فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

خطاب مبارک

سیدنا و مرشدنا حضرت خواجہ محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی

فوائد درود النبی صلّی اللہ علیہ وسلم

 

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

امابعد

فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی، یاٰایہا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما۝

اللّٰہم صلِّ علیٰ سیدنا ومولٰنا محمد وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اجمعین

میرے محترم دوستو!
تقاریر و نصیحت آپ سن چکے اور انشاء اللہ آئندہ بھی سننے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ مگر دعا یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے قلوب کو منور فرمائے، ہماری نیتوں میں خلوص پیدا فرمائے۔ کیونکہ نیت کا مقام عمل سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی نظر میں قدر و منزلت نیت کی ہی ہوتی ہے۔ آج کل ہماری توجہ ہی نہیں ہے نیتوں کو خالص بنانے کی طرف، عمل صالح کی طرف۔ عمل صالح کریں گے تو نہیں، البتہ دور رہنے کی کوشش ضرور کریں گے۔ اور جب دنیا کے کام کاج ہوں گے تو وہ بڑے شوق و چاہت سے کریں گے۔ حالانکہ نصیحت و واعظ تو بڑے شوق و چاہت سے سنتے ہیں۔ تو ان چیزوں کو دیکھ کر آج کل سمجھ میں یہی آتا ہے کہ ہم نصیحت و واعظ کی محفلوں میں حاضری کو ایک رسم سمجھ کر شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح سے سننا جس سے انسان کے دل میں اثر پیدا ہو، اس کا دل خدا تبارک و تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے، ایسے سننے والے آج کل کم نظر آتے ہیں۔ آج ہم اس طرح بن چکے ہیں کہ نصیحت بھی سنتے ہیں مگر نماز کو بھی اسی طرح ترک کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح رشوت خوری میں مصروف ہوتے ہیں۔ اسی طرح بے ایمانی و ملاوٹ میں مشغول رہتے ہیں۔ اسی طرح سے دل آزاری و حقوق کو غصب کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ آج ہمارا حال اسی طرح بن چکا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ محفلیں، یہ مجلسیں صرف رسم ہی نہیں ہے۔ جیسے کہ کسی وزیر اعظم یا صدر یا ایم این اے یا ایم پی اے کے جلسے میں شامل ہوتے ہیں، کچھ نعرے لگاتے ہیں اور اپنی حاضری لگوا کر واپس چلے جاتے ہیں۔

میرے دوستو یہ ایسی محفلیں نہیں ہیں۔ یہ محفلیں آپ کے اوپر ایک دلیل ہیں۔ کیونکہ جس محفل میں آپ بیٹھے ہیں اس کی تمام تر کاروائی اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرشتے قلمبند کررہے ہیں، محفوظ کررہے ہیں۔ یہ ساری کاروائی اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں پیش کی جائے گی۔ یہ کون سے لوگ آملے تھے۔ کس علائقے کے تھے۔ ان کی کیسی صورتیں تھیں۔ انکی کیسی نیتیں تھیں۔ اگر چہ ایسی محفلوں میں بیٹھنے والا کوئی بھی انسان محروم نہیں رہتا کیوں کہ یہ ایسے لوگوں کی محفلیں ہیں جن کے بارے میں فرمایا گیا۔ لایشقیٰ جلیسھم۔

ایسے لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے والا، جو خدا کے ذکر کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اور ان کامقصد ”لایریدون الاوجہہ“، یعنی ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔  ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے والا خواہ دنیاوی ارادہ سے بیٹھے یا کسی اور ارادے سے، مگر وہ محروم نہ ہوگا، کچھ نہ کچھ فائدہ اسے بھی ضرور حاصل ہوگا۔ بے شک ان محفلوں کا مقام، ان کا شان بلند ہے۔ مگر بیٹھنے والا اگر خلوص دل اور صحیح نیت کے ساتھ ان میں شوق و جستجو رکھ کر بیٹھتا ہے کہ مجھے کچھ حاصل ہوجائے، تو پھر جس طرح بارش، اللہ تعالیٰ کی رحمت جب برستی ہے تو وہ خشک جگہ پر بھی برستی ہے تو دریاؤں اور سمندروں کے اوپر بھی برستی ہے۔ وہ بارش جو سراسر خدا کی رحمت ہے، پہلے قطرے سے لے کر آخری قطرے تک۔ تو جب وہ گل و گلزار کے اوپر برستی ہے تو ان کو مہکا دیتی ہے، ان میں نئی خوشبو پیدا ہوجاتی ہے، نئے پھول کھل جاتے ہیں اور سارا ماحول معطر ہوجاتا ہے، اور اگر کوئی بھی وہاں بیٹھتا ہے تو اس کے دل اور دماغ کو فرحت و سرور پہنچتا ہے۔ لیکن یہی خدا کی رحمت، یہی بارش جب گندگی کے ڈھیر کے اوپر پڑی تو اس سے بدبو کے بخارات اٹھنے لگے اور ہر فرد، ہر گذرنے والا اس سے دور ہوکر گذرتا ہے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کی رحمت تو سراسر رحمت تھی، مگر اس گندگی کے ڈھیر میں جس کے اندر غلاظت بھری ہوئی تھی، اس غلاظت کی وجہ سے اس بارش نے اس کو فائدہ تو نہیں پہنچایا الٹا اس گندگی کی وجہ سے وہاں سے گذرنے والوں کو بھی تکلیف پہنچنے لگی۔

تو میرے دوستو! جن دلوں میں سچائی ہوگی، محبت ہوگی، خلوص ہوگا تو یہ محفلیں ان دلوں کو مزید معطر کردیتی ہیں۔ مگر دلوں میں اگر خلوص کی جگہ بے بنیاد خدشات و اعتراضات ہوئے، گندگی و غلاظت ہوئی تو پھر ان دلوں کو فائدے کی بجائے نقصان ہی پہنچے گا۔ تو اس سارے فائدے اور نقصان کا مدار اس کی نیت کے اوپر ہے۔ اسی لیے ہمیشہ کوشش یہ کرنی چاہیے کہ ہماری نیت خالص ہونی چاہیے۔ جس طرح حضرت محبوب سبحانی پیران پیر غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ”واذا دخلت علیَّ فادخل عریانا“۔

جب تو میرے پاس آنا چاہے تو بالکل خالی ہوکر۔  بلکل خالی ہوکر۔  اپنے حسب سے، اپنے نسب سے، اپنے علم سے، اپنی دنیا سے، اپنی خواہشوں سے خالی ہوکر۔  جس طرح شاگرد اپنے پہلے دن اسکول جاتا ہے تو اپنی تختی کو صاف بنا کے لے کر جاتا ہے، حتیٰ کہ اس کے اوپر کوئی لکیر بھی نہیں ہوتی۔ استاد اس سے تختی لے کر اپنے قلم سے جو بھی نقش کرتا ہے شاگرد وہی پڑھتا ہے اور اسی کو ہی یاد کرتا ہے۔ لیکن اگر شاگرد استاد کے پاس جانے سے پہلے اسی تختی پر سیدھی لکیر نکال دے تو استاد اس کے اوپر ناراض ہوگا اور پڑھائے گا نہیں، بلکہ واپس بھیج دے گا کہ واپس جا اور اس اپنی تختی کو صاف بناکے لے۔  اس پر کوئی بھی لکیر یا نشان مت بنانا۔ میں ہی اس تختی پر لکھوں گا اور تو جب اسی کو ہی پڑھے گا تب ہی کامیاب ہوگا۔ اسی طرح سے جب آدمی اللہ کے پیاروں کی محفلوں میں آئے تو اپنے دل کو مکمل صاف بنادے اور اس میں کوئی بھی خیال نہ ہو، سوائے اس خیال کے کہ میں خطاکار ہوں، میں گنہگار ہوں اور مجھے کچھ حاصل کرنا چاہیے۔ جب ایسی توجہ، ایسے خیال سے جائے گا تبھی وہ فائدہ حاصل کرسکے گا۔

تو میں اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں۔ اس عاجز نے جو آیت کریمہ آپ دوستوں کے سامنے تلاوت کی اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی۔

بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے فرشتے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف و سلام بھیجتے ہیں تو اے ایمان والو تم پر بھی لازم ہے کہ تم بھی میرے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم پر درود سلام بھیجو۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام اس دنیا پر بھیجے گئے۔ ان سب کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعزاز و اکرام سے نوازا۔ ان کے اوپر مختلف کتاب اور صحیفے نازل فرمائے۔ ان کو مختلف علائقوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ بھیجتے رہے۔ ان کے علائقے محدود تھے، ان کا عرصہ محدود تھا کہ بھئی فلاں علائقے کے لیے فلاں پیغمبر ہے اور اس کی حیاتی تک، اس کے اس دنیا میں زندہ رہنے تک اسی کی شریعت نافذ رہے گی۔ اس کے بعد پھر دوسرا پیغمبر یا دوسرا نبی آئیگا اور پھر وہ اپنی شریعت کے احکامات اس دنیا میں نافذ کرے گا۔ وہ اپنی توحید و رسالت والے پیغامات کو عام کرے گا۔ پھر جب وہ اس دنیائے فانی سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف روانا ہوا پھر لوگوں کے اندر بے راہ روی پیدا ہوئی، ان کے اندر شرک پیدا ہوا، ان کے اندر گناہوں کی طرف رجحان بڑھ گیا۔ پھر خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو بھیجا، پھر ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائی۔ تو یہ سلسلہ اسی طرح سے حضرت آدم علیٰ نبینا علیہ السلام سے لے کر میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جاری رہا۔ انبیاء کرام آتے رہے، لوگوں کو ہدایت کا پیغام پہنچاتے رہے، ان کو مختلف اعزاز ملتے رہے، ان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے شان و مرتبہ ملتا رہا۔ لیکن جو آیۂ کریمہ اس ناچیز نے تلاوت کی ہے وہ ایک ایسا امتیاز، اعزاز و شان ہے جو میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا گیا۔ مشرق ہو یا مغرب ہو، شمال ہو یا جنوب ہو، براعظم ایشیا ہو یا یورپ ہو۔ زمین کے جس خطے میں بھی آپ چلے جائیں وہاں ایمان اور اسلام والے ضرور موجود ہوں گے۔ کوئی بھی دنیا کا حصہ آج ایمان والوں سے خالی نہیں ہے۔ تو دنیا کے ہر خطے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم کے مطابق مسلمان آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف میں ہر وقت درود بھیجتے رہتے ہیں۔ تو یہ دنیا بھر میں درود و سلام پڑھنا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کا موجود ہونا یہ صحابہ کی محنت و مجاہدہ ہے۔ ہم نے تو آج اپنی بدعملی اور غلط روش کی وجہ سے اسلام کو بدنام ہی کیا ہے۔ دین کو ہم نے انسانوں کے نظر میں داغ دار ہی بنایا ہے۔ آج قتل و غارت گری ہم مسلمانوں میں، ماں باپ کی نافرمانی ہم مسلمانوں میں، تعصب و فرقہ پرستی ہم مسلمانوں میں، چوری ہم مسلمانوں میں، اوروں کے مال کو غصب کرنا جیسی عادت ہمارے اندر پیدا ہوگئی ہے۔ رشوت خوری ہمارے اندر پیدا ہوگئی، حرام خوری جیسی عادت ہمارے اندر پیدا ہوگئی۔ ہماری ان سب ناگفتہ بہ عادتوں کو دیکھ کر اور ممالک میں رہنے والے لوگ، وہ غیر مسلم ہماری حالت کو دیکھ کر کہتے ہیں کیا دین اسلام اسی چیز کا نام ہے جو روش آج مسلمانوں میں نظر آرہی ہے؟ اس مملکت میں رہنے والے افراد میں نظر آرہی ہے، کیا دین اسلام اسی چیز کا نام ہے؟ بلکہ ہمارا کردار دیکھ کر وہ لوگ کہتے ہیں کہ معاذ اللہ اگر دین اسلام یہی ہے تو پھر ہم اسی طرح ہی بہتر ہیں۔ جبکہ ہمارے اوپر لازم تھا کہ ہم اپنے کردار کے ذریعے ان غیر مسلموں کو دین کی طرف راغب کریں، متوجہ کریں۔ مگر اس کے بجائے ہم نے ان کو اسلام سے ہی متنفر کردیا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے اگر اپنی غلط روش کو تبدیل نہ کیا، غلط عادتوں کو نہیں چھوڑا اور ترک نہیں کیا، ان بے حیائیوں، برائیوں اور گناہوں کو ترک نہیں کیا تو کل اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ہم سے دو طرح کے جوابات کی طلبی کی جائے گی۔ ایک یہ کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی اطاعت نہیں بلکہ سرکشی کی، نافرمانی کی، اللہ کی حدود کو توڑا، اپنے نفس کی خواہشات پر لبیک کی۔ دوسرا اس لیے کہ جو اور لوگ اسلامی تعلیمات کی طرف راغب ہورہے تھے وہ ہمارا بدکردار دیکھ کر اسلام سے دور ہوگئے، محروم رہ گئے۔ یقینا یہ جواب طلبی ہم سے ضرور کی جائے گی۔ جس طرح کوئی نہر ہو، اس نہر کا پانی دور دراز تک پہنچ کر کھیتوں اور کھلیانوں کو سیراب کردے، باغات کو فائدہ پہنچائے۔ پھر اگر اس نہر کے درمیان کوئی بڑا پتھر جو کئی ٹن وزنی ہو اور وہ طول اور عرض کے لحاظ سے بھی بڑا ہو، تو اگر وہ پتھر اس نہر کے درمیان آجائے تو وہ خود تو اس پانی سے کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں کرے گا کیونکہ اگر وہ پتھر سالہا سال تک اس چھوٹی سی نہر میں پڑا رہے تب بھی اس میں کوئی بھی پھول یا پودا نہیں اگے گا۔ اس پتھر میں کوئی بھی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔ وہ جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔ تو پتھر اس پانی کے درمیان موجود رہنے کے باوجود نہ صرف خود محروم رہا بلکہ وہ نہر جو وسیع علائقے تک پہنچ کر سیراب کرتی تھی اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ اسی طرح میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام، اس پیغام، اس فیضان کی راہ میں ہم رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں جو اس نہر کا مالک ہوگا اس کے دل پہ کیا گذرتی ہوگی جب وہ اپنے باغ کو ویران ہوتا دیکھتا ہوگا۔ جب پھلدار درخت سوکھ کر اجڑ گئے ہوں گے تو اس باغ کے مالک کے دل پر کیا گذرتی ہوگی۔ تو آج جب ہمارے بداعمال کی وجہ سے میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے دوسرے غیر مسلم بجائے اس کے کہ کچھ حاصل کرتے، فیضیاب ہوتے، مگر ہمارے کردار کی وجہ سے وہ بھی محروم ہوگئے۔ اب آپ یہ خود اندازہ کریں کہ میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے دل پر کیا گذرتی ہوگی کہ یہ میرے امتی ہیں؟ کہاں وہ میرے امتی جو صحابہ کرام کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ جنہوں نے اسلام کو عام کرنے کے لیے اپنے خون جگر سے اس کی آبیاری کی، اپنے وطن کو چھوڑا، مال کو قربان کیا بلکہ اپنی جانیں تک قربان کردیں۔ اور کہاں یہ میرے امتی جو اس دین کو عام کرنے کی بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ جس آقا صلّی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں عشق ہے، جس سے ہم محبت کی دعویٰ کرتے ہیں، جس کے اسم مبارک کو ہم لے کر درود وسلام بھیجتے ہیں لیکن اپنے عمل و کردار سے ہم آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا ثبوت نہیں دے رہے۔ اس محبت اور ایسی دعویٰ کی آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بھی ضرورت نہیں۔ کیونکہ محبت تو ان کی قبول کی گئی جنہوں نے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کے آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اطاعت کی۔ اپنے کردار و پیغام کے ذریعے اس کو دنیا بھر میں عام کردیا۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہی پسند کیا۔ آپ نے ان کے ساتھ ہی بیٹھنے کو محبوب سمجھا اور ان کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کرتے رہے کہ یا رب العالمین ان لوگوں کو تو کامیاب فرما

میرے عزیزو دوستو! آج ہم اپنے عمل و کردار کو دیکھیں اور پھر ان صحابہ کرام کے عمل و کردار کو بھی دیکھیں پھر اپنے دل سے فتویٰ لیں کہ آج ہم کیا کررہے ہیں اور وہ صحابہ کرام کیا کرتے تھے۔ میں عرض کررہا تھا کہ آج الحمدللہ وہ صحابہ کی محنت و کوشش سے دنیا کے ہر خطے میں مسلمان موجود ہیں۔ آج اگر کوئی سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے تو وہ اسلام ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے باشندے جو کروڑوں اربوں ڈالر کے مالک ہیں لیکن ان کو بھی معلوم ہوگیا ہے دل کا سکون ان چیزوں میں نہیں ہے۔ مال اور دولت سے دل لگانا اور اس کی جستجو میں اپنی زندگی کو گذارنا بے وقوفی اور نادانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ آج وہ سمجھتے ہیں کہ روح کی راحت کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے روحانیت اور یہ روحانیت اسلام کے سوا اور کسی مذہب میں نہیں ملتی۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ دنیا بھر میں مسلمان موجود ہیں اور دنیاکے کونے کونے میں ہر وقت درود وسلام کا ورد جاری ہے۔ کوئی نہ کوئی امتی اس حسین و دلنشین ورد میں مصروف ہے اور پوری روئے زمین پر خدا کے پیارے دوست کا نام جاری و ساری ہے۔ جس طرح خود خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ورفعنا لک ذکرک۔

اے میرے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم ان مکے کے چند سرداروں کو دیکھ کر جو آپ کی دشمنی پر اتر آئے ہیں آپ پریشان نہ ہوں۔ جو کبھی آپ کو جادوگر کہتے ہیں معاذاللہ اور کبھی معاذاللہ دیوانہ کہتے ہیں۔ پھر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پتھر پھینکتے ہیں اور کبھی بے ادبی اور گستاخی کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے حبیب تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ چند نادان اور بے وقوف انسان جو اپنی کم عقلی کی وجہ سے جو اپنی ضد وعناد کی وجہ سے اسلام جیسے مذہب سے جو سورج کی طرح روشن ہے، انکار کرتے ہیں۔ تو یہ ان کی بدنصیبی اور بد قسمتی ہے اور وہ اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ لیکن اے میرے حبیب تمہیں یقین کرنا چاہیے کہ تمہارے نام کو میں خود بلند کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کی امت، اپنے بندوں کو حکم دیا کہ اگر تم مجھ رب سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو، اگر میرے حبیب کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو تمہارا فرض ہے کہ ہر وقت میرے حبیب پر درود وسلام پڑھتے رہو۔ درود و سلام پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو بلند درجے عطا فرماتا ہے۔ یہ درود و سلام والی عظیم نعمت جو پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئی۔ یہ میرے حبیب آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا اعجاز ہے، خصوصیت ہے، آپ کا امتیاز ہے۔  جیسے اللہ تعالیٰ کے حبیب و محبوب میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی رضا کا خواہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کی رضا کا طالب ہے، آپ کی مسرت چاہتا ہے۔ اسی طرح میرے حبیب آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے عظیم ترین دوست یار غار آپ کے پسندیدہ خدمت گار حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے خواہاں ہیں۔  حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا آپ کے ساتھ ایسا عشق تھا کہ آپ کی دوسری کوئی تمنا نہیں تھی کہ میں جہاد کروں یا فلاں نیکی کروں بلکہ آپ کی فقط تین خواہشیں تھیں جن کا تعلق حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ میری آنکھیں ہوں اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور ہو، میں دیکھتا رہوں، اس کے علاوہ میری کوئی خواہش کوئی طلب اور جستجو نہیں ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کو ایسا عشق ایسی محبت تھی کہ ایک دفعہ آکر عرض کیا یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم آپ کے قدموں پر قربان جاؤں میری ایسی حالت ہوگئی ہے کہ جب میں آپ کی خدمت عالیہ سے باہر جاتا ہوں تو جس طرف دیکھتا ہوں آپ نظر آتے ہیں۔  مشرق کی طرف دیکھوں، مغرب، شمال یا جنوب، جس طرف دیکھوں آپ نظر آتے ہیں۔ آسمان میں دیکھوں تو آپکا چہرہ انور نظر آتا ہے۔ یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم بشری تقاضائیں میری ہیں۔ بشری کمزوریاں بھی ہیں میری، اگر میں جنگل میں قضائے حاجت کے خیال سے جاتا ہوں تو تب بھی مجھے آپ کا چہرہ انور نظر آتا ہے۔ یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم یہ بے ادبی تو نہیں ہے؟ میں بہت شرمندہ ہوں، بہت پریشان ہوں، میرے لیے کیا حکم ہے؟ آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم اپنے جانثار عاشق کی بات سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا صدیق تم خوش نصیب ہو۔ ایسی نعمت تو لاکھوں میں سے کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے۔ ہم سے ایسی محبت تمہیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے تمہیں مبارک ہو۔ حضرت صدیق اکبر کو جیسی محبت آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم سے تھی ایسی محبت، ایسی نعمت کسی دوسرے شخص کو حاصل نہیں ہوسکتی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی دوسری خواہش کیا تھی؟ آپ فرماتے ہیں میری دوسری خواہش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے زیادہ دولت دے۔ ”انفاق مالی علیٰ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم“

وہ تمام دولت میں اپنے حبیب، اپنے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرتا جاؤں۔ اسکے علاوہ کہیں بھی خرچ نہ کروں۔ فرمایا کہ تیسری خواہش یہ ہے کہ میری بیٹی جوان ہوجائے میں اسے اپنے حبیب آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو نکاح میں دوں تاکہ یہ قرب، یہ نیکی مجھے زیادہ عطا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ تینوں خواہشات پوری فرمائیں۔

حضرت صدیق اکبر کا جو تعلق حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اسکی مثال ملنا مشکل ہے اور ایسا ہی تعلق حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کا آپ کے ساتھ تھا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو فرمایا دنیا میں جس نے مجھ پر احسان کیا، جس نے مجھ سے نیکی کی اس کا بدلہ بلکہ اس سے زیادہ میں نے دنیا میں اسے دے دیا، لیکن صدیق اکبر نے میری جو خدمت کی، میری غلامی دی، مجھ پر اپنی جانی و مالی قربانیاں دیں اس کا بدلہ میں محمد صلّی اللہ علیہ وسلم نہیں دے سکا ہوں۔ اسکا بدلہ میری طرف سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن صدیق اکبر کو عطا فرمائے گا۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس یار غار سے کتنی محبت تھی۔

میں عرض کررہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میرے حبیب میں تیرے ذکر کو ساری دنیا میں بلند کروں گا۔ آج پوری دنیا میں نہ صرف درود و سلام پڑھے جاتے ہیں بلکہ دن میں پانچ مرتبہ آذان کی آواز دنیا کے ہر خطے میں گونجتی ہے۔  جاپان میں چلے جائیں وہاں آذان کی آواز گونجتی ہے۔  چین میں چلے جائیں وہاں آذان کی آواز گونجتی ہے۔ ہندوستان، پاکستان، ایشیا، یورپ جہاں بھی چلے جائیں آذان کی آواز آئے گی۔  آذان میں جب اللہ کی وحدانیت کے الفاظ بیان کیے جاتے ہیں اسکے ساتھ ساتھ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ یہ امتیازی خصوصیات اپنے حبیب کو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں۔

میں عرض کررہا تھا کہ جتنی محبت اور تعلق اللہ تعالیٰ کو اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم سے ہے اتنا ہی تعلق آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یار غار صدیق اکبر سے تھا۔ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ”ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی“ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی تو انتہائی ادب و پیار سے حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میری یہ التجا ہے کہ جو خاص الخاص کرم اللہ نے آپ پر فرمایا ہے، جو یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اپنے حبیب پر درود و سلام بھیجتا رہتا ہے۔ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم جو بھی انعام آج تک آپ پر ہوئے ہیں ان میں سے کچھ حصہ ہم غلاموں کو، ہم امتیوں کو بھی ملے گا؟ حضور نے ابھی اس بات کا جواب نہیں دیا تھا کہ جبرئیل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اللہ نے آپ کی اور آپ کے دوست کی طرف سلام بھیجا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھے صدیق اکبر سے پوچھ کر بتائیں کہ میں (اللہ تعالیٰ) صدیق اکبر پر راضی ہوں کیا صدیق مجھ اللہ جل شانہ سے راضی ہے؟ اندازہ لگائیں کیا مقام ہے حضور کے صحابہ کا اللہ تعالیٰ کی نظر میں۔ آپ کے خدمت گاروں کا، آپ کے غلاموں کا کیا مقام ہے؟ اللہ تعالیٰ نہ صرف اپنے حبیب کی رضا جوئی فرماتے ہیں بلکہ صحابہ کی رضا جوئی بھی فرمارہے ہیں۔ میں عرض کررہا تھا کہ صدیق اکبر نے خدمت عالیہ میں یہ سوال پیش کیا ابھی جواب عطا نہیں ہوا تھا کہ جبرئیل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور یہ آیہ نازل ہوئی۔

یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوا اللَّہَ ذِکْرًا کَثِیرًا۝ وَسَبِّحُوہُ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا۝ ہُوَ الَّذِی یُصَلِّی عَلَیْکُمْ وَمَلَائِکَتُہُ لِیُخْرِجَکُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِینَ رَحِیمًا۝ (احزاب پارہ 22)

حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم آپ کے یار غار نے سوال پوچھا ہے کہ ایسی خاص مہربانی، ایک رحمت کا وعدہ، ایک تجلی کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا اس میں سے انہیں حصہ ملے گا یا نہیں؟ تو ان کو بتائیں اگر رحمت کی تجلی سے کچھ حصہ چاہتے ہیں تو انہیں دو کام کرنے ہوںگے ”اذْکُرُوا اللَّہَ ذِکْرًا کَثِیرًا۝ وَسَبِّحُوہُ بُکْرَۃً وَأَصِیلا۝“۔

یہ دنیا کے خیالات اور فکر دل سے باہر نکال دیں۔ دنیا کی یادوں اور تعلقات کو ختم کردیں۔ یہ سراپا ذکر بن جائیں یعنی کثیر ذکر کریں۔ صبح شام ذکر کریں اور اسکے ساتھ ساتھ جو فرائض نماز کی صورت میں ان پر عائد کیے گئے ہیں ان کو پابندی سے ادا کرتے رہیں۔ تو اس رحمت خاص میں سے، جو رحمت تجھ حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم سے خاص ہے ہم اس سے انہیں بھی حصہ عطا فرمائیں گے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ رحمت خاص جو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے اس میں سے آپ کو بھی حصہ عطا ہو تو دل سے تمام فکر ختم کردیں۔ اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوجائیں۔ نماز کو بھی پابندی سے ادا کریں تو پھر وہ درود و سلام جو اللہ اور اسکے ملائکہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم پر بھیجتے ہیں اس میں سے تجھے بھی حصہ عطا ہوتا رہے گا۔ صرف زندگی میں ہی نہیں بلکہ بعد از موت بھی حصہ عطا ہوتا رہے گا۔ ذکر ایسا عظیم عمل ہے کہ جب ذاکر بندہ اللہ کو دل سے یاد کرتا ہے اور ذکر میں ایسا محو ہوتا ہے کہ اس کے دل سے دنیا کی تمام یادیں مٹ جاتی ہیں۔ وہ بندہ جب اس دنیا کو چھوڑتا ہے اور قبر میں اتارا جاتا ہے لوگ سمجھتے ہیں یہ مرگیا، فنا ہوگیا ہے۔ اسکے سب اعمال منقطع ہوجاتے ہیں۔ جو خیرات کیں، جو نمازیں پڑھیں سو پڑھ لیں۔ ابھی کسی خیرات یا نماز کا ثواب اسے نہیں ملے گا۔ تلاوت جو کی سو کی، ابھی کسی تلاوت کا ثواب اسے نہیں ملے گا۔ مگر ذکر ایک ایسا عظیم عمل ہے کہ جس نے دنیا میں اللہ کو دل سے یاد کیا وہ وفات کرجائے تو بھی اس کا دل ذکر سے بند نہیں ہوتا اور قبر میں بھی اس کا دل ذکر کرتا ہے اور اس عمل کا ثواب اسے قبر میں بھی ملتا ہے۔ اس لیے وہ ذاتی تجلی جو اللہ نے اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے ذاکر بندے کی قبر پر تاقیامت نازل ہوتی رہتی ہے۔

ایک عالم دین مکہ معظمہ میں رہتا تھا۔ جب وہ قضائے الٰہی سے وفات کرگیا تو اسے حرم پاک کی حدود میں دفن کیا گیا۔ کافی عرصہ کے بعد جب حرم کو بڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو قبر کو منتقل کرنے کے لیے اسے کھودا گیا اور سب لوگ جانتے تھے یہ عالم دین کی قبر ہے۔ جب قبر کھودی گئی تو سب لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے، تعجب میں پڑگئے کہ اس قبر میں ایک عورت کی لاش پڑی تھی۔ یورپ کی عورت تھی۔ جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ ہر ایک براعظم کے رہنے والوں کے نقوش کا طریقہ مختلف ہے۔ ایشیا کے رہنے والوں کے نقوش الگ ہیں، یورپ والوں کے الگ۔ سب لوگ حیران ہوگئے کہ یہ تو مشہور عالم کی قبر ہے تو پھر یہ عورت کہاں سے آئی جسکی لاش بھی صحیح سلامت ہے۔  بہرحال اسے جب دوسری جگہ منتقل کرنے لگے تو وہاں ایک ایسا شخص بھی تھا جس نے کہا میں اس عورت کو پہچانتا ہوں۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ بتاؤ تم اس عورت کو کیسے پہچانتے ہو اور یہ عورت کہاں کی ہے؟ اس شخص نے بتایا میں خود فرانس کا رہائشی مسلمان ہوں۔ میرے پڑوس میں یہ عورت رہتی تھی اور میں اسے اسلام کے احکام سے آگاہ کرتا رہتا تھا۔ اسے اسلام سے اتنی دلچسپی پیدا ہوگئی کہ یہ خود آہستہ آہستہ اسلام کے رکن اور احکام کو سیکھنے لگی۔ نماز بھی پڑھنے لگی۔ اپنے رشتہ داروں سے ڈرتی بھی تھی لیکن یہ دل وجان سے اسلامی احکاموں کو قبول کرکے مسلمان ہوگئی۔  کافی عرصہ تک یہ مجھ سے اسلام کی تعلیمات حاصل کرتی رہی، پھر میں وہاں سے آگیا۔ مجھے اس سے زیادہ معلومات نہیں ہے۔ ادھر قبر کی کھدائی کرنے والوں نے اس عالم دین کے عزیز و اقارب کو تلاش کیا، معلوم ہوا کہ اس کا کوئی وارث زندہ نہیں ہے صرف بیوی ہے جو ضعیف ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ بتاؤ تمہارے شوہر کا کیا قصور تھا؟ کیا گناہ تھا؟ کونسی بدعملی تھی کہ اسے حرم پاک کے اندر اللہ تعالیٰ نے قبول نہیں فرمایا۔ اسے کسی دوسری جگہ منتقل کردیا؟ وہ جیسے کہتے ہیں کہ ہندستان میں ایک اللہ والا تھا اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ بے دینی عام ہوگئی ہے ابھی تبلیغ کیا کرنی ہے۔ میں یہاں سے ہجرت کرتا ہوں مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کرتا ہوں۔ وہیں میری وفات ہوگی اور جنت البقیع میں تدفین ہوگی اس سے بڑی میرے لیے خوش قسمتی کیا ہے۔ اپنا تمام سامان تیار کرلیا۔ صبح اسے جانا تھا۔ رات کو سوگیا۔ خواب میں دیکھتا ہے کہ مدینہ عالیہ پہنچ چکا ہے۔ مدینہ منورہ کی زیارت کرتے ہوئے جنت البقیع میں پہنچ چکا ہے۔ وہاں پر کئی لوگ موجود ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو قبروں کو کھود کر مردوں کو لے کر دوسری طرف لے جارہے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو دور دور سے لاش اٹھاکر لارہے ہیں اور ان کو ان کی جگہ دفن کر رہے ہیں۔ حیران ہوکر آگے بڑھا اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا ہم اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں۔ پھر پوچھا تم یہ کیا کررہے ہو؟ انہوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو یہاں پر آئے، وفات پائی اور یہیں دفن کیے گئے حالانکہ یہ یہاں دفن ہونے کے لائق نہیں ہیں۔ ان کے اعمال، ان کے اخلاق، ان کا تقویٰ اس لائق نہیں ہے کہ انہیں یہاں پر دفن کیا جائے۔ اس لیے ہم انہیں منتقل کررہے ہیں۔ کہا کہ پھر باہر سے کسے لارہے ہیں ہو؟ ملائکہ نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کے کسی خطے میں بھی وفات کرگئے لیکن ان کی محبت کامل، ان کا عشق کامل ہے۔ ان کے اعمال صالح اور یہ متقی پرہیزگار ہیں۔ خدا کے ولی اور نیک ہیں۔ ان کی لاشوں کو دنیا کے مختلف خطوں سے اٹھاکر یہاں دفن کیا جارہا ہے۔ جب اس بزرگ نے یہ خواب دیکھا تو اپنا ارادہ ملتوی کردیا، صبح کو اپنا سامان کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ مجھے حکم ہوگیا ہے کہ اگر میرے اعمال اچھے ہوئے، میری نیت سچی ہوئی، میرا عشق کامل ہوا تو میں مدینہ منورہ پہنچ جاؤں گا۔ تو میرے دوستو عزیزو اس بات کا دارو مدار ہماری نیت اور محبت پر ہے کہ یہ کتنی سچی اور کامل ہے۔

میں عرض کررہا تھا کہ آخر اس عورت سے دریافت کیا گیا کہ تیرے شوہر کا کیا قصور تھا؟ اس نے کہا مجھے کوئی بات یاد نہیں، فقط ایک بات یاد ہے۔ سردی کے موسم کی سرد راتیں ہوتی تھیں اور وہ مجھ سے ہم بستر ہوتا تھا اور اسے غسل کی ضرورت پڑتی تھی اور یہ کہتا تھا اتنی سردی میں غسل کرنا مشکل ہے، دین عیسوی میں بڑی سہولت ہے کیونکہ اس میں غسل جنابت فرض نہیں ہے۔  یہ بات وہ اپنی زبان پر لاتا تھا اس وجہ سے کہ اس نے دین عیسوی کو پسند کیا یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی اور اسے حرم میں جگہ نہ ملی اور عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے والی عیسوی مذہب کی پیروکار فرانس کی رہائشی عورت جسکے دل میں عشق ہے ایمان لاتی ہے، اس محبت کی وجہ سے فرانس سے لاکر مدینہ طیبہ میں دفن کی جاتی ہے۔