فہرست الطاہر شمارہ نمبر 47
رمضان 1428ھ بمطابق اکتوبر 2007ع

ذرا کاغان تک

محمد جمیل عباسی طاہری

 

گذارش: قارئین چند ماہ کے وقفے کے بعد آخری قسط کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوں۔ امید ہے کہ چند ماہ کی غیر حاضری معاف فرمائیں گے۔

شڑاں: شڑاں کے حسن کے چرچے میں نے بہت پڑھ اور سن رکھے تھے۔ ناران جاتے ہوئے بالاکوٹ سے ہم نے شڑاں جانے کی کوشش بھی کی، مگر ہوٹل کے مالک نے شڑاں کے روڈ کو دنیا کا خطرناک روڈ قرار دیتے ہوئے ہمیں ڈرا دیا تھا اور فطری بزدلی مجھ پر غالب آگئی تھی، لہٰذا اپنی جان کی حفاظت مقدم رکھ کر شڑاں کا نام لینے سے بھی توبہ کرلی تھی۔ مگر اس وقت شڑاں جانے کی خواہش مجھ پر غالب آچکی تھی۔ میں نے اپنے قریب منہ کھول کر سوتے ہوئے منیر صاحب کو جگانے کی کوشش کی، نتیجاً وہ اٹھتے ہی اپنی سرخ آنکھوں کے ساتھ مجھ پر حملہ آور ہوگئے۔ ”ارے ارے بھائی یہ کیا کررہے ہو کچھ تمیز تو سیکھو“۔ میں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے گھبرائے لہجے میں کہا ”تم خود تمیز سیکھے ہو یہ اٹھانے کا کوئی طریقہ ہے؟“ منیر صاحب نے غصیلے لہجے میں کہا ”سائیں میں کیا کروں تمیز سے تو تم اٹھتے بھی نہیں ہو، اب ذرا ٹھنڈے ہوکر میری بات سنو۔ ہمیں شڑاں ضرور چلنا چاہیے، نئی جگہ ہے، بالاکوٹ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں، اب دوبارہ چل کر کیا کریں گے۔“ میں نے عاجزانہ عرض کیا۔ منیر صاحب مجھ سے متفق ہوئے اور سب دوستوں کو عرض معروضات کرکے قائل کرلیا۔

جس کو ہو دل و جاں عزیز، وہ اس روڈ پر آئے کیوں

جیپ نے بالاکوٹ جانے والا سیدھا راستہ چھوڑ کر شڑاں کی طرف جاتے ہوئے، کھڈے کی طرح گہرائی میں جانے والے راستے کی طرف غوطہ مارا۔ میں جو شڑاں جانے کے خواب میں مست تھا، لاشعوری طور پر اپنے آپ کو سنبھال نہ پایا اور سر ڈیش بورڈ سے ٹکرا گیا اور میں بدحواس ہوگیا۔ دونوں ہاتھوں اور پاؤں سے زور لگاکر خود کو گرنے سے بچانے کی کوشش کی۔ اتنی دیر میں گاڑی اسپیڈ کے ساتھ دوڑتی ہوئی دریائے کنہار پر بنے ہوئے پل کو کراس کرنے والی تھی۔ جب تک میرے ہوش ٹھکانے آئے تب تک جیپ دریائے کنہار کے شمالی طرف پہاڑوں سے لپٹے ہوئے روڈ پر پہنچ چکی تھی۔ داہنے طرف کئی سو فٹ نیچے دریائے کنہار اپنی گرجدار آواز کے ساتھ گذر رہا تھا جس کے آواز کی گونج دل کو دہلا رہی تھی۔ میں ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر سکڑا سمٹا بیٹھا ہوا تھا۔ یہ اس وقت سے بعد کا قصہ ہے جب سے ہم نے پارس پہنچ کر ہارون صاحب کی جیپ شڑاں کے لیے بک کروائی تھی اور ان صاحب کے ہوٹل میں اپنی وین کے مالک اور ڈرائیور کو بمع وین اطمینان بخش حالت میں چھوڑا تھا۔ چونکہ شڑاں آج تک ایک قدرتی جنگل کی صورت میں محفوظ ہے، لہٰذا وہاں آج تک ماحولیات کو تباہ کرنے والے ڈھابے اور دکان وجود میں نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں کھانے پینے کی جملہ اشیاء پارس سے خریدنا پڑیں تھیں۔ نیز ہارون صاحب نے ہمیں مکمل اطمینان دلایا تھا کہ شڑاں کا راستہ بلکل اچھا ہے، صبح شام گاڑیاں آتی جاتی رہتی ہیں، لوگ چلتے رہتے ہیں، کوئی خطرہ نہیں۔ اور انہوں نے ہمیں اسپیشل پیکیج دیا تھا کہ شڑاں میں بنے ہوئے یوتھ ہوسٹل کا چوکیدار میری بیوی کا بھائی ہے، اس کو میں کہوں گا وہ آپ کے ساتھ کھانے پکانے میں بھی خاص رعایت کریگا۔ یہ سن کر ہم شاداں و فرحاں خود کو خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتے ہوئے شڑاں کی طرف جاتے ہوئے محسوس کر رہے تھے۔ مگر یہ بہت پہلے کے قصے تھے، اور اب ہماری جان حلق میں اٹکی ہوئی تھی۔ شڑاں کی طرف جاتا ہوا پہاڑوں سے چمٹا روڈ بہت تنگ تھا اور اچانک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مٹی اور پتھروں کے ڈھیڑ نے اس میں مزید تنگی پیدا کردی۔ جیسے ہی ہماری جیپ کے ٹائر اس ڈھیڑ پر چڑھے تو پوری جیپ دریائے کنہار کی گہرائیوں کی طرف جھکنے لگی۔ میں نے شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرلیں اور سہارے کے لیے سامنے لگے ہینڈل کو مضبوطی سے جکڑلیا، معدے میں گرہ پڑنے لگی اور ہتھیلیوں میں پسینہ چھا گیا۔ میرے ہاتھ پسینے کی وجہ سے لوہے کے ہینڈل پر پھسلنے لگے۔ واقعی یہ مشکل سفروں کا مشکل ترین لمحہ تھا۔ جب ڈھیڑ چڑھ کرگاڑی سیدھی ہوئی تو رکا ہوا سانس باہر آیا اور مجھے آنکھیں کھولنے کی ہمت ہوئی۔ پیچھے سے کچھ مخدوش اور بخارزدہ آوازیں سنائیں دینے لگیں۔ جب میں نے پلٹ کر دیکھا تو مجھ سے اپنی حالت بھول گئی۔ بھٹو صاحب ایک کونے میں بیٹھے کانپنے میں مصروف تھے اور منیر صاحب اپنی سیٹ چھوڑ کر جیپ کے فرش پر تصویروں میں دکھائے جانے والے شاہ عبداللطیف بھٹائی والے پوز میں بیٹھے نظر آئے۔ الطاف اور طیب صاحبان اپنی سیٹ سے قطع تعلق کرکے (جو دریائے کنہار کی جانب تھی) منیر صاحب کے اوپر سے ہوتے ہوئے دوسری طرف جانے کی کوششیں کررہے تھے اور بقیہ احباب بھی مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ مراقبہ میں مصروف تھے۔ مگر صورتحال اور بھی خراب ہونی تھی کیونکہ اژدہا کے طرح بل کھاتے ہوئے راستے پر دل دہلا دینے والی چڑھائیوں کا آغاز ہوچکا تھا۔ ہم سب اردگرد کی خوبصورتیوں سے لاتعلق ہوکر ”جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو“ کے ورد وظیفہ میں مشغول تھے۔ اچانک میری نظر بلندیوں کی طرف جاتی ہوئی چڑھائی پر پڑی جس کا اختتام جیپ کی چھت کی وجہ سے مجھے نظر ہی نہیں آیا ۔میں نے اپنا منہ ونڈ شیلڈ سے چپکایا اور اسے صحیح ڈھنگ سے دیکھنے کی کوشش کی۔ یہ دیکھ کر میرا تراھ نکل گیا کہ چڑھائی کے اختتام پر خلا نظر آرہا تھا۔ میں نے فوراً ڈرائیور سے پوچھا ”ہارون صاحب یہاں روڈ ختم ہورہا ہے ؟“ ”نہیں نہیں تھوڑا مشکل موڑ ہے“ یہ کہہ کر ایکسیلیٹر دبا دیا۔ ”ارے جناب یہ کیا کررہے ہیں اتنا خوفناک موڑ ہے ذرا اسپیڈ تو آہستہ کریں“۔ ”دراصل میری گاڑی کا انجن تھوڑا کمزور ہے، اگر اسپیڈ آہستہ کروں گا تو موشن ٹوٹ جائے گا“ ڈرائیور صاحب نے میری طرف دیکھے بغیر روڈ میں نظریں گاڑے جواب دیا۔ میں گڑگڑانے لگا ”اے خداوند ذرا رحم“۔ گاڑی نے پوری اسپیڈ کے ساتھ 180 کے زاویہ پر انگریزی حرف U کی طرح دکھائی دینے والا موڑ کاٹا۔ میری آنکھیں بند ہوگئیں۔ ظاہر ہے جب سامنے سے خلا دکھے اور خلا کے بعد 6 ہزار فٹ کی گہرائی، پھر آنکھوں کا شٹر تو خود کار طریقے سے بند ہوجائیگا۔ آنکھیں کھلیں تو گاڑی پھر 90 درجے کے زاویے پر موڑ کاٹ رہی تھی۔ پیچھے والے دوستوں کی آہ و فغاں سنائی دے رہی تھی، مگر مڑ کر دیکھنے کی ہمت مجھ میں نہیں رہی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ گیسٹ ہاؤس کے مالک نے کچھ اتنا غلط بھی نہیں کہا تھا۔

تم میری کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟

”خان صاحب آپ کتنے عرصے سے اس راستے پر گاڑی چلارہے ہیں؟“ میں نے ہارون صاحب سے پوچھا۔ دراصل ہارون صاحب نے راستے میں اپنے گھر کے قریب گاڑی کھڑی کرکے ہمیں پانی وغیرہ پلایا تھا، جس کے بعد ہمارے ہوش کچھ ٹھکانے آئے تھے۔ اور اب چونکہ راستہ بھی کچھ آسان ہوگیا تھا تو میں ہارون صاحب سے سوال و جواب میں شروع ہوگیا۔ ”چپ کرکے نہیں بیٹھ سکتے تمہارے بولنے سے ہارون صاحب کا دھیان اِدھر اُدھر بھٹکے گا“۔ منیر صاحب نے غصے سے مجھے حکم دیا۔ ”نہیں نہیں آپ بولتے رہیں مجھے کچھ نہیں ہوگا، میں بیس سال سے اس راستے پر گاڑی چلا رہا ہوں، یہ میرے لیے کچھ مسئلہ ہی نہیں ہے، میں تو ایک ہاتھ سے بھی گاڑی چلالیتا ہوں“ یہ کہہ کر اسٹیئرنگ سے ایک ہاتھ نکالا اور صرف ایک ہی ہاتھ سے گاڑی کو ایک موڑ سے موڑنے لگے۔ میں نے فوراً خان صاحب کے دوسرے ہاتھ کو پکڑ کر اسٹیئرنگ پر رکھا۔ ”نہیں نہیں خان صاحب آپ تو دونوں ہاتھ چھوڑ کر بھی چلا سکتے ہیں، مگر خدا کے لیے اس وقت ہمارے اطمینان کے لیے دونوں ہاتھوں سے ڈرائیونگ کریں“ یہ سن کر ہارون صاحب کی انا مزید بلند ہوئی اور وہ زیادہ جوش و خروش سے اپنی مہارت کا مظاہرہ کرنے لگے۔ ہماری جیپ اس ہرے بھرے مٹی کے پہاڑ کی چوٹی کے قریب پہنچ چکی تھی جس کی کسی سیڑھی کی طرح ڈھلوان نما اترائی پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں مقامی لوگوں کی کاشت کی ہوئی گندم کے سنہری خوشے لہلہا رہے تھے، اور یہ لہلہاتے ہوئے سنہری خوشے سبز زمین کے ساتھ مل کر ایک ایسا حسین پورٹریٹ بنا رہے تھے جو دنیا کا کوئی بھی مصور وجود میں نہیں لاسکتا۔ مجھے سورہ رحمٰن کی آیت یاد آئی ”تم میری کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟“ اس اثنا میں ہارون صاحب نے گاڑی روکی اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے دور موجود ایک پہاڑی چوٹی کو دکھانے لگے جو اس وقت بادلوں کی جھرمٹ میں ڈھکی ہوئی تھی۔ ”یہ سامنے پائے ہے“ ہارون صاحب کہنے لگے۔ میں نے دوربین لگائی اور ویو فائینڈر گھماتے ہوئے پائے کو قریب کرنے لگا۔ پائے سے نیچے شوگراں کی خوبصورت ہوٹیلس اپنے سرخ کھپریل والی چھتوں کے ساتھ دکھائی دینے لگیں۔ مجھے ایسا لگا کہ اگر کوئی لمبا رسہ ہاتھ آجائے تو اسے پھینک کر بآسانی پائے پہنچا جاسکتا ہے۔ کیونکہ جہاں ہم کھڑے تھے وہاں سے پائے بلکل ہماری ہی بلندی پر موجود تھا، حالانکہ اترائیوں اور چڑھائیوں والے راستے کے ذریعے پائے کا مفاصلہ 38 کلومیٹر اور وقت نامعلوم تھا، کیونکہ برا وقت کبھی بھی بغیر بتائے آسکتا ہے۔

طلسم ہوشربا

اب جیپ روڈ ختم ہوچکا تھا اور ہارون صاحب کی ہدایات لینے کے بعد کہ کل صبح سات بجے اسی جگہ پر دوبارہ پہنچ جائیے گا، ہم ہارون صاحب کے بیٹے اور بھتیجے کی رہنمائی میں گاڑی کے سفر سے نجات ملنے پر مسرور پیادل چلے جارہے تھے، کیونکہ آگے کا تین کلومیٹر کا راستہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جیپ کے لیے بند تھا۔ ہم شڑاں کے جنگل میں پہنچنے کے بعد زمین پر موجود پھولوں کو چن کر گلدستے بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ چیڑھ کے لمبے درختوں کے درمیان کبھی کبھار سورج کی روشنی چھم چھم کرتی ہم تک پہنچتی اور پھر غائب ہوجاتی۔ آہستہ آہستہ بادل گھرتے جارہے تھے، بلکل سکوت و خاموشی کا راج تھا۔ کبھی کبھار کسی پرندے یا جانور کی آواز سنائی دیتی تھی۔ ہلکی بارش ہونے لگی اور بارش کے ننہے منہے قطرے درختوں اور پھولوں پر گر کر حسین جلترنگ بجانے لگے۔ اسی اثنا میں ہمارا راستہ پہاڑ کی قربت چھوڑ کر میدان کا رخ کرچکا تھا جس میں درمیانے قد کے ہرے بھرے درخت کثرت سے موجود تھے۔ اس میدان کے بیچوں بیچ سے دونوں طرف باڑھ لگا ایک راستہ یوتھ ہوسٹل کی طرف جارہا تھا۔ دونوں طرف کے درخت ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے مستی میں جھوم رہے تھے اور اس حسین راستے پر خوشی سے بھرپور کچھ انسان چلے جارہے تھے۔ راستے کے اختتام پر وہ لان موجود تھا جس کی سبز نچڑتے ہوئے گھاس کی رنگت دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ابھی ابھی کسی برش کے ذریعے اس پر سبز رنگ کا پینٹ کردیا گیا ہو۔ لان کے سامنے یوتھ ہوسٹل کی عمارت تھی۔ ڈھلوان چھت والی یہ دلکش عمارت لان کے علاوہ باقی تینوں اطراف سے خوبصورت درختوں میں گھری ہوئی ہمارے استقبال کے لیے اپنے بازو وا کیے کھڑی تھی۔ چوکیدار نے ہوسٹل کھولا۔ دروازے کے دائیں طرف ڈائننگ ہال بمع کچن و دو رہائشی کمروں کے موجود تھا اور مین دروازے کے بائیں جانب ایک لمبا رہائشی ہال تھا جس میں فولڈنگ چارپائیاں لگی ہوئی تھیں۔ ہم نے ہال میں دھرنا دینے کو سوچا اور الگ الگ چارپائی پر اپنا اپنا ہلکا پھلکا سفری سامان رکھ کر قبضہ جمالیا۔ چوکیدار صاحب نے ہماری پارس سے لائی ہوئی مرغی رات کے ڈنر کے لیے رکھی اور فی الوقت ہمارے لیے دال اور انڈوں کا سالن تیار کرنے لگے۔ اسی دوران دوست شڑاں کی خوبصورتی کے بارے میں اپنی رائے دینے شروع ہوئے۔ لاکھیر صاحب نے کہا میں نے زندگی میں کبھی ایسی جگہ دیکھنے کا تصور تک نہیں کیا تھا۔ الطاف ہالائی کہنے لگا واقعی یہ جگہ خوابوں میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ طیب صاحب جو یہاں پہنچتے ہی اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے لگتے تھے اچانک کہنے لگے کہ دنیا میں اگر کسی جگہ پر گھر بنانے کا سوچا جائے واقعی وہ یہی جگہ ہوسکتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ان سب کی رائے بالکل درست تھی۔ یہ جگہ تصورات و تخیلات سے بھی آگے لگ رہی تھی۔ میں اٹھا اور ہال کی باہر کھلنے والی کھڑکی کو کھولا۔ کھڑکی کھلتے ہی مجھے یوں لگا جیسے جنت کے سامنے پڑا ہوا پردہ ہٹ گیا ہو۔ باہر موجود ماحول مکمل طرح سے ابر آلود ہوچکا تھا۔ بادل آسمان سے نیچے اتر آئے ہوئے تھے اور چیڑہ کے درختوں سے اٹھکلیاں کرتے پھر رہے تھے۔ بلند و بالا درختوں کی چوٹیاں بادلوں سے ڈھک گئیں تھیں اور ہلکی ہلکی پھوار جاری تھی۔ پودوں اور پھولوں کے خوبصورت پتوں پر بارش کے قطرے موتیوں کے طرح اٹکے ہوئے تھے۔ ہاسٹل کی عمارت جو پھولوں اور چیڑھ کے درختوں سے گھری ہوئی تھی اس حسین ترین موسم کے ساتھ ایک عجیب اور طلسماتی قسم کے ماحول کا حصہ لگ رہی تھی۔ جس کو دیکھتے ہوئے صرف میری آنکھیں دیوانگی سے ادھر ادھر گردش کر رہی تھیں، باقی جسم کا ہر عضوہ ساکت تھا کہ کہیں سانس لینے سے بھی اس ماحول میں فرق نہ آجائے۔

آخری ورق

رات ہوچکی ہے اور میں سردی کی وجہ سے دو کمبل اوپر ڈالے سردی سے کانپتا ہوا سونے کی کوششوں میں مصروف ہوں۔ بارش کی بوندیں ہوسٹل کی چھت پر مسلسل گرتے ہوئے کن من کا شور مچائے جارہی ہیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد میں اور منیر صاحب شڑاں کے ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر موجود جھیل کو دیکھ کر مغرب کے بعد ہاسٹل میں پہنچے ہیں۔ جھیل کی طرف جاتے ہوئے ہم اس جنگل سے گذرے جو شعورکے آخری لمحوں تک میرے خیالوں کا ایک حصہ رہے گا۔ اس جنگل میں موجود درختوں کی چھت اتنی گھنی تھی کہ دوپہر کے تین بجے بھی آسماں کا نظر آنا محال تھا۔ جنگل کے اندر اندھیرا چھایا ہوا تھا، مگر اندھیرا بھی ایسا جو نظروں کے ساتھ روح کو بھی بے حد بھلا محسوس ہورہا تھا۔ زمین پر ہر طرف پھول بکھرے ہوئے تھے اور اتنے لاتعداد پھول کہ کوئی ایسی جگہ نہ ملتی تھی جہاں پاؤں رکھ کر پھولوں کو کچلنے سے بچایا جائے۔ اس جنگل کے درمیاں چلنا ایک خوشگوار ترین احساس دے رہا تھا۔ حالانکہ ہاسٹل کے چوکیدار نے ہمیں خبردار کیا تھا کہ اس جنگل میں بھیڑیے، ریچھ اور چیتے سمیت متعدد خونخوار جانور پائے جاتے ہیں اور وہ جھیل جس کو دیکھنے کے لیے ہم نے اتنے کشالے کاٹے تھے، ساڑھے تین گھنٹے کا پیادل سفر کیا تھا، بار بار تھک کر بیٹھے تھے، اس سرد ماحول میں بھی پہاڑ کی چڑھائی نے ہمارے جسموں سے پسینے کی دھاریں بہائی تھیں۔ مگر جب اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو اس جھیل نے سب تکلیفوں کی حق ادائیگی کردی۔ ننھی منی سی مختصر جھیل جسے میں نے اور منیر صاحب نے مذاق مذاق میں عباسی جھیل کا نام دیا تھا، پہاڑ کی چوٹی پر پیالہ نما صورت بنائے بنی ٹھنی ہمارے استقبال کے لیے موجود تھی۔ جھیل کے کنارے پر موجود لاتعداد پھولوں کی قطاروں کی خوشبوئیں ہمارے دل و دماغ کو معطر کرنے کے ساتھ ہمارے حواسوں پر بھی چھائی جارہی تھیں۔ اس جگہ سے پوری وادی شڑاں ہماری نظروں کے سامنے بچھی ہوئی تھی۔ وادی کا اکثر حصہ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور ہم ان بادلوں سے بھی اوپر پہاڑ کی چوٹی پر اس پیالہ نما جھیل کو دیکھتے تھکتے نہ تھے۔ گویا کہ زندگی رک سی گئی تھی۔ مگر یہ بھی آج کی گذری ہوئی شام کا قصہ ہے۔ اس وقت رات کا اولین حصہ گذر چکا ہے۔ اس سفر میں شامل ہر فرد مایوسی اور مغمومی سے بلکل خاموش ہے۔ کسی کے پاس کہنے کے لیے سوائے غم کے کچھ بھی نہیں۔ صبح کو ہونے والی واپسی سب کے حواسوں پر سوار ہے۔ رات کا کھانا کھلا کر چوکیدار ہمیں دو دو کمبل دے کر روانا ہوچکا ہے۔ ہم اس سنسان، تنہا مگر حسین جگہ پر کمبل اوڑھے لیٹے ہوئے ہیں۔ مجھے خیال آرہا ہے کہ شاید اس مرتبہ کنہار کے کنارے کے بجائے میری قسمت میں شڑاں کی حسیں وادی لکھی گئی تھی اور تقدیر کے اس فیصلے پر میں بہت خوش ہوں۔ صرف صبح کو اس جگہ سے جدائی کا غمزدہ احساس قبرستان کے سناٹے کی طرح میرے اندر پھیلتا جارہا ہے۔ ختم شد