فہرست الطاہر شمارہ نمبر 47
رمضان 1428ھ بمطابق اکتوبر 2007ع

جسم میں توانائی کیسے بڑھائیں؟

 

ہمارا جسم غذا سے حاصل شدہ توانائی خلیوں میں جمع کرلیتا ہے۔ جب ہم آرام کرتے ہیں تب بھی یہ جمع شدہ توانائی جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھنے کے لیے خرچ ہوتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ دل کی دھڑکن کو برقرار رکھنے، پھیپھڑوں میں تنفس کا عمل جاری رکھنے، نظام ہضم کو فعال رکھنے اور دماغ اور گردوں کی کارکردگی کو درست رکھنے کے لیے بھی توانائی درکار ہوتی ہے۔

توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت انسان کے جسم میں اس وقت عروج پر ہوتی ہے جب اس کے لڑکپن کا دور ختم ہونے لگتا ہے اور وہ نوجوانی کے دور میں قدم رکھتا ہے۔ یہی وہ دن بھی ہوتے ہیں جب وہ توانائی کو بہترین طریقے سے استعمال کرسکتا ہے۔ تقریباً تیس سال کی عمر کے بعد آرام کے دوران استحالہ (METABOLIC RATE) میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ یوں سمجھئے کہ اس عمر کے بعد ہر دس سال گذرنے پر یہ شرح دو سے تین فی صد کم ہوجاتی ہے۔

مطلب یہ ہوا کہ آرام یا عدم فعالیت (INACTIVE) کے دوران حراروں کے خرچ ہونے کی شرح دو سے تین فی صد گھٹ جاتی ہے۔ جسم کے عضلاتی خلیوں میں چکنائی والے خلیوں کی نسبت توانائی صرف کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، لیکن عمر جوں جوں بڑھتی ہے ان عضلاتی خلیوں کی تعداد گھٹتی رہتی ہے۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جسے روکا تو نہیں جاسکتا لیکن ورزش خصوصاً عضلات کو تقویت پہنچانے والی ورزش سے کم ضرور ہوسکتا ہے کہ عضلاتی خلیوں اور چکنائی والے خلیوں کا تناسب بہتر رکھا جائے اور اس طرح توانائی کی سطح بڑھائی جائے۔

ہماری مجموعی صحت بھی توانائی کی سطح کو متاثر کرتی ہے۔ بیماری توانائی کو اس قدر کم کردیتی ہے کہ انسان جسمانی اور ذہنی طور پر تکان محسوس کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بخار ہو تو اٹھانوے اعشاریہ چھے ڈگری فارن ہائٹ کے اوپر ہر ایک ڈگری بخار بڑھنے سے شرح استحالہ سات فی صد بڑھ جاتی ہے۔ جسم کی توانائی گھٹانے والی دیگر بیماریوں میں تعدیہ، کئی طرح کے سرطان، کم خونی، پستی اور دوسرے نفسیاتی امراض، حبس دم، بعض قلبی اور تنفسی کیفیتیں، تکان کا مزمن عارضہ، ورم جگر اور غدۂ درقیہ سست ہوجانا شامل ہیں۔ بعض اوقات عام نزلہ زکام بھی توانائی کم کردیتا ہے۔

یہ بات ہم میں سے بہت سارے لوگوں کے علم میں ہے کہ ناکافی نیند سے توانائی میں کمی آجاتی ہے، لیکن شاید اکثر لوگوں کو یہ پتہ نہ ہو کہ نیند میں معمولی سی کمی آجانے سے بھی توانائی میں خاصا فرق پڑجاتا ہے۔ ایک عام آدمی کو رات میں سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند چاہیے ہوتی ہے۔ تحقیق سے اندازہ ہوا ہے کہ اس میں سے آدھا گھنٹہ بھی کم ہوجائے تو اگلے دن ہم کم چوکنا رہتے ہیں اور اگر ایک گھنٹہ کم ہوجائے تو پھر تو ذہنی اور جسمانی کارکردگی میں خاصا فرق پڑجاتا ہے۔
بعض قسم کی دواؤں سے بھی توانائی میں کمی آجاتی ہے۔ مثلاً بلند فشار خون پر پانے کے لیے جو بِیٹا بلاکر استعمال ہوتے ہیں ان سے برداشت کم ہوجاتی ہے۔ بعض مانع پستی ادویات سے دن کے وقت تکان محسوس ہوتی ہے۔

ورزش اور توانائی کا تعلق نہایت قریبی ہے اور توانائی کے احساس میں اضافے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ اعتدال کے ساتھ ورزش کی جائے۔ زیادہ سخت ورزش سے تکان ہوتی ہے توانائی نہیں حاصل ہوتی۔ درمیانے درجے کی ورزش سے ہمارا جسم ایک غیر فعال کیفیت سے فعال کیفیت میں داخل ہوجاتا ہے، یعنی استحالے اور عصبی تحرک کی ترسیل میں اضافہ ہوتا ہے، قلب اور شریانوں کا نظام زیادہ استعداد سے کام کرتا ہے اور ہارمون کی پیداوار میں تبدیلی آجاتی ہے، لہٰذا ورزش کے بعد ہم زیادہ توانائی محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہفتے کے زیادہ تر دنوں میں آدھا آدھا گھنٹہ درمیانے درجے کی ورزش کی جائے۔ یہ ورزش ایک ساتھ کرنے کی بجائے تھوڑی تھوڑی کرکے بھی کی جاسکتی ہے۔ دن کے مختلف حصوں میں جسم کی توانائی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔ ورزش کے لیے زیادہ مناسب وقت وہ ہوگا جب جسم عام طور سے فعال رہتا ہو۔

توانا والدین کے بچے بھی اکثر توانا ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ والدین کے نظام تحویل یا استحالے کی خصوصیات بچے کو ورثے میں ملتی ہیں۔ بعض تجربوں سے پتا چلتا ہے کہ شرح استحالہ کے تعین میں ہمارے مورثوں کا بھی دخل ہے۔

تحقیق کاروں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ غذا خواہ کسی بھی قسم کی ہو، لیکن اگر آپ شکم سیر ہوکر کھالیں تو پھر نیند آنا شروع ہوجاتی ہے۔ وزن بھی بڑھتا ہے، جس کی وجہ سے آپ کی فعالیت اور توانائی متاثر ہوتی ہے۔ توانائی کی سطح درست رکھنے کی خاطر ہمیں حراروں کے حصول اور خرچ پر نظر رکھنا ہوگی اور حراروں کے خرچ کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہمارا جسم کس قدر فعال ہے اور وزنی کتنا ہے؟ نیز یہ کہ جسم میں عضلاتی بافت اور دوسری طرح کی بافتوں کے درمیان کیا تناسب ہے؟

دن اور شام کے کھانوں کے درمیان ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے درمیان ہم جو چیز کھاتے پیتے ہیں، ان کا بھی جسم میں توانائی کی سطح پر اثر پڑتا ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ ان درمیانی وقفوں میں جو کچھ کھایا پیا جائے وہ متوازن ہو۔ مثال کے طور پر پھل، پنیر، چوکر والا بسکٹ یا جوس وغیرہ اس طرح کی اشیاء سے مختلف النوع مقویات اور مرکب نشاستے حاصل ہوتے ہیں اور توانائی کی سطح تادیر برقرار رہتی ہے۔ نیز اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا ہے۔ اسنیک یا درمیانی وقفوں کے کھانے پینے کی اشیاء میں پانی اور پھلوں کے رس بھی خوب شامل کریں کیوں کہ اگر جسم میں نمی کم ہو یا نابیدگی ہو تو توانائی کم ہوجاتی ہے اور تکان ہوجاتی ہے۔ توانائی بڑھانے کا ایک اور اچھا طریقہ یہ ہے کہ تیز قدمی کی جائے۔

وزن اگر بہت زیادہ ہو اور ورزش بہت کم کی جائے تو جسم میں توانائی کم ہوجاتی ہے۔ جسم میں عضلات اور چکنائی یا چربی کا باہمی تناسب بھی توانائی کے سلسلے میں اہم ہے، کیونکہ عضلات جس قدر کم ہوںگے اتنا ہی توانائی کا احتراق یعنی جلنے کا عمل کم ہوگا۔ وزن کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جتنا حرارے آپ خرچ کررہے ہیں اس سے کم کھائیں اور جس اضافی توانائی کی آپ کو ضرورت ہے وہ چربیلے خلیوں میں جمع شدہ چکنائی سے حاصل کریں۔

تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ورزش سے انسان کا موڈ یا مزاجی کیفیت بھی بہتر ہوتی ہے اور توانائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ ورزش سے ایسے عصبی کیمیائی مادے جسم میں بڑھ جاتے ہوں جن کی وجہ سے مزاجی کیفیت اور توانائی دونوں پر اچھا اثر پڑتا ہو۔ امریکا میں ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ دس منٹ کی ورزش (درمیانے درجے کی) سے موڈ اور توانائی دونوں بہتر ہوجاتے ہیں۔ اور اگر مزید دس منٹ ورزش کی جائے تو دماغی کارکردگی نسبتاً زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ متذکرہ عوامل کے علاوہ توانائی میں کمی بیشی کا تعلق موسم اور دن کے مختلف اوقات سے بھی ہے۔ رات میں توانائی کا استعمال کم ہوجاتا ہے اور شرح استحالہ میں دس فی صد کمی واقع ہوجاتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دن میں بھی مختلف اوقات میں توانائی کم زیادہ ہوتی رہتی ہے، یعنی ہم کسی وقت اپنے کو زیادہ توانا محسوس کرتے ہیں، جب کہ بعض دوسرے اوقات میں یہ کیفیت نہیں رہتی۔ اگر ہم یہ اندازہ بخوبی لگالیں ہمارے جسم میں توانائی کن اوقات میں گھٹتی ہے یا بڑھتی ہے تو ہم زیادہ مشکل اور اہم جسمانی یا دماغی کاموں کے لیے وہ اوقات مقرر کرسکتے ہیں جن میں ہم زیادہ ہشاش بشاش و توانا محسوس کرتے ہیں۔ دو اوقات عموماً ایسے ہوتے ہیں جن کے دوران میں توانائی کی سطح گرجاتی ہے۔ ایک تو نصف شب سے صبح سویرے تک اور دوسرے دوپہر سے سہ پہر تک۔

جب ہم طویل فضائی سفر طے کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں تو ٹائم زون کی تبدیلی بھی توانائی میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ نئے اوقات سے سمجھوتہ کرنے کے لیے کم کھانا چاہیے۔ نیند کے ذریعے بھی توانائی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ کوشش کرنا چاہیے کہ مقامی اوقات کے مطابق کھائیں پیئیں، سوئیں جاگیں اورکام کاج کریں۔

جاڑوں کے موسم میں بہت سے لوگ توانائی کی کمی محسوس کرتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ دن چھوٹا ہوتا ہے، ان کے جسم کو مناسب روشنی نہیں مل پاتی۔ اس کا علاج یہ کہ خوب روشنی اور دھوپ میں بیٹھا جائے۔

(بشکریہ ہمدرد صحت)