فہرست الطاہر شمارہ نمبر 47
رمضان 1428ھ بمطابق اکتوبر 2007ع

حدود اللہ

مشتاق احمد پنہور

 

حدود حد کی جمع ہے بمعنیٰ منع کرنے کے ہے۔ اس لیے چوکیدار (دربان) کو حداد کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ لوگوں کو اندر داخل ہونے سے منع کرتا ہے۔

شریعت مطہرہ میں حد عقوبت (سزا) ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقدر (مقرر) کی ہے۔ چونکہ حد کے انواع مختلف ہیں جیسے حد زنا، حد قذف، حد شرب خمر وغیرہ اس لیے انواع کے اعتبار سے حد کی جمع حدود آتی ہے۔

کبھی کبھی حدود سے گناہ بھی مراد لیے جاتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے”تلک حدود اللہ فلا تقربوھا“۔ یعنی یہ معاصی اور گناہ ہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ (تفہیم البخاری، شرح صحیح البخاری جلد ۔۔صفحہ 261 کتاب الحدود)

اسی طرح علامہ غلام رسول سعیدی کی تصنیف کردہ شرح ”شرح صحیح مسلم“ کی جلد رابع کتاب الحدود صفحہ 724 میں بھی یہی معنیٰ ذکر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فقہ کی دیگر کتب میں بھی یہی معنیٰ مذکور ہے۔

حد اور تعذیر میں فرق

فقہاء کی اصطلاح میں جو سزا شارع کی طرف سے مقرر ہو اس کو حد کہتے ہیں۔ اس سزا میں نہ زیادتی ہوسکتی ہے اور نہ کمی۔ یہ سات جرموں کی سزائیں ہیں ۔ قتل، چوری، ڈاکہ، زنا، قذف(تہمت لگانا)، شراب نوشی، اور ارتداد ۔ ان جرائم کی سزائیں شارع نے مقرر کردی ہیں اور ان کے علاوہ باقی جرائم کی سزائیں قاضی اور حاکم کی صواب دید پر چھوڑ دی ہے۔ قاضی اپنی صوابدید سے جو سزا تجویز کرتا ہے اس کو تعزیر کہتے ہیں۔

اسلام کا نظام حدود و تعذیرات
جرم و سزا کی تاریخ:

جرم بلاشبہ کسی معاشرہ میں بھی اور کسی دور میں بھی پسندیدہ امر شمار نہیں ہوا اور سزا کو کسی نے بھی خوشگوار نہیں سمجھا۔ جرم و سزا آج کوئی نئی بات نہیں بلکہ جب سے انسان کا وجود ہے اس کے ساتھ ساتھ جرم و سزا کا قانون چل رہا ہے۔ اسلام کا نکتہ نظر یہ ہے کہ ایک مجرم اپنے جرم کی سزا پانے یا اس کا کفارہ ادا کرنے اور سچی توبہ کرنے کے بعد پاک صاف ہوجاتا ہے اور اس کا سابقہ گناہ ختم ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت رسات مآب صلّی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں اور اس کے بعد بھی اسلام کے ہر زرین عہد میں جرم کا احساس ہوتے ہی نیک دل مجرم اپنے جرم کا اقرار کرکے سزا پانے کے لیے خود حاضر ہوجاتا تھا۔

پہلا جرم:

سب سے پہلے پہلا جرم حضرت آدم علیہ السلام کے ایک فرزند سے ہوا۔ اس کا نام مفسرین حضرات نے قابیل بیان کیا ہے۔ اس قتل کا سبب رقابت اور حسد کا جذبہ بنا کہ دوسرے بھائی ہابیل کی نذر (قربانی) قبول ہوگئی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی۔ قرآن مجید میں فرزندان آدم علیہ السلام کا یہ واقعہ یوں مذکور ہے۔

وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ ابْنَیْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّہُ مِنَ الْمُتَّقِینَ ۝ لَئِن بَسَطتَ إِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِی مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ یَدِیَ إِلَیْکَ لَأَقْتُلَکَ إِنِّی أَخَافُ اللّہَ رَبَّ الْعَالَمِینَ ۝

فَطَوَّعَتْ لَہُ نَفْسُہُ قَتْلَ أَخِیہِ فَقَتَلَہُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِینَ ۝

یعنی (اے محمد صلّی اللہ علیہ وسلم) انہیں آدم کے بیٹوں کے حالات جو (بلکل) سچے ہیں، پڑھ کر سنادو کہ جب ان دونوں نے کچھ نذریں پیش کیں تو ایک کی نذر (قربانی) قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔

اس نے (قابیل نے ہابیل) سے کہا میں تجھے ضرور قتل کروں گا اس نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کی نیاز ہی قبول کرتا ہے۔ اگر تونے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف تجھے قتل کرنے لیے لمبا (دراز) نہیں کروں گا۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔

مگر (قابیل کے) نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی، سو اس نے اسے قتل کر ڈالا اور خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔ (سورۃ المائدۃ 5۔ آیت30,28,27)

سزائے جرم:

اس اولین جرم کے مجرم قاتل قابیل کو کیا سزا ملی؟ اس باب میں توریت مقدس کا بیان ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اس کو جلاوطنی کی سزا دی تھی۔

قرآن مجید میں مذکورہ بالا واقعہ قتل کے ذکر کے بعد یہ آیت کریمہ موجود ہے

مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِی إِسْرَائِیلَ أَنَّہُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا ۝

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر حکم نازل کیا کہ وہ شخص جس نے کسی کو ناحق قتل کیا یا زمین میں فساد برپا کیا تو اس نے گویا تمام نوع انسانی کو قتل کیا۔ اور جو شخص ایک زندگی بچانے کا ذریعہ بنا تو گویا وہ پوری نوع انسانی کی زندگی کا سبب بنا۔ (سورۃ المائدۃ آیت۔32)

(باقی آئندہ)