فہرست الطاہر شمارہ نمبر 47
رمضان 1428ھ بمطابق اکتوبر 2007ع

درس قرآن

اتباع رسول صلّی اللہ علیہ وسلم

شیخ التفسیر علامہ حبیب الرحمٰن گبول صاحب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وَاعْلَمُوا أَنَّ فِیکُمْ رَسُولَ اللَّہِ لَوْ یُطِیعُکُمْ فِی کَثِیرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْاِیمَانَ وَزَیَّنَہُ فِی قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ أُوْلَئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُونَ ۝ فَضْلًا مِّنَ اللَّہِ وَنِعْمَۃً وَاللَّہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ۝

ترجمہ: اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں۔ بہت سی باتوں میں اگر وہ تمہارا کہنا مانیں تو تمہیں تکلیف پہنچ جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنالیا اور اسے تمہارے دلوں میں مرغوب بنالیا، اور تمہیں کفر، گناہ اور نافرمانی سے نفرت دیدی۔ ایسے لوگ ہی راہ راست پر ہیں، اللہ کے فضل و احسان سے، اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے۔

رابطہ اور شان نزول

سابقہ آیات میں یہ بیان ہوا تھا کہ قبیلہ بنی مصطلق کے لوگ اسلام پر مضبوطی سے عمل پیرا تھے، لیکن حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک یہ بات پہنچی تھی کہ وہ اسلام سے مرتد ہوچکے ہیں، چنانچہ غیرت ایمانی کی بنا پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں غیر معمولی اشتعال پیدا ہوا، اور انہوں نے مذکورہ قبیلہ سے جہاد کی ٹھان لی۔ خوش قسمتی سے حضرت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد نیز اسی سلسلہ میں قرآنی تصدیق پاکر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا غصہ فرو ہوا۔ لیکن اب انہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ بنی مصطلق قبیلہ پر حملہ کرنے کی ترغیب دینے والے کہیں گناہ گار نہ قرار پائیں۔ ان کے اس وہم کو دور کرنے کے لیے خداوند عزوجل نے یہ آیات نازل فرما کر تسلی دے دی کہ چوں کہ تمہارے دلوں میں ایمان سے محبت اور کفر و فسق سے نفرت ہے، قبیلہ مصطلق کے خلاف جہاد کی ترغیب یا تیاری کسی نفسانی خواہش کی بنا پر نہیں تھی بلکہ تمہارا غصہ رضائے الٰہی کی خاطر تھا، تو تم گمراہ نہیں ہدایت یافتہ ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کا تمہارے اوپر فضل و احسان ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اس جانب اشارہ ہے کہ دین و ایمان سے محبت اور گناہوں سے نفرت اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور یہی ایک مومن کی شان ہے کہ ہر طرح کی نیکی سے الفت، اور برائی سے دوری اور نفرت رکھے۔ اور اس کو بھی اپنی اہلیت و لیاقت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم سمجھے کہ اس نے نیک عمل اور عقیدہ صالح کی دولت سے نوازا۔
آیت مبارکہ میں یہ صراحت کی گئی کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اگر صحابہ کرام کے ہر مشورے پر عمل کریں تو ان کے لیے یہ بات باعث تکلیف بن سکتی ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارے لیے جملہ امور میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری مفید و نافع ہے، گو بظاہر تمہاری رائے ہی درست ہو۔ یہ اس لیے کہ امور دنیویہ ہوں خواہ دینیہ، آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی رائے مبارک ہی مناسب و برمحل ہوگی، خواہ وقتی طور پر تمہاری رائے ہی مصلحت کے مطابق معلوم ہوتی ہو، لیکن اس میں غلطی کا قوی امکان ہے۔ اگر تم لوگ اپنی رائے کو پس پشت ڈال کر آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرو گے تو دوسرے فوائد کے علاوہ اطاعت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی بدولت یقینا اجر و ثواب کے مستحق بنو گے جس کا نعم البدل اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشورہ طلب امور میں اپنے قائد کے سامنے اپنی رائے ظاہر کرنا درست ہے لیکن منوانے کی کوشش کرنا غلط ہے۔

تیری طلب ہے کہ تقدیر بدل جائے
میری طلب ہے کہ تو خود بدل جائے

لہٰذا قبیلہ بنی مصطلق کے مرتد ہونے کی خبر سن کر تمہارا غصہ ایمان غیرت کی بنا پر سہی لیکن درست نہیں تھا، بہتر اور صحیح صورت وہی تھی جو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کی کہ پہلے جاکر تحقیق کرو، اگر وہ ایمان پر قائم ہیں تو ان کوکچھ نہ کہو۔

اس آیت مبارکہ سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مومن کامل کو اگر کسی سے محبت ہو تو خدا کے لیے، اور غصہ نفرت ہو تو بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے۔ ذاتی اور نفسانی مفادات و خواہشات کا اس میں عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ نیز یہ کہ آدمی بدل و جان گناہ سے نفرت کرے، ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے شرم یا عذاب الٰہی کے ڈر کی وجہ سے گناہ تو نہیں کرتے (گو یہ بھی غنیمت ہے) لیکن دل سے چاہتے ہوں کہ کاش یہ اسلام میں جائز ہوتا، یا کسی نیک کام کے سلسلے میں جی یہ چاہے کہ کاش یہ لازم نہ ہوتا وغیرہ، کہ یہ بھی کمال ایمان کے خلاف ہے۔ قرب الٰہی کے حصول کے لیے مأمورات سے قلبی محبت اور منہیات سے قلبی نفرت کی ضرورت ہے۔

اللّٰہم حبب الینا الایمان ووفقنا فعل الخیرات وکرہ الینا الکفر والفسوق والعصیان ووفقنا ترک المنہیات۔