فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

جس پر عاشق خود ہوا

حضرت خواجہ محمد طاہر المعروف محبوب سجن سائیں بخشی نقشبندی مدظلہ العالی

 

دوستو! کیا میرے حالات اور اوقات اس قابل ہیں کہ سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی محبوب پیاری اور مقدس زندگی پر قلم اٹھاؤں؟ ہرگز نہیں۔ نہ میری ایسی حیثیت ہے اور نہ ہی حقیقت۔ نہ اتنا علم ہے اور نہ فہم۔ احباب کے اسرار پر ان کی نجی زندگی کے چند گوشے عیاں کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ محبوب کی بارگاہ میں مقبول ہوں۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

پاٻوڙو پيش ڪيو، نئون نوريءَ نيئي،
حاضر هيون هڪيون، سميون سڀيئي،
نوازي نيئي، گاڏي چاڙهي گندري.

”نوری نے بادشاہ کو کنول کا پھول کچھ اس ادا سے پیش کیا کہ بادشاہ اس پر فریفتہ ہوگیا اور اسے انعام و کرام سے نوازا، حالانکہ کہنے کو تو بادشاہ کے ارد گرد رانیوں اور خواتین کی کمی نہ تھی لیکن نوری کی دل لبھانے والی ادا کو دیکھ کر اس نے نواز دیا“

آپ کی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی محبت، فرماں برداری اور سچے سردار سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں گذری۔ ہم ظاہر بینوں کے سامنے آپ کی شخصیت کا صرف یہی رخ ہے کہ آپ طالب مولیٰ اور عاشق مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم تھے لیکن حقیقت میں آپ مطلوب و معشوق تھے جیسا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی اس سلسلے میں فرماتے ہیں

عاشق سي چئجن، جن تي عاشق پاڻ ٿيو،
اهڙي رنگ رچن، سي عاشق معشوق ٿيا.

”عاشق وہ ہوتے ہیں جن پر معشوق بھی عاشق ہوجاتے ہیں، یعنی آدمی اپنے اندر ایسا عشق اور جذبہ پیدا کرے، ایسے اوصاف اور ایسا رنگ اختیار کرے کہ جو عاشق ہے وہ خود معشوق بن جائے۔“

واقعی اللہ تعالیٰ کے عشق کا دعویٰ ہر شخص بالواسطہ یا بلاواسطہ کرتا ہے، خواہ اس کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو۔ لیکن سچے عاشق، کمانے والے، جان گنوانے والے، پروانے کی طرح فدا ہونے والے، راضی برضا رہنے والے، عاشقوں کی منزل پر پہنچنے والے معدودے چند ہی ہوتے ہیں۔ لیکن بعض اونچی شان والے جو پیدائشی طور پر کامل اور اکمل ہوتے ہیں، ازل سے ہی ان کے سینوں میں راز و اسرار پنہاں و پوشیدہ ہوتے ہیں۔ بچپن سے ان کا کردار ”فاتبعونی یحببکم اللہ“ کی مثال ہوتا ہے۔ یہی وہ ازلی خوش قسمت اور سعید روحیں ہوتی ہیں جن کے بارے میں شاہ عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

آگي ڪيا اڳهين، نسورو ئي نور،
لا خوف عليهم ولاهم يحزنون، سچن ڪونهي سور،
مولا ڪيو معمور، انگ ازل ۾ ان جو.

”وہ پیدائشی اور فطری طور پر نور علیٰ نور ہیں۔ ایسے ہی سچے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’لاخوف علیہم ولاہم یحزنون‘ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی غم، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ازل سے ہی نواز دیا ہے“۔

شاہ بھٹائی صاحب کا یہ شعر قابل غور ہے۔

عاشق سي چئجن، جن تي عاشق پاڻ ٿيو،
اهڙي رنگ رچن، سي عاشق معشوق ٿيا.

اس شعر میں شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عجیب راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ سچا عاشق وہی ہے جس پر معشوق بھی ایک دن عاشق ہوجائے۔ یہ بلکل اسی طرح ہے کہ عاشق اپنے محبوب یعنی اللہ تعالیٰ کے محبوب (سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم) کے رنگ ڈھنگ کو اختیارکرے، بالکل وہی ادائیں اور ناز و انداز اپنائے جس کے بدولت اس سچے عاشق پر محبوب ایک دن خود فدا ہوجائے گا۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے میں رنگ کا ذکر کیا ہے۔ یعنی عاشق خود کو اسی رنگ میں رنگنے کے بعد ہی معشوق اور محبوب بنتا ہے۔

دوستو! یہ رنگ محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا رنگ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“ فرمادیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یعنی لوگو! اگر تم اپنے دعوائے محبت میں سچے ہو تو میری محبت کے حصول کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کرو۔ یہ فریب کاری اور دھوکے کا زمانہ ہے۔ لوگوں سے انسانیت کا جوہر نکل گیا ہے، انسان سے انس کافور ہوگیا ہے۔ آج انسان انسان کے خون کا پیاسا ہے۔ حیوان اپنے ہم جنسوں کو چیر پھاڑ کر نہیں کھاتے۔ لیکن افسوس انسان انسان کا شکاری بن گیا ہے، جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے۔

آدمين اخلاص، مٽائي ماٺو ڪيو،
هاڻي کائي سڀڪو، ماڻهوءَ سندو ماس.

ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہوجا

کاش انسان انسانیت کے مقام کو پہچان کر ایک دوسرے پر ظلم و ستم کرنا چھوڑدے۔ اپنے حقوق کے ساتھ دوسرے کے حقوق کا تحفظ کریں۔ قبیلہ، قوم، ذات کے فرق کے بغیر ہر انسان دوسرے انسان سے اخوت پیدا کرے۔

ایسے اندوہناک حالات میں کامل اولیاء کا وجود انسانیت کی بقاء کی علامت ہے اور نشان اور عذاب الٰہی سے اس فانی دنیا میں بچنے کا باعث اور سبب ہے۔ سفید پوشی کا بھرم قائم کرنے سے انسان کامل نہیں بن جاتا۔ اس سلسلے میں محبت کے ساتھ ساتھ اطاعت خداوندی اور عشق کے ساتھ اتباع رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم اور بغیر کسی فرق و امتیاز کے ہر انسان کے ساتھ محبت کرنا ضروری ہے۔ بیشک تمام اوصاف میرے مرشد مربی مہرباں میں بدرجہ اتم موجود تھے۔ آئیے کاملوں کی پیاری زندگی پر ایک نگاہ دوڑائیں۔

 

دوسرے کی رائے کا احترام

اس عاجز کی ولادت درگاہ رحمت پور شریف لاڑکانہ میں 21 مارچ 1963ء کو ہوئی۔ ولادت کے دن سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ خانواہن کے سفر پر تشریف لے گئے۔ ولادت کی اطلاع حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچائی گئی۔ آپ بہت خوش و مسرور ہوئے۔ اپنے پاس بلوایا، کان میں اذان دی اور قرآن مجید کی آیت پڑھ کر دم فرمایا۔ ایسی نوازش اس سے پہلے خاندان کے بچوں کے سوا کسی اور پر نہ ہوئی تھی جیسی مجھ خطاکار پر فرمائی۔ سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ اگلے دن خانواہن سے دین پور شریف پہنچے، وہاں پر آپ کو اس بات کی اطلاع ملی، اسی وقت درگاہ رحمت پور شریف کے لیے روانہ ہوئے۔ اس عاجز کو دیکھ کر انتہائی مسرور ہوئے، کافی دیر تک بیٹھے رہے۔ ساتویں دن مسنون طریقہ کے مطابق عقیقہ کیا۔ ایک بیل اور ایک بکری کا بچھڑا ذبح کیا۔ حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے گھر پر خصوصی دعوت پر مدعو فرمایا، ازراہ کرم قدم رنجہ فرماکر ہمارے گھر تشریف لائے۔ طعام میں قدرے دیر تھی، اس لیے حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے کتب خانے میں بیٹھ کر مطالعہ فرماتے رہے اور بعض کتابوں پر نوٹ بھی تحریر فرمائے۔

طعام تناول فرمانے کے بعد آپ کی خدمت اقدس میں سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے میرے نام کے انتخاب کے بارے میں عرض کیا۔ آپ نے متعدد نام بتائے جن میں سے کچھ یہ ہیں: محمد طیب، محمد طاہر، محمد اطہر، محمد احسن وغیرہ۔ سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے تخلیہ میں اپنی رفیقہ حیات یعنی عاجز کی والدہ ماجدہ سے مشورہ فرمایا کہ کونسا نام رکھا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ حضور والا نے پہلے محمد طیب نام بتایا ہے اس لیے یہی مناسب رہے گا، مگر والدہ کو محمد طاہر نام پسند آیا۔ قدرے اصرار کے بعد اپنی رائے کو چھوڑدیا اور میرا نام محمد طاہر رکھا۔ گھر میں اگرچہ اپنی رائے کی قربانی دینے کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، اس کے علاوہ کتنے ہی ایسے مواقع آئے کہ اس عاجز جیسے ناقص اور کم عقل کی رائے کو بھی اہمیت دے کر ہمت افزائی فرماتے تھے۔ آخر عمر تک جب کبھی اس عاجز کے نام کا تذکرہ ہوتا آپ فرماتے کہ ہمیں محمد طیب نام پسند تھا، اگر تمہاری والدہ یہ نام رکھتیں تو مرشدوں کے فرمان کی برکت کی بنا پر ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرا فرزند بھی ہمیں عطا فرماتے۔

 

حسن فہم

1976ء میں اس عاجز کو فرمایا کہ تم درگاہ اللہ آباد شریف میں اذان کہا کرو۔ چنانچہ اس عاجز کو ازروئے احادیث شریف مؤذن کے بہت سے فضائل بتائے اور ظہر کی نماز کے بعد پوری جماعت کی موجودگی میں اعلان فرمایا کہ عصر کی اذان محمد طاہر کہیں گے۔ یہ عاجز اس حکم کو سن کر بہت پریشان ہوا۔ اسپیکر تو مجھے ازلی دشمن محسوس ہوتا تھا، مائک دیکھتے ہی میری حالت غیر ہوجاتی تھی، جسم کانپنے لگتا تھا۔ اس دن حالت نہایت قابل رحم تھی۔ سوچ رہا تھا کہ آج مجھ سے بڑھ کر شاید ہی کوئی مظلوم انسان ہو۔ دعا مانگنا شروع کی کہ اے اللہ اپنا فضل فرما، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرح آج سورج کو روک دے تاکہ عصرکا وقت اس وقت تک نہ ہو جب تک کسی دوسرے مؤذن کو اذان دینے کا حکم نہ ہو، لیکن جناب کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ سورج بڑی تیزی کے ساتھ گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کرنے لگا۔ اذان دینے کا وقت ہوگیا۔ میں نے جاکر گھر کا کونا بسایا، فقراء حضرات نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی، اسپیکر چالو کرکے اذان کہنے کی بجائے بلند آواز کے ساتھ مجھے پکارنے لگے کہ آکر اذان کہو۔ بالآخر گھر والوں نے کھینچ تان کر حضور کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے حکم فرمایا تو دوسری قسط شروع ہوئی، یعنی آپ سے لے کر دروازے تک دھکیلنے کی کاروائی شروع ہوئی۔ عاجزی اور منہ ڈھیلا کرکے بہت ہی منت سماجت کی۔ ”صدا طوطی کی سنتا کون ہے نقار خانے میں“۔ آخر کار بھائیوں کی مہربانی سے دروازے تک پہنچا اور دہلیز پر ڈھیٹ بن کر کھڑا ہوگیا۔ درگاہ فقیر پور شریف پر عصر کی اذان یوں بھی قدرے تاخیر سے آتی ہے، اب تو انتہائی دیر ہوچکی تھی آخر تنگ آکر فقراء نے اذان دے ہی دی۔

سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ بڑے شفیق و مہربان تھے، اس عاجز گنہگار پر بے انتہا شفقت فرماتے تھے، اس عاجز پر ناراضگی کا بالکل اظہار نہیں فرمایا بلکہ میری حالت کو دیکھ کر مسکراتے رہے۔ بعد میں حضور کے حکم کے آگے سر تسلیم کرنے اور حکم کی تعمیل میں سستی کرنے پر اس عاجز کو انتہائی ندامت ہوئی، اپنی سستی پر تنہائی میں رویا۔ آپ کی نرم روی اور خندہ روئی کا بہت اچھا نتیجہ برآمد ہوا، چند سالوں کے بعد جب اس عاجز کو درگاہ اللہ آباد شریف میں نماز پڑھانے کا امر فرمایا تو اس عاجز کو کاہلی کرنے کی طاقت نہ ہوئی۔ فورا آپ کی رضا جوئی کی خاطر اس نیک کام کے لیے تیار ہوگیا۔