فہرست الطاہر شمارہ نمبر 47
رمضان 1428ھ بمطابق اکتوبر 2007ع

درس حدیث

فضائل سخاوت و مذمت بخل

شیخ الحدیث علامہ محمد عثمان جلبانی طاہری

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم مامن یوم یصبح العباد فیہ الاملکان فیقول احدھما اللّٰھم اعط منفق خلفا ویقول الاٰخر اللّٰھم اعط ممسکا تلفا۔

(متفق علیہ مشکواۃ المصابیح، بان فضل الصدقۃ وکراھۃ الامساک)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر دن صبح کے وقت آسمان سے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ روکے رکھنے والے کو ہلاکت عطا فرما۔ (یہ روایت بخاری شریف اور مسلم شریف دونوں میں موجو د ہے)

تشریح

واضح رہے کہ دنیا کے فتنے شاخ در شاخ اور نہایت ہی وسیع اور فراخ ہیں، لیکن سب سے بڑا فتنہ دنیا کا مال و متاع ہے۔ اگر مال نہ ہو تو کفر تک پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے، اگر مال ہو تو باعث سرکشی ہوتا ہے۔ غرض کہ مال میں فائدے بھی ہیں تو نقصان بھی۔

مالی فائدہ منجیات (چھٹکارے) میں داخل ہیں اور مالی نقصان مہلکات ہیں اور مال سے یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ فلاں مال بہتر ہے اور فلاں برا ہے، سوائے ارباب دین اور اہل اللہ کے کوئی بھی نہیں معلوم نہیں کرسکتا۔ لہٰذا مال کے خیر کی صورت یہ ہے کہ آدمی کے پاس اگر مال نہ ہو تو قانع رہے اور اگر مال ہو تو ایثار اور سخاوت کرنے میں کوتاہی نہ کرے اور بخل اور امساک سے کوسوں دور رہے۔ کیونکہ سخاوت انبیاء علیہم السلام کے اخلاق میں سے ہے اور نجات کی اصل الاصول میں سے بھی ہے۔ بہرحال اس ارشاد نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰت والسلام سے وہ لوگ درس حاصل کریں جو اپنے مال و زر سے خیرات نہیں نکالتے اور راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے، صرف اپنے لیے راحت و آسائش کے ذرائع مہیا کرتے ہیں مثلاً عالیشان عمارات بنانا اور انہیں مزین کرنا یا ایسے ہی سامان تعیش پر بے تحاشا مال خرچ کرنا۔ مگر ان پر دوسرے لوگوں کے جو حقوق ہیں وہ ان کی حق ادائیگی تو کیا کرتے، اس طرف ان کا دھیان بھی نہیں جاتا، اور یہ شرعی اور اخلاقی لحاظ سے انتہائی غلط ہے۔ فقط شریعت و اخلاق میں ہی نہیں بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی انتہائی غلط ہے۔ عقل و دانش اور انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے بھی کیا یہ بات گوارا کی جاسکتی ہے کہ ایک شخص حرص و ہوس کا پتلا بن کر اپنی تجوریاں بھرتا رہے، مال و زر کے انبار لگاتا رہے، مگر ایک دوسرا شخص اس کی آنکھوں کے سامنے سوکھی روٹی کے لیے بھی محتاج ہو اور پھر بھی اس کی تجوریوں کا منہ نہ کھلے؟ ایک غریب بھوک و افلاس کا مارا دم توڑ رہا ہو مگر اس کے اندر اتنی بھی ہمدردی نہ ہو کہ اس غریب کو کھانا کھلا کر اس کی زندگی کے چراغ کو بھجنے سے بچائے؟
جی ہاں آج کے دور میں جبکہ مساوات اور انسانی بھائی چارگی و ہمدردی کے نعرے ہر وقت فضا میں گونجتے رہتے ہیں، مگر کوئی نہیں دیکھتا کہ مال و زر کے بندے جو اپنی ادنیٰ سی خواہش کے لیے بھی اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں اپنی دنیاوی آسائش و راحت کی خاطر مال و زر کے تختے بچھادیتے ہیں، مگر جب بھوک و پیاس سے بلکتا انہیں جیسا کوئی انسان ان کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے تو ان کی جبیں پر بل پڑجاتے ہیں اور ان کے منہ سے نفرت و حقارت کے الفاظ ابلنے لگتے ہیں۔ وہ شقی القلب یہ نہیں سوچتے کہ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو خود ان کے جذبات کیا ہوتے؟ لہٰذا جنگ زر گری مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانی برادری کے لیے مہلک ہے اور یہ ارشاد گرامی سب کے لیے ایک دعوت عمل اور سخی کے لیے مژدہ اور بخیل کے لیے مقام فکر ہے۔

غرضیکہ حدیث میں ہے کہ راہ خدا میں خرچ کرنے والے کے لیے فرشتہ بارگاہ الٰہی میں دعا کرتا ہے کہ ”اے اللہ جو تیری راہ میں لٹاتا ہے اسے بدلہ عطا فرما“۔ فرشتہ یہ دعا نہیں مانگتا کہ اسے مال عطا فرما بلکہ عام دعا ہے جو ہر نعمت و بھلائی کو شامل ہے۔ شارحین فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے مراد عام ہے، مال ہو، اولاد ہو، خواہ عزت و وقار ہو۔

اور بخیل کے لیے بھی اسی طرح کی بددعا ہے کہ اس کو ہلاکت دے، یہ بیان نہیں کہ کونسی ہلاکت مراد ہے؟ یا فقط اس کے مال کو ہلاک کر۔ مطلب یہ ہے کہ اے اللہ اس کے مال کو ختم کر، اس کی عزت و وقار اور راحت و سکون کو ختم کر۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ بخیل لوگوں کی نظرمیں حقیر و گھٹیا آدمی ہوتا ہے اور یہ تو اس کا اس جہان فانی میں حال ہے اور یہ بھی اندازہ کیجیے کہ سکرات و قبر میں اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا؟

فضائل سخاوت

حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم الدین میں ایک روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے، جو سخی ہوتا ہے وہ اس کی شاخ پکڑلیتا ہے اور اس کے ذریعے سے جنت میں داخل ہوتا ہے۔ اور بخل بھی ایک درخت ہے جو دوزخ میں ہے۔ بخیل اس کی ٹہنی کو پکڑلیتا ہے یہاںتک کہ وہ شاخ اس کو دوزخ میں ڈال دیتی ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا مجھے جبریل علیہ السلام کی معرفت اللہ تعالیٰ کا یہ قول پہنچا ہے کہ اسلام وہ دین ہے جس کو میں نے اپنے لیے پسند کیا ہے اور اس کی صلاحیت سخاوت اور حسن خلق میں منحصر ہے، پس تم کو چاہیے کہ ان دونوں چیزوں سے جس قدر ہوسکے اسلام کی تعظیم کرو۔ ایک اور روایت میں ہے جب تک اسلام کے ساتھ رہو ان چیزوں (سخاوت اور حسن اخلاق) کے ساتھ اس کا اکرام کرو۔

ایک اور روایت ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فرماتی ہیں آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے سب اولیاء کو سخاوت اور حسن خلق پر ہی پیدا فرمایا ہے۔ اس ارشاد گرامی کا عین الیقین بلکہ حق الیقین ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے مشائخ طریقت کی سخا جس کی مثال موجودہ دور میں کسی اور جگہ شاید ہی ملے۔ لنگر کا اہتمام ہمیشہ اور ہر عام و خاص، مسافر مقیم کے لیے یکساں جاری رہتا ہے۔ خصوصاً اس عظیم دینی درسگاہ کے بھاری اخراجات کا بوجھ ہمارے پیر و مرشد حضور قبلہ عالم حضرت سجن سائیں دامت برکاتہم العالیہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں، جن میں امیر و غریب، سفید پوش اور خستہ حال ہر طبقہ کے بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہوکر اپنی زندگیاں سنوارتے ہیں، اوروں کی اصلاح کا سامان بھی حاصل کرتے ہیں۔

ایک مرتبہ آقائے دو عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی عنبر کے قیدی لائے گئے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے سب لوگوں کو قتل کرنے کا حکم فرمایا مگر ایک شخص کو مستثنیٰ فرمایا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ ایک، اس کا دین بھی ایک اور جو گناہ ان لوگوں نے کیا ہے، وہ بھی ایک ہے، پھر یہ شخص اپنی قوم والوں سے کس طرح علیحدہ ہوا اور قتل ہونے سے بچ گیا؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ ان سب کو قتل کردو اور اس شخص کو چھوڑدو کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی سخاوت مشکور ہے۔

حضرت حسان اور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آنحضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت سخی کا گھر ہے۔

سخاوت کے دو قسم ہیں، دنیاوی سخاوت اور دینی سخاوت۔ دنیاوی سخاوت اسے کہتے ہیں کہ بغیر کسی مطلب و غرض کے دوسرے لوگوں کو دینا، حقیقتاً وہ بھی سخی ہے لیکن یہ کسی کے بس کی بات نہیں کیونکہ یہ صفت اللہ پاک کی ہے۔ البتہ جب انسان ثواب آخرت اور نیک نامی پر اکتفا کرے تو مجازاً اس کو سخی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ بالفعل اپنا مال خرچ کرنے کے بدلے میں کوئی غرض نہیں چاہتا۔ دنیاوی سخاوت اسی کو کہتے ہیں۔

دینی سخاوت یہ ہے کہ خدا کی محبت میں اپنی جان نثار کرے اور اس کے عوض ثواب آخرت کا طالب اور امیدوار نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اور جان نثاری کا باعث ہو اور خود کو فدا کرنا اپنا فرض عین سمجھے اور اس کو ایک بڑی نعمت اور لذت سمجھے۔ کیونکہ جب کسی بات کی امید رکھی جائے تو یہ معاوضہ ہوگا، سخاوت نہیں ہوگی۔ اور حقیقت میں سخی وہ لوگ ہیں کہ عنداللہ سخی ہیں اور ایسے لوگ آج کے دور میں کہاں ہیں؟ ہاں اگر ہم خطہ ارضی پر تلاش کرتے ہیں اور اپنی نظر و فکر کی سواری دوڑاتے ہیں تو سندھ کی سرزمین پر ایک ہستی نظر آتی ہے۔ وہ ہیں میرے مرشد مربی مجدد وقت حضرت قبلہ سجن سائیں دامت برکاتہم العالیہ فیوضاتہم جن کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے۔ اور وہ فقط سخی ہی نہیں سخی الاسخیاء ہیں۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی خدا کی محبت اور راہ خدا میں وقف کر رکھی ہے اور اپنے ہر متعلق و مرید اور مقرب کو یہی درس دیتے ہیں کہ اپنی زندگیاں محبت خدا اور راہ خدا میں لٹادو۔

بخیل کون ہے؟

میرے دوست ہر شخص اپنے آپ کو سخی خیال کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ لوگ اسے بخیل تصور کرتے ہوں، اس لیے اس کی حقیقت کو پہچاننا لازمی ہے، کیونکہ یہ بہت بڑی بیماری ہے اور اس سے بچنا نہایت ضروری ہے۔

بخیل کی تعریف کے متعلق بہت سے اقوال ہیں لیکن اکثر کا قول یہ ہے کہ جس شخص پر کوئی چیز شرعاً واجب ہو وہ نہ دے تو بخیل ہے اور اگر دے لیکن بغیر تقاضے کے نہ دے تو بھی بخیل ہے۔ لیکن امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ درست نہیں، کیونکہ ہمارا مذہب ہے کہ جس شخص کے لیے قاضی نے زن و فرزند کا نان نفقہ مقرر کیا ہے وہ صرف اتنا ہی دے اور اضافہ نہ کرے وہ بخیل ہے۔ پس حقیقت میں بخیل وہ ہے کہ جو چیز دینے کے لائق ہو اس کو بوقت نہ دے۔ کیونکہ حق تعالیٰ نے مال کو ایک حکمت کی خاطر پیدا کیا ہے۔ پس جب حکمت الٰہی کا منشا ہے کہ دیا جائے اور وہ نہیں دیتا تو یہی بخل کی نشانی ہے۔ اور دینے کے لائق وہ چیز ہے جس کا شرع یا مروت حکم دے۔

شرعی واجبات تو معلوم اور معین ہیں، لیکن مروت کے واجبات اور مروت کے تقاضے لوگوں کے احوال اور مقدار اور بخل کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ بہرحال اگر کسی نے واجبات شرعیہ اور واجبات مروت دونوں کو پورا کرنا لازمی سمجھا تووہ بخل سے تو بچ گیا لیکن اسے سخاوت کا درجہ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ درجہ اس وقت ملے گا جب واجبات مروت سے زیادہ خرچ کرے اور اسمیں وہ جتنا زیادہ خرچ کرے گا اسی قدر اس کا مرتبہ سخاوت میں بڑھے گا اور اجر پائے گا۔

مذمت بخل

بخل کی قرآن و حدیث میں برائی بیان کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ ”جس کو حق تعالیٰ نے بخل سے محفوظ رکھا اس کی نجات ہوگئی“۔ ہمارے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ بخل سے دور رہو کیونکہ تم سے پہلے جو قوم تھی وہ بخل کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ بخل نے ان کو خونریزی پر آمادہ کیا اور انہوں نے خون کیے اور حرام کو حلال ٹھہرایا۔ اور فرمایا تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں: ایک بخل اگر تو اس کی مخالفت نہ کرے اور اس کا مطیع ہوجائے، دوسری وہ باطل چیز ہے جس کا تو پیچھا کرے، تیسری خود پسندی۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سخی گنہگار خدا کے نزدیک عابد بخیل سے بہتر ہے۔

احیاء العلوم الدین میں ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا کہ ایک شخص کعبہ کے پردہ سے لپٹا ہوا کہہ رہا ہے کہ الٰہی بحرمت اس خانہ کعبہ کے میرا گناہ معاف کر۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تیرا کونسا گناہ ہے، مجھ سے بیان کر۔ اس نے عرض کیا کہ میری خطا بیان کرنے سے زیادہ ہے۔ پھر فرمایا کہ تیری خطا زیادہ ہے یا زمین کے تمام طبقات؟ عرض کیا میری خطا زیادہ ہے۔ پھر فرمایا تیرا قصور زیادہ ہے یا پہاڑ؟ عرض کیا میری خطا زیادہ ہے۔ پھر فرمایا تیرا قصور زیادہ ہے یا سمندر؟ اس نے عرض کیا میرا قصور زیادہ ہے۔ پھر فرمایا کیا تیرا گناہ بڑھ کر ہے یا سب آسمان؟ عرض کیا کہ میرا گناہ بڑھ کر ہے۔ پھر فرمایا تیری تقصیر زیادہ ہے یا عرش؟ اس نے عرض کیا میری تقصیر۔ آپ نے فرمایا تیرا گناہ بڑا ہے یا خداوند کریم ؟اس نے عرض کیا خداوند کریم سب سے بڑا ہے۔ آپ نے فرمایا تیرا برا ہو اس کو مجھ سے بیان کر۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں مالدار آدمی ہوں، مگر جب سائل مانگنے آتا ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا میرے آگ کا شعلہ میرے سامنے ہے۔ تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے دور ہوجا اپنی آگ سے مجھ کو مت جلا۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ کو ہدایت اور کرامت کے ساتھ بھیجا ہے، اگر تم رکن اور مقام کے درمیان کھڑے ہو کر دس لاکھ برس نمازیں پڑھو پھر اتنا روؤ کہ تیرے آنسوؤں سے نہریں بہنے لگیں اور درخت سیراب ہوجائیں اور پھر بخل کی حالت میں تیری موت ہو، پھر بھی خداوند کریم تجھ کو جہنم میں اوندھے منہ ڈالے گا۔ تیرا برا ہو کیا تجھے معلوم نہیں کہ بخل کفر کا ایک حصہ ہے اور کفر دوزخ میں رہے گا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو بخل کرتا ہے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتاہے۔

بہرحال زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ آج ہی راہ خدا میں نیک اور بہترین مصرف میں خصوصاً ایسے مسافر جو تعلیم دین حاصل کرنے کے ساتھ ذاکر اور صابر ولی کامل کی صحبت و سایہ شفقت تلے ہوں، اپنا مال و زر خیرات کرکے بخیلی سے تائب ہوکر سخی مرد بن جاؤ۔

وما علینا الا البلاغ۔ اللّٰہم تقبل منی بحرمت خیر الانام وصل علیہ وعلیٰ اٰلہ الکرام واصحابہ العظام۔