فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

انتخاب سوانح حیات، تبلیغی خدمات، کرامات شمس العارفین قدوة الاولیاء حضرت قبلہ عالم سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ

مولانا جان محمد رحمۃ اللہ علیہ

 

مخلوق خدا پر مہربان، نیکوں کے قدردان، خائف خدا، باشرع، صاحب تقویٰ، زندہ دل ولی، حاتم طائی صفت بزرگ جن کو لوگ حضرت مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کے نام نامی اسم گرامی سے جانتے تھے۔ مؤرخہ 10 مارچ 1910ء کو انہی بزرگ کے آنگن میں بہار آئی اور ایک بچے نے جنم لیا، جس نے آگے چل کر دین متین کی خدمت اور عشق رسول  صلّی اللہ علیہ وسلم  میں وہ مقام حاصل کیا کہ ماسلف بزرگ جس پر فخر کریں اور آنے والے مشعل راہ بنائیں۔ حضرت محمد مٹھل قصبہ خانواہن کے قریشی عباسی خاندان کے چشم و چراغ اور معزز فرد تھے۔ آپ نے اپنے اس نومولود فرزند ارجمند دلبند کا اسم مبارک اللہ بخش رکھا۔ خدائے برتر و بالا نے اس مبارک بچے کو وہ ظاہری و باطنی علوم عطا فرمائے اور ایسی بصارت و بصیرت عطا فرمائی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ لوگ انہیں حضرت ”سوہنا سائیں“ رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کو بچوں کی بہترین نگہداشت و تربیت کی فکر دامن گیر رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دفعہ آپ نے حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ سے فرمایا کہ ”مال کی فراوانی کی دعا نہ کرو، بلکہ یہ دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ ان کو عالم و فاضل اور واصل بنائے تاکہ دینی امور میں لوگ ان کی طرف رجوع کریں“۔

حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ نہایت نیک سیرت اور عبادت گذار خاتون تھیں۔ تقویٰ و پرہیزگاری کا بہت اہتمام فرماتی تھیں۔ تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ کبھی بھی بغیر وضو کے بچوں کو دودھ نہیں پلایا۔ آپ کی والدہ ماجدہ ہمیشہ آپ کو دعائیں دیتیں اور فرماتیں اللہ تعالیٰ تمہیں بلند مرتبہ عطا فرمائے اور بڑا عالم باعمل بنائے اور نیک اولاد عطا فرمائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان مولوی صاحب (حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ) کو ماں کی دعاؤں نے رنگ دیا ہے اور آپ اس مرتبہ عظیم پر ماں کی دعاؤں کے نتیجے ہی سے پہنچے ہیں۔

آپ کے والد ماجد آپ کے دنیا میں تشریف لانے کے پانچ ماہ بعد ہی داغ مفارقت دے گئے اور تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آن پڑی۔ اور یہ حضور کی والدہ ماجدہ کی تربیت و تقویٰ کا اثر تھا کہ حضور قبلہ عالم نے یہ بلند و بالا مرتبہ و مقام حاصل کیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں ہی حاصل کی اور مزید دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ضلع لاڑکانہ کے مدرسہ گیریلو میں داخلہ لیا۔ اپنے فاضل اور صاحب تقویٰ استاد حضرت مولانا علامہ الحاج رضا محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے زیر سایہ علوم دینیہ حاصل کرنا شروع کیے اور بہت جلد اپنے استاد محترم کی نگاہ میں ایک خاص مقام حاصل کرلیا۔

بچپن ہی سے آپ کی طبیعت مبارک کا میلان تصوف اور سلوک کی طرف زیادہ تھا۔ اس لیے آپ فرماتے تھے کہ پڑھائی کے دوران میں نے حضرت خواجہ فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض و برکات کی باتیں سنیں تو دل میں بیعت کے لیے شوق و ذوق پیدا ہوا۔ لیکن بزرگوں کے طریقہ عالیہ میں خصوصا کھانے پینے کے معاملے میں سخت پرہیز ہوتا تھا، اس لیے ارادہ کیا کہ ظاہری تعلیم سے فراغت کے بعد طریقہ عالیہ میں داخل ہوں گا۔ آپ 1354 ہجری میں حضرت خواجہ فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ مسکین پوری سے بیعت ہوئے اور اسی سال کچھ عرصہ اور رمضان المبارک میں بمطابق 28 نومبر 1935ء بمطابق 1354 ہجری کو حضرت پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ہوگیا۔ حضرت قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد آپ نے اسی سال حضرت خواجہ محمد عبدالغفار پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ثانی فرمائی اور چار سال کے مختصر عرصہ میں منازل سلوک طے فرماکر خرقۂ خلافت حاصل کیا اور لوگوں میں فیوض و برکات تقسیم کرنا شروع کیے۔ سب سے پہلے آپ نے کچے کے علاقے میں دین پور شریف نام کی بستی تبلیغی مقاصد کے لیے قائم فرمائی جہاں آبادی نام کو نہ تھی لیکن وہاں پر لوگوں کے دل زندہ ہوتے تھے اور کچے کے چور ڈاکو نیک متقی اور پرہیز گار بنے اور اپنی محنت سے دین کی آبیاری کی۔ آپ کو اپنے مرشد کریم سے انتہا درجہ کا عشق تھا۔ اسی لیے حضرت خواجہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ تم لوگوں پر اس مولوی صاحب حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کا احسان ہے کہ یہ مجھے سندھ میں لائے۔ مرشد پاک کو اپنے مرید صادق سے کیا محبت تھی اس کی مثال یہ ہے کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے متعلق ارشاد فرمایا کل قیامت کے روز میرا پیر مجھ سے پوچھے گا کہ سندھ کے اندر تونے کیا کام کیا تھا تو میں کہوں گا حضور میرا شکار (میری محنت کا ثمر) یہ مولوی صاحب ہی ہیں۔ اور مزید یہ کہ ایک دفعہ اس محبت کا اظہار آپ کے مرشد اس طرح کرتے ہیں کہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ زمرد اور سونے کا محل تیار کرائیں اور مولوی صاحب (سوہنا سائیں) کو اس میں بٹھا کر دیکھتے رہیں۔

حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد آپ نے بستی فقیر پور شریف جو کہ رادھن اسٹیشن سے شمال کی طرف دو فرلانگ کے فاصلے پر ہے، کو تبلیغی مرکز بنایا اور لوگوں کے مردہ قلوب کو حیات جاودانی بخشی۔ آپ نے دین متین کی خدمت اور سنت مصطفوی  صلّی اللہ علیہ وسلم  کی ترویج کے لیے ہر ایک میدان میں پوری کوشش فرمائی۔ اس وقت جبکہ دین کا انحطاط ہورہا تھا آپ نے مختلف مقامات پر دینی مدارس قائم فرمائے اور تن من دھن سے دین کے لیے قربانی دی۔ ان مدارس میں درس نظامی کی مکمل تعلیم دی جاتی ہے اور مکمل دورہ تفسیر و حدیث کا بھی اہتمام ہے اور ساتھ ساتھ ہی طالبان مولا کو سلوک کی منازل بھی طے کرائی جاتی ہیں۔ آپ کے اصلاحی مشن کا مختصر جائزہ لیں تو اس طرح ہوگا کہ ”حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے تبلیغی فائدے کے پیش نظر اہل علم سے لے کر ایک ان پڑھ تک ہر سطح کے افراد کو منظم فرماکر دینی خدمت کے لیے آگے بڑھایا“۔ اس سلسلہ میں آپ نے جو اہم اقدامات اٹھائے ان کی ایک جھلک درج ذیل ہے

(۱) ادارہ تبلیغ روحانیہ جماعت اصلاح المسلمین کے نام سے خلفاء کرام و فقراء کی ایک عظیم الشان اصلاحی تبلیغی تنظیم قائم فرمائی۔

(۲) ملک بھر میں بلکہ بیرون پاکستان بھی کئی تبلیغی مراکز قائم فرمائے جہاں ہفتہ وار و ماہوار جلسے پابندی سے ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ یادگار ایام مثلاً عید میلاد النبی  صلّی اللہ علیہ وسلم  اور بزرگان دین کے عرس بھی جلسوں کی صورت میں منائے جاتے ہیں۔

(۳) ملک بھر میں دینی تعلیم کے کئی مدارس قائم کیے۔

(۴) جمعیت علماء روحانیہ غفاریہ کے نام سے جماعت کے علماء کرام کو منظم طریقے پر دینی کام کرنے کی تلقین کی۔

(۵) جمعیت طلبہ روحانیہ غفاریہ کے نام سے دینی مدارس کے طلباء کو منظم فرمایا۔

(۶) جمعیت اساتذہ روحانیہ غفاریہ کے نام سے اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں ملازم اساتذہ کی تنظیم قائم فرمائی۔

(۷) اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلباء کی تنظیم روحانی طلبہ جماعت کے نام سے قائم فرمائی، جس کے اراکین نوجوان طلباء مغربی ماحول میں رہ کر بھی نیکی اور تقویٰ میں کسی طرح کم نہیں۔

(۸) بچپن ہی میں دینی ماحول سے محبت و دلچسپی پیدا کرنے کے لیے انجمن نونہال روحانیہ کے نام سے پرائمری اسکولوں کے ننھے منے بچوں کی بھی تنظیم قائم فرمائی جن کی نگرانی والدین اور اساتذہ کرتے ہیں۔

(۹) جماعت کے نوجوان جو کسی بھی ادارہ میں تعلیم حاصل نہیں کرتے، ان کے لیے اصلاح نوجوانان کے نام سے ایک تنظیم قائم فرمائی۔ اس کے علاوہ دینی کتابوں کی نشر و اشاعت کا وسیع سلسلہ شروع کیا۔

خاص طور پر حضرت نے دینی فقدان کے پیش نظر ملک بھر میں مختلف مقامات پر دینی مدارس قائم فرماکر تشنگان دین کی پیاس بجھائی۔ خاص طور پر دربار عالیہ  اللہ آباد شریف متصل کنڈیارو کے نام سے ایک بستی قائم فرماکر وہاں بہت بڑے دینی مرکز کی بنیاد رکھی۔ جہاں جامعہ عربیہ غفاریہ کے نام سے مدرسہ تشنگان حق کی توجہ کا مرکز بنا۔ جہاں سے ہر سال کئی علماء کرام مکمل درس نظامی سے فارغ ہوکر نکلتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس مدرسہ میں شعبہ حفظ و قرأت و تجوید قائم ہے اور جدید ماحول کے پیش نظر انگریزی کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔

ان تمام امور بالا کے علاوہ آپ کی دینی حرص اس قدر زیادہ تھی کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کے فقراء و خلفاء کے وفد ملک و بیرون ملک جاکر للہ فی للہ تبلیغ کا کام سرانجام دیتے ہیں اور خاص طور پر رمضان المبارک میں حضرت صاحب کی جتنی قائم کردہ جماعتیں ہیں، چلچلاتی دھوپ میں لوگوں کو سرعام تبلیغ کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وفود کی شکل میں ملک بھر کی مختلف جیلوں میں جاکر قیدیوں کو بھی تبلیغ کرتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ تربیتی نشستیں قائم ہوتی ہیں جن میں علمی مباحث اور تقاریر ہوتی ہیں اور سکھائی جاتی ہیں، دور حاضر کے مسائل حل کیے جاتے ہیں۔ الغرض آپ کا تبلیغی مشن مکمل انسانی زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

حضرت صاحب کے عقیدت مند آپ سے والہانہ عشق و محبت رکھتے ہیں۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ مکمل عشق مصطفی  صلّی اللہ علیہ وسلم  میں ڈوبے ہوئے تھے۔ حضور علیہ السلام کا نام مبارک لیتے ہی آپ پر والہانہ کیفیت طاری ہوجاتی تھی اور گریہ طاری ہوجاتا تھا۔ حضور قبلہ عالم محبوب و مرشدنا سوہنا سائیں نور اللہ  مرقدہ کا وصال پر ملال بروز پیر 6 ربیع الاول 1404 ہجری بمطابق 12 دسمبر 1983ء کو بعد نماز ظہر ہوا۔ آپ نے اس روز تہجد نماز بحسن و خوبی ادا فرمائی اور پھر فرمایا کہ اب رسالت مآب  صلّی اللہ علیہ وسلم  لینے کے لیے آگئے ہیں۔ پھر آپ نے اپنے لخت جگر نور نظر سیدی و مرشدی صاحبزادہ حضرت محمد طاہر مدظلہ العالی کو بلایا اور فیوضات و برکات آپ کے سینۂ اطہر میں منتقل فرمائے، مختلف ارشادات فرمائے، خصوصاً تمام فقراء کرام کے متعلق ارشادات اور نصیحتیں فرمائیں۔ سبحان  اللہ  مرشد پاک کو اپنے مریدوں سے ایسی محبت کہ آخر وقت میں بھی نہیں بھولے اور تمام کے لیے خصوصی نصیحت فرمائی۔

کرامات

سیدی سوہنا سائیں کے لقب سے جن کو یاد کیا جاتا ہے ان کی ذات اقدس سے ایک، دو، سو دو سو یا ہزار کرامات صادر نہیں ہوئیں کہ ان تمام کو احاطہ تحریر میں لایا جاسکے۔ آپ سے بے شمار کرامات ظاہر ہوئیں، بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ آپ سراپا کرامت تھے۔ آپ کے مریدین، معتقدین جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں، ہر ایک سے پوچھا جائے گا تو وہ اپنے ساتھ پیش آنے والی کئی کرامات بتائے گا۔ لاعلاج مریضوں کی دعا، دم یا فقط خواب میں بشارت سے صحت یابی، اولاد صالح عطا ہونا، قیدیوں کی رہائی، گم شدہ چیزوں اور عزیز و اقارب کی واپسی، تکالیف کا رفع ہونا، مشکلات میں امداد کو پہنچنا، متعدد مقامات پر موجود ہونا، کنویں کا کڑوا پانی میٹھا ہونا، جنات کا بھاگنا، اس قسم کی کرامات تو آپ سے شب و روز صادر ہوتی رہتی تھیں اور عام لوگ انہیں کو کرامات سمجھتے اور اولیاء کرام سے ان کی توقع رکھتے ہیں۔ در حقیقت سب سے بڑی کرامت یہ ہوتی ہے کہ زمانہ فتنہ و فساد میں کوئی  اللہ  کا پیارا خود بھی رسول  اللہ  صلّی اللہ علیہ وسلم  کی شریعت مطہرہ کا مکمل طور پر عامل بنے اور دوسروں کو عامل بنائے۔ سیدی مرشدی حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی اس دور میں یہ ایسی کرامت تھی جس کی نظیر ملنا کم از کم اس دور میں مشکل ہے۔ ہزاروں چور، ڈاکو، زانی، شرابی، غنڈے غرض کہ ہر قسم کی برائیوں میں ملوث لوگ بھی آپ کی صحبت بابرکت میں رہنے سے اپنے گناہوں سے تائب ہوگئے۔ ایسے لوگ جن کے شب روز خدائے عزوجل کی نافرمانی میں گذرتے تھے اور جن کا خاتمہ بالخیر ہونے کا کوئی امکان نہ تھا، جب حضور قبلہ عالم نور اللہ مرقدہ کی صحبت میں آکر نیک بننے کے بعد ان کا اس دنیا سے رخصتی کا وقت آتا تو کوئی حالت نماز میں اپنے خالق حقیقی سے جاملا تو کوئی مراقبہ میں، کوئی حالت وجد میں تو کوئی تبلیغی سفر میں۔ سبحان  اللہ  علیٰ ذالک۔ پھر آپ کی ایک ایسی کرامت تھی جسے بے شمار لوگوں نے مختلف اوقات، مقامات پر مخالفین تک نے دیکھا۔ وہ یہ کہ آپ کے مخلص مرید یا مریدنی جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو مرنے کے بعد بھی ان کا دل زندہ رہا اور جاری تھا۔ کئی مقامات پر بڑے بڑے ڈاکٹروں نے بھی اس کرامت کو دیکھا اور تصدیق کی کہ بدکار قسم کے لوگ جب آپ کے پاس آتے اور بیعت ہونے کے بعد جب واپس جاتے پھر گناہوں میں ملوث ہونے کی کوشش کرتے تو ہزاروں اس قسم کے لوگ ہیں جو بتاتے ہیں کہ حضور قبلہ عالم نے انہیں خواب میں، بیداری میں اور بعض کو عین موقع گناہ پر ظاہر ہوکر یا آواز سے تنبیہ کی اور انہیں گناہوں سے باز رکھا۔ سگریٹ، حقہ، نسوار یا دوسرے نشوں سے نجات کے لیے آپ الائچی دم کرکے دیتے تھے جس سے ہزاروں لوگوں کے نشے چھوٹ گئے۔ آپ کی یہ کرامت بھی بہت مشہور تھی۔ علاوہ ازیں بے شمار لوگوں کو خواب میں حضور نبی کریم  صلّی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور مشائخ عظام کی زیارتیں ہوئیں جس میں انہیں حضرت قبلہ عالم کے پاس جانے اور ان کی نسبت کے متعلق بشارتیں دی گئیں۔

الغرض کہ 6 ربیع الاول کو ولی کامل، عالم باعمل، اخلاق نبی کے مظہر، لطف و عطا کے پیکر کے ہم سے جدا ہونے سے ایک باب ختم ہوگیا۔ لیکن کیا ہم اب اس رحمت خداوندی سے محروم ہوگئے؟ کیا  اللہ والے مرتے ہیں؟ نہیں بلکہ وہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہوتے ہیں۔ سوہنا سائیں ایک شخصیت ہی نہیں ایک تحریک کا نام ہے اور تحریک ختم نہیں ہوا کرتی۔ حضور سوہنا سائیں نے ہمیں بے سہارا نہیں چھوڑا بلکہ اپنے لخت جگر، نور نظر، ولی کامل و اکمل، مجدد دوراں حضرت قبلہ عالم، سیدی مرشدی محمد طاہر صاحب المعروف بہ سجن سائیں مدظلہ العالی کے حوالے کرگئے۔ جن کی ذات والا صفات میں وہی خوبیاں اور جن کی صحبت میں وہی اثر وہی فیض بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ موجزن نظر آتا ہے۔