراہم کیں۔ قرآن مجید کا بنیادی موضوع ہونے والی حالات و واقعات اور حوارث عالم سے باخبر رہنے کے لیے غور فکر اور تدبر تفکر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اور قوت مشاہدہ کو بروئے کار لائے تاکہ کائنات کے مخفی و سربستہ راز اس پر آشکار ہوسکیں۔

قرآن مجید نے بندہ مؤمن کی بنیادی صفات و شرائط کے ضمن میں جو اوصاف ذکر کیے ہیں ان میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں تفکر (علم تخلیقات Comology) کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
آج کا دور سائنس علوم کی معراج کا دور ہے۔ سائنس کو بجا طور پر عصری علم (Contemporary knowledge) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا دور حاضر میں دین کی صحیح اور نتیجہ خیز اشاعت کا کام جدید سائنسی بنیادوں پر بھی بہتر طور پر سر انجام دیا جاسکتا ہے۔ بلاشک اس دور میں اس امر کی ضرورت گذشتہ صدیوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے کہ مسلم معاشروں میں جدید سائنسی علوم کی ترویج کو فروغ دیا جائے اور دینی تعلیم کو سائنسی تعلیم سے مربوط کرتے ہوئے حقانیت اسلام کا بول بالا کیا جائے۔ چنانچہ آج کے مسلمان طالب علم کے لیے مذہب اور سائنس کے باہمی تعلق کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا از حد ضروری ہے۔

قرآن مجید میں کم و بیش ہر جگہ مذہب اور سائنس کا اکٹھا ذکر ہے۔ مگر یہ ہمارے دور کا المیہ ہے کہ مذہب اور سائنس دونوں کی سیادت اور سربراہی ایک دوسرے سے نا آشنا افراد کے ہاتھوں میں ہے۔ چنانچہ دونوں گروہ اپنے مدمقابل دوسرے علم سے دوری کے باعث اسے اپنا مخالف اور متضاد تصور کرنے لگے ہیں، جس سے عامۃ الناس کم علمی اور کم فہمی کی وجہ سے مذہب اور سائنس میں تضاد اور تخالف (Confliet anm contradiction) سمجھنے لگتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

مغربی تحقیقات اس امر کا مسلمہ طور پر اقرار کرچکی ہیں کہ جدید سائنس کی تمام ترقی کا انحصار قرون اولیٰ کے مسلمان سائنسدانوں کی فراہم کردہ بنیادوں پر ہے۔ مسلمان سائنسدانوں کو سائنسی نہج پر کام کی ترغیب قرآن و سنت کی ان تعلیمات نے دی تھی جن میں سے کچھ کا تذکرہ اوپر گذر چکا ہے۔ اسی منشائے ربانی کی تکمیل میں مسلم سائنسدانوں نے ہر شعبہ علم کو ترقی دی اور آج اغیار کے ہاتھوں وہ علوم اپنے نکتہ کمال کو پہنچ چکے ہیں۔ شومئی قسمت کہ جن سائنسی علوم و فنون کی تشکیل اور ان کے فروغ کا حکم قرآن و حدیث میں جابجا موجود ہے، اور جن کی امامت کا فریضہ ایک ہزار برس تک خود بغداد، رے، دمشق، اسکندریہ اور اندلس کے مسلمان سائنسدان سرانجام دیتے چلے آئے ہیں۔ آج قرآن و سنت کے نام لیوا طبق ارضی پر بکھرے مسلمان میں سے ایک بڑی تعداد اسے اسلام سے جدا سمجھ کر اپنی تجدد پسندی کا ثبوت دیتے نہیں شرماتی۔ سائنسی علوم کا وہ پودا جسے ہمارے ہی اجداد نے قرآنی علوم کی روشنی میں پروان چڑھایا تھا آج اغیار اس کے پھل سے محظوظ ہو رہے ہیں اور ہم اپنی اصل تعلیمات سے روگرداں ہوکر دیار مغرب سے انہیں علوم کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

جہاں تک مذہب کا معاملہ تھا اس نے تو ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کردیا کہ زمین و آسمان میں جتنی کائنات بکھری ہوئی ہیں سب انسان کے لیے مسخر کردی گئی ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ“ (الجاثیہ 45۔13) ترجمہ: اور اس اللہ نے سماوی کائنات اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ سائنسی علوم بدولت کائنات کی ہر شے کو انسانی فلاح کے نکتہ نظر سے اپنے لیے بہتر سے بہتر استعمال لائے۔ اسی طرح ایک طرف ہمیں مذہب یہ بتاتا ہے کہ جملہ مخلوقات کی خلقت پانی سے عمل میں آئی ہے تو سائنس اور ٹیکنالاجی کی ذمیداری یہ رہنمائی کرنا ہے کہ بنی نوع انسان کو پانی سے کس قدر فوائد بہم پہنچائے جاسکتے ہیں اور اس کا طریقہ کار کیا ہو۔ (جاری ہے)