فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

ملفوظات عالیہ حضرت پیر سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ

تحریر مولانا جان محمد اللہ آبادی رحمة اللہ علیہ
ترتیب و ترجمہ: مولانا حبیب الرحمٰن گبول طاہری بخشی اللہ آبادی

 

سادات کی ذمہ داری

حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ علماء کرام اور اہل بیت عظام کے ادب و احترام کا خصوصی لحاظ رکھتے تھے۔ اٹھ کر استقبال کرتے، بیٹھنے کے لیے اپنا مصلیٰ (جائے نماز) پیش کرتے اور جاتے وقت چند قدم چل کر رخصت فرماتے تھے۔

ایک مرتبہ حضور محراب پور تشریف فرما تھے کہ سید ظفر علی شاہ صاحب جو صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے، (حال ممبر قومی اسمبلی) ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ حضور عزت و احترام سے ملے۔ شاہ صاحب بھی حضور کا احترام بجا لارہے تھے۔ خیر و عافیت معلوم کرنے کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا شاہ صاحب! یہ کام تعلیم و تبلیغ دین آپ کا ہے، یہ آپ لوگوں کا ورثہ ہے۔ لیکن افسوس کہ آپ لوگوں نے اس طرف توجہ نہ کی، ہم مسکین حیثیت حال کے مطابق کوشش کررہے ہیں۔ البتہ کل بروز قیامت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ ضرور عرض کریں گے میرے مولیٰ سادات حضرات نے اس طرف توجہ نہ کی بہرحال ہم خدمت کررہے ہیں۔ مزید فرمایا شاہ صاحب کل ضرور آپ سے بھی پوچھ گچھ ہوگی۔ اس پر شاہ صاحب نے مؤدبانہ عرض کیا سائیں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔

دین کے لیے سیاست

ایک مرتبہ علماء کرام کا ایک وفد درگاہ فقیر پور شریف میں آپ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے ان کی خاطر مدارات میں کسی قسم کی کمی نہ رہنے دی۔ اپنے گھر سے ان کے لیے کھانا لائے اور خود ہی کھانا کھلانے کی خدمات انجام دیں۔ یہ حضرات الیکشن (غالباً 1970ء کی بات ہے) کے سلسلہ میں تعاون حاصل کرنے کی غرض سے آئے تھے۔ (نیز یہ کہ آپ تحصیل میہڑ کی سیٹ پر بطور امیدوار کھڑے ہوں) آپ نے ان کی گذارشات سن کر ارشاد فرمایا ہمیں کسی سطح پر بھی الیکشن میں کھڑا ہونے کا خیال نہیں۔ ہمارے بزرگ بھی سیاست (بطور ممبر اسمبلی) سے الگ تھلگ رہے ہیں۔ البتہ ہمارا ووٹ یقینا اسلام کے لیے ہے، جو بھی اسلامی جذبہ لیکر سامنے آئے گا ہم اسلام کی خاطر ووٹ اسے دے دیں گے۔ اس لیے کہ جان جائے تو جائے قرآن نہ جائے۔ آگے وہ کیا کرتے ہیں یہ انکی مرضی ہے۔ مزید فرمایا قرآنی قانون جاری کرانے کے لیے اس وقت علماء کرام کو عمدہ موقعہ میسر آیا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس موقعہ پر ان کا باہمی اتحاد و اتفاق نہ ہوسکا۔ اسلام کی بات تو سب کرتے ہیں مگر اسکے باوجود نہ معلوم کیوں اتفاق پھر بھی نہیں۔ کرسی کی لالچ سے اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے۔

موضوع کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تقسیم ہند کے وقت علماء متفق نہ ہوسکے۔ مسلم لیگ خواہ کانگریس میں دونوں طرف علماء کرام نظر آئے۔ مولانا شبیر احمد صاحب اور ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ برابر قائد اعظم محمد علی جناح صاحب بظاہر شریعت کے پابند نہیں، لیکن اسلامی احکام قائم کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب کا ووٹ ظاہر ظہور ہے بدمذہب کانگریس کو جاتا ہے۔ گو ان کی تائید کرنے والے بھی علماء ہیں۔

علماء کرام کو چاہیے کہ ان حقیقتوں کو غور سے سوچیں اور سمجھیں۔ علماء ہی دین متین کے وارث ہیں۔ اس لیے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فروعی اختلافی مسائل کو باہمی مل کر طے کریں۔ عوام الناس تک اختلافی امور پہنچانے کی کوئی ضرورت نہیں، بہرحال اتحاد و اتفاق اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔

راقم الحروف عرض کرتا ہے حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ وقت کے بادشاہ کے لیے ہمیشہ یہ دعا فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے اور اسے دین کی خدمت کی توفیق بخشے۔

عالم دین کی حاضری

ایک مرتبہ ریاست بہاولپور صوبہ پنجاب کے ایک عالم دین سفر کرتے کرتے آپ کی خدمت میں لاڑ(طاہر آباد شریف ٹنڈوالہیار ضلع حیدرآباد) پہنچے۔ ان پر گریہ طاری تھا، روتے ہوئے حضور سے چند منٹ بات کرنے اجازت حاصل کی۔ آپ کے روبرو کھڑا ہوکر موجودہ جماعت کو مخاطب ہوکر کہنے لگے ”آپ لوگ بڑے خوش قسمت ہیں کہ ایسے کامل ولی آپ کے حصے میں آئے (آپ کے علاقہ میں رہتے ہیں)، مجھے اپنے گاؤں میں سوتے ہوئے خواب میں حضور سوہنا سائیں کی زیارت نصیب ہوئی۔ میں حضور کو جانتا نہیں تھا، بے تاب ہوکر تلاش کرنے لگا۔ آپ نے تین مرتبہ مجھے خواب میں ارشاد فرمایا کہ ہمارے پاس آجائیں۔ کسی قسم کا پتہ نہیں بتایا تھا، فقط آپ کی نورانی تصویر دیکھی تھی، جسے تصور میں رکھ کر بہت سی درگاہوں پر حاضر ہوا لیکن وہ چہرہ نظر نہ آیا۔ الحمداللہ جیسے ہی یہاں پہنچ کر حضور کی زیارت کی بعینہ وہی تصویر مبارک نظر آئی جس کے لیے میرا دل بے تاب تھا“۔