فہرست الطاہر شمارہ نمبر 47
رمضان 1428ھ بمطابق اکتوبر 2007ع

حکمتِ روزہ

صاحبزادہ مولانا محمد جمیل عباسی طاہری

 

صوم (روزہ) کی لغوی معنیٰ اور شرعی معنیٰ

عربی زبان میں صوم کہتے ہیں کہ کسی چیز سے رک جانا اور چھوڑ جانا۔ روزہ دار کو صائم اس لیے کہتے ہیں کہ وہ کھانے پینے اور عمل تزویج سے خود کو روک لیتا ہے۔

روزہ کی شرعی معنیٰ ہے کسی مسلمان عاقل اور بالغ شخص کا عبادت کی نیت سے طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جماع کرنے سے اپنے آپ کو روک لینا اور اپنے نفس کو تقویٰ کے لیے تیار کرنا۔

رمضان لفظ کی معنیٰ

رمضان رمض کا مصدر ہے، اس کی لغوی معنیٰ ہے دھوپ سے تپتی ہوئی زمین، تپتی ہوئی ریت۔ علماء کرام لکھتے ہیں کہ جب رمضان کا نام رکھا گیا، شدت کی گرمی پڑرہی تھی۔ بعض علماء ک کہنا ہے کہ رمضان رمضاء سے لیا گیا ہے۔ رمضاء خریف کی اس بارش کو کہتے ہیں جو زمین سے گرد و غبار کو دھو ڈالتی ہے، اسی طرح رمضان بھی امت محمدیہ کے گناہ دھو ڈالتا ہے اور ان کے دلوں کو پاک کردیتا ہے۔

روزہ عالمگیر عبادت ہے

گذشتہ تمام آسمانی مذاہب و ملل میں بھی روزہ بطور عبادت فرض کیا گیا تھا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے

یا ایہا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلمکم تتقون۝

ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے۔

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا لکھتا ہے:

روزہ کے طریقے اور اس کے اغراض آب و ہوا، قوم و نسل اور تہذیب و تمدن اور دوسرے حالات کے پیش نظر ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن کسی بھی ایسے قابل ذکر مذہبی سلسلے کا نام لینا مشکل ہے جس میں روزہ سے کلیتاً انکار کیا گیا ہو اور اسے تسلیم نہ کیا گیا ہو۔

(انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا از مضمون روزہ Fasting)

اس کے علاوہ تاریخ انسانی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ ادوار میں صرف آسمانی مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی روزہ نہیں رکھتے تھے بلکہ دنیا میں موجود مختلف قدیم تہذیبوں مثلا مصری، یونانی، رومن اور ہندو تہذیب میں بھی روزہ رکھا جانا ثابت ہے۔

روزہ فرض ہونے کی تاریخ

علامہ علاؤالدین حصکفی نے لکھا ہے کہ ہجرت کے ڈیڑھ سال اور تحویل قبلہ کے بعد دس شعبان کو روزے فرض ہوئے اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

یا ایہا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلمکم تتقون۝

مؤرخین بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ہجرت مدینہ کے دوسرے سال اٹھارھویں مہینہ شعبان کے نصف میں روزے فرض کیے گئے۔ (بحوالہ تاریخ ابن خلدون وتاریخ طبری)

اس کے علاوہ صدقہ عیدالفطر کا حکم بھی اسی سال سے جاری ہوا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا جس میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے فضائل بیان فرمائے۔ پھر صدقے کرنے کا امر فرمایا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کی نماز بھی اسی سال عیدگاہ میں ادا فرمائی اس سے پہلے عید کی نماز ادا نہیں کی جاتی تھی۔

روزے کے شرائط

علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں کہ روزے کے صحیح ہونے کے لیے نیت کرنا اور حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔ تاہم اس کے ساتھ مسلمان ہونا بھی روزہ دار کے لیے ضروری شرط ہے۔ شیخ علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں کہ روزہ کے نفس وجود کے لیے مسلمان ہونا، بالغ ہونا اور عاقل ہونا شرط ہے۔ (بحوالہ شرح صحیح مسلم جلد ثالث علامہ غلام رسول سعیدی)

روزے کی سنتیں

روزے کی چھ سنتیں بیان کی گئی ہیں: 1۔ سحری میں تاخیر کرنا، 2۔ نماز مغرب سے پہلے کھجور یا پانی سے روزہ افطارکرنا، 3۔ زوال کے بعد مسواک کرنے سے پرہیز کرنا، 4۔ ماہ رمضان میں صدقہ و خیرات کرنا، 5۔ قرآن مجید کا پڑھنا یا پڑھانا، 6۔ مسجد میں اعتکاف کرنا خصوصا آخری عشرہ میں، کیونکہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ (بحوالہ احیاء العلوم جلد اول حجۃ الاسلام امام غزالی)

روزے کی حکمتیں

روزے کی حالت میں جب انسان کھانے پینے اور ازدواجی تعلق سے کنارہ کش ہوجاتا ہے تو ہر قسم کی بری عادتوں سے بھی دور رہتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ہر ممکن حد تک کوشش کرتا ہے اور حکم خداوندی کے مطابق نفس امارہ کی مخالفت کرتا ہے تو اس کی روح کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور اس کی روحانی قوت تیز ہوجاتی ہے۔ اس طرح وہ اخلاق باری تعالیٰ اور صفات الاہیہ سے متصف ہوجاتا ہے اور اس پر مکاشفات کا دروازہ کھل جاتا ہے اور وہ اسرار و رموز پر اطلاع پاتا ہے۔ اس وجہ سے صوفیاء کرام اس ماہ کو تنویر قلب کہتے ہیں۔ اس مہینے میں قلب انسانی خدا تعالیٰ کی قدرت و کرشموں سے آگاہ ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید میں روزے دار کو سائم کے لفظ سے بھی پکارا گیا ہے جس کی معنیٰ ہے روحانی منازل طے کرنے والا۔

خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں روزے کا ایک اور مقصد بیان فرمایا ہے ”لعلکم تتقون“ جس کی معنیٰ ہے کہ تاکہ تم تقویٰ حاصل کرلو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تقویٰ کا تعلق اس جگہ سے ہے۔ معلوم ہوا کہ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ دل کے اندر ایسی کیفیت پیدا ہوجائے کہ بندہ خداوند تعالیٰ کی ناراضگی کے ڈر سے برے کاموں سے پرہیز کرنا شروع کردے۔ دراصل قلب انسانی میں نفسانی و شہوانی خواہشات پیدا ہونے کی وجہ انسان کے اندر موجود حیوانی قوت ہوتی ہے۔ روزہ رکھنے سے اس قوت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جس طرح رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص شادی کرنے کے اسباب نہیں پاتا وہ شہوانی قوت کو ختم کرنے کے لیے روزہ رکھے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ روزہ رکھنے سے شہوانی قوت میں ضعف پیدا ہوتا ہے اور قلب انسانی میں تقویٰ و خشیت کا حصول ممکن و آسان تر ہوجاتا ہے۔

روزے رکھنے سے ہمدردی و مساوات کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے، کیونکہ فطرت انسان ہے کہ جب تک انسان خود تکلیف دہ کیفیت سے نہیں گذرتا تب تک اس کے لیے اس کیفیت کا سمجھنا اور اس کی تکلیف کو محسوس کرنا مشکل تر ہوتا ہے۔ اس لیے اسلام نے امراء کو غریبوں و مسکینوں کی بھوک و پیاس کا عملی احساس دلانے کے لیے روزے لازم کیے ہیں تاکہ پیٹ بھر کر کھانے والے افراد غریبوں کی بھوک و پیاس کی تکلیف کو سمجھ پائیں اور ان کے دلوں میں غریبوں کے لیے ہمدردی و مساوات کا احساس پیدا ہوجائے۔

اس کے ساتھ روزہ ضبط نفس کے لیے عمدہ دوا ہے کہ انسان صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے کی جملہ چیزوں سے اجتناب برتتا ہے۔ اجمالاً کہ حلال و طیب چیزوں کی طرف بھی ہاتھ تک نہیں بڑھاتا۔ یہ چیز نفس پر ضبط کرنے کے لیے عمدہ مشق کا کام دیتی ہے ۔ بھوک پیاس پر صبر کرنے سے انسان کو صبر و برداشت کی تعلیم حاصل ہوتی ہے۔ اور روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو نہ نظر آتی ہے اور نہ اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ روزہ دار کھانے پینے اور جماع کرنے کو چھوڑ دیتا ہے اور یہ ایسے اعمال ہیں جو ظاہراً کسی کو بھی نظر نہیں آتے۔ اس لیے یہ ایک مخفی عبادت ہے اور اس میں ریا نہیں ہوسکتا۔ من جملہ یہ عبادت اخلاص کے سوا کچھ نہیں ہے۔