فہرست الطاہر شمارہ نمبر 47
رمضان 1428ھ بمطابق اکتوبر 2007ع

اداریہ

توجہ طلب

ہماری اس عمر مختصر میں اللہ تعالیٰ کا انعام رمضان المبارک کی صورت میں ایک بار پھر ہمیں غفلت کی نیند سے جگانے کے لیے آچکا ہے۔ اس ماہ متبرک میں ہمیں جتنے انعامات و اکرامات حاصل ہوتے ہیں اس کا اندازہ کرنا ممکن نہیں۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ رمضان المبارک کی فضیلت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے تھے کہ دکانداروں کے لیے عیدین و شادی بیاہ کے مواقع کمانے کی سیزن ہوتے ہیں، وہ ان دنوں کا خاص انتظار کرتے ہیں کہ ہمیں خوب کمائی کا موقعہ ملے گا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ فقیرو! رمضان المبارک اسی طرح ہمارے لیے کمائی کا سیزن ہے، جس نے بھی نیکیوں کی کمائی کرنی ہے وہ ماہ رمضان کو ضایع نہ کرے۔ اگر کوئی بے توجہی یا سستی وکسالت کی وجہ سے اس ماہ میں نیکیاں حاصل نہ کرسکا تو اس سے بڑا خسارے والا شخص کوئی نہیں ہوسکتا۔ رمضان المبارک کی طرف توجہ دلانے کے لیے ایک ولی کامل کے ان الفاظ سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ جس طرح اگر کوئی دکاندار اپنی کمائی کی سیزن میں کمائی نہیں کرے گا اور سستی و بے توجہی برتے گا تو اس کے لیے معاش دنیا تنگ ہوجائے گی اور زندگی گذارنا عذاب۔ اسی طرح اگر کوئی شخص رمضان المبارک کے دوران بھی غفلت کی نیند سے بیدار نہ ہوا اور رمضان المبارک بے توجہی سے گذار دیا تو اس کے لیے بھی آخرت تنگ ہوجائے گی اور نجات کا حصول ناممکن۔ اسی لیے ہم پر لازمی ہے کہ اس ماہ مقدس میں نیکیوں کے حصول کے لیے بھی پوری کوشش کریں۔ نہ صرف نماز باجماعت، تراویح، اشراق، صلوٰۃ التسبیح، تلاوت قرآن مجید اور تسبیحات کی طرف خاص توجہ دیں، بلکہ ہمارے مرشد و مربی حضرت محبوب سجن سائیں کے فرمان کے مطابق رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی اپنے اوپر لازم کرلیں۔ اور صرف یہ عبادات کرکے یہ گمان نہ کریں کہ آپ نے روزہ کی حق ادائیگی کردی ہے بلکہ حقوق العباد کا بھی بھرپور خیال رکھیں۔ کسی بھی شخص کو دانستہ یا نادانستہ تکلیف پہنچانے سے مکمل گریز کریں، بدگوئی، گلا اور غیبت کو اپنے اوپر حرام کرلیں اور اپنے خواہ غیروں سے شفقت اور نرمی سے پیش آئیں۔ اور خصوصاً عیدالفطر کے موقعہ پر غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بیواؤں اور ناداروں، بالخصوص پڑوسیوں کا خاص خیال رکھیں۔ اس طرف مکمل توجہ رکھیں کہ کہیں آپ کے پڑوس میں کوئی ایسا غریب یا بے بس تو نہیں بستا جس کے پاس عید کے دن خوشی منانے کا کچھ اسباب نہیں ہے۔ اگر ایسا کوئی فرد آپ کے پڑوس میں موجود ہے تو اسے خدا کا انعام سمجھیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کی مدد کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ آگے بڑھ کر اس کی ضرور مدد کریں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عید کے دن آپ کے گھر سے کھانے پینے کی چیزوں کی آنے والی خوشبوئیں اور آپ کے اور اہل خانہ کے تن پر سجے خوبصورت کپڑے کہیں اس بے بس و مسکین کی دل سے نکلنے والی آہ کا سبب نہ بن جائیں۔