فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

حدود اللہ

مشتاق احمد پنہور
(قسط نمبر 2)

 

پہلی قوموں کی سزا

تاریخ بتاتی ہے کہ سزائیں ہر دور میں دی جاتی رہی ہیں لیکن ایسی عجیب و غریب اور ہولناک کہ ان کے تصور سے ہی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مثلا زندہ انسانوں کو جلا دیا جاتا تھا۔ مجرموں کو زمین میں نصف گاڑ کر انتہائی اذیت ناک طریقوں سے تکا بوٹی کی جاتی تھی۔ کہیں ملزموں پر کتے اور وحشی جانور چھوڑ دیے جاتے۔ ایک شخص کے جرم پر اس کے پورے خاندان زن و فرزند کو لہو میں پلوا دیا جاتا، اس کے پورے گاؤں کو معصوم بچوں اور بے گناہ انسانوں سمیت آگ لگا دی جاتی۔ بطور مثال چند حوالے ملاحظہ ہوں

(ا) پہلی شریعتوں میں

آج سنگساری کی سزا پر اعتراض کیا جاتا ہے، لیکن یہ سزا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعتوں میں موجود ہے۔

”انجیل، کتاب یوحنا، 1:3 تا 11“ میں اس سزا کا ذکر ہے، اور توریت مقدس میں بھی یہ حکم موجود ہے ”اگر کوئی بیل سینگ مارکر کسی مرد یا عورت کو زخمی کردے تو بیل کو سنگسار کیا جائے“ (کتاب خروج 12 تا 28)

(ب) عظیم رومی سلطنت

عظیم رومی سلطنت میں باغی کو کوڑے مارکر سولی پر چڑھادیا جاتا یا درخت سے لٹکا دیا جاتا۔ زہر دینے والے کو بوری میں بند کرکے زندہ سمندر میں پھینک دیا جاتا اور اس بوری میں مجرم کے ساتھ ایک مرغ، ایک سانپ، ایک کتا اور ایک بندر بھی بند کیا جاتا۔

آگ لگانے والے مجرم کو کوڑے مارکر زندہ آگ میں ڈال دیا جاتا، دروغ حلفی کرنے والے (یعنی جھوٹا قسم اٹھانے والے) کو ایک پہاڑی سے سر کے بل گرادیا جاتا، قرض ادا نہ کرنے والے کو سات آٹھ سیر وزنی زنجیر کے ساتھ جکڑ کر باندھ دیتے، کھانے کو صرف چند تولے چاول دیے جاتے اور سر بازار رسوا کیا جاتا۔

(ج) انگلستان

جارج دوئم کے وقت تک انگلستان میں سزائے موت تو عام بات تھی۔ اس کے ساتھ جلانے اور جسمانی اعضاء کاٹ کر اذیت کے ساتھ اس مجرم کو ختم کرنے کی سزا بھی رائج تھی۔

(د) ملک عرب

عرب میں طرح طرح کی دردناک سزائیں دی جاتی تھیں۔ دشمن کی نعش ”مُثلہ“ کرکے بے حرمت کرنا عام تھا۔ یعنی انسانی نعش سے ناک، کان اور شرمگاہ کاٹنا، کلیجہ نکال کر چبانا یا گلے کا ہار بنانا وغیرہ اور اس طرح مردہ جسم انسانی کی بے حرمتی کرنا عام تھا۔

رحمت دو عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کی اصلاحات

1۔ حضرت شداد بن اوس انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے حسن سلوک کرنا فرض کیا ہے۔ تم کسی کو سزائے موت دو تو اسے احسن طریقے سے انجام دو“۔ (مسلم)

2۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (بطور سزا) قتل کرنے میں بھی احسان ترک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو مثلہ نہ کرو۔ (کنز الاعمال، جلد دوئم)

3۔ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”آگ سے جلانے کی سزا نہ دو، آگ کا عذاب آگ پیدا کرنے والا رب ہی دے گا“۔ (کنز الاعمال جلد سوئم)

سزا کا عمومی فلسفہ

مجرم کو بطور عقوبت یعنی اذیت اور تکلیف پہنچانے کے لیے سزا دی جائے۔ مجرم کو سزا بدلہ کے طور پر دی جائے۔ ایسی سزا دی جائے جس سے جرم کی اصلاح ہو، مستقبل میں جرائم کی روک تھام ہو اور دوسروں کو اس سے عبرت حاصل ہو۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہی آخری بات ہے۔

اسلام کا نظریہ

اسلام نوع انسانی کے لیے رحمت بن کر آیا ہے۔ اس کا قانون عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اس میں اعتدال ہے، یعنی نہ حد سے زیادہ سختی کہ انسانیت کا احترام ہی ختم ہوجائے، نہ بلکل نرمی کہ سزا محض مذاق بن کر رہ جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام کا قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ اس میں کسی چھوٹے بڑے یا اپنے پرائے کی تمیز نہیں۔

(ا) اسلام تزکیۂ اخلاق، اصلاح نفس اور جرائم کی روک تھام چاہتا ہے تاکہ وہ قیامت کے روز بلاخوف و خطر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوکر آخرت میں سرخروئی حاصل کرے۔ نہ یہ کہ جرم اور سزا کا ایسا چکر چل پڑے جیسا کہ آج کل ہورہا ہے کہ جرائم کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہونے پاتا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے

فَجَعَلْنَاھَا نَکَالاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَمَا خَلْفَھَا وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِین ۝

ہم نے اس سزا کو ایک عبرت انگیز بنادیا ان لوگوں کے لیے جو اس وقت موجود تھے اور ان کے لیے جو بعد میں آنے والے تھے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے نصیحت کا ذریعہ بنادیا۔ (سورہ بقرہ آیت 66)

(ب) اسلام جرائم کی تشہیر کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ اس سے انجان اور معصوم بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔

جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے

لاَّ یُحِبُّ اللّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوَءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ وَکَانَ اللّہُ سَمِیعًا عَلِیمًا ۝

یعنی اللہ تعالیٰ برائی کا اعلان اور تشہیر پسند نہیں کرتا سوائے اس شخص کے جس پر ظلم ہوا ہو۔ (سورہ النسآء آیت 148)

دور حاضر میں جرائم کی تشہیر جرائم کو اور بڑھا رہی ہے۔ اخبارات کی چٹ پٹی اور شہ سرخیوں سے معصوم بچے اور نیک دل انجان بھی جرائم کی راہیں اور واردات کے طور طریقے سیکھ لیتے ہیں۔

(ج) اسلامی حدود و تعزیرات کا اجراء اور نفاذ کڑی شرطوں کے بعد ہوتا ہے۔ مثلا یہ کہ عینی گواہ موجود ہوں، گواہ سچے ہوں۔ ان گواہوں کا ذکر سورہ نور کے پہلے اور دوسرے رکوع میں موجود ہے جن کو آگے چل کر وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔

(د) تمام تر اصلاحی تدابیر اور عفو درگذر کا رویہ اختیار کرنے کے باوجود جرم کا ارتکاب کرنے پر اسلام کسی مجرم اور ظالم سے ہمدردی نہیں رکھتا اور نہ ہی نرمی اختیار کرتا ہے۔ ہمدردی کا مستحق مظلوم ہے نہ کہ ظالم۔

ارشاد ربانی ہے

وَلَا تَأْخُذْکُم بِھِمَا رَأْفَۃٌ فِی دِینِ اللَّہِ إِن کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ۝

ترجمہ: تمہارے اندر ان دونوں (مجرموں) کے لیے نرم دلی کا کوئی جذبہ پیدا نہ ہو اللہ تعالیٰ کے دین میں اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ (سورہ النور آیت 2)

قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں

اسلام کا قانون سب کے لیے یکساں ہے، جبکہ دنیا میں آج بھی نہ حقوق میں مساوات ہے اور نہ ہی قانون میں۔ جیسا کہ سابقہ زمانے میں یہودیت میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی ذیشان شخص (شاہوکار) جرم کرتا تھا تو اس پر حد جاری نہ کرتے تھے اور اگر کوئی غریب شخص جرم کرتا تھا تو اس پر حد جاری کی جاتی تھی۔ اور آج بھی دنیا کے غیر مسلم ممالک میں کالوں کے گرجے الگ ہیں اور گوروں کے گرجے الگ ہیں، اور کالے و گوروں کے قبرستان بھی الگ الگ ہیں۔ یہاں تک کہ کالے اپنے ملک کے شہری ہونے کے باوجود گوروں کے اسکول، کالجوں میں داخل نہیں ہوسکتے۔ لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کے ہر قانون اور ہر حقوق میں مساوات ہے۔

غاصب حکمرانوں کو جو مراعات اور سہولتیں حاصل ہیں وہ محکوموں کو ان کے اپنے ملک میں میسر نہیں، جسکی شہادت مغربی سامراجیوں کے زیر اقتدار افریقہ پیش کررہا ہے۔

جرم و سزا کے اندر دنیا میں یکسانیت نہیں۔ سرکاری حکام کو بالعموم اور ملکوں کی سربراہوں کو بالخصوص وہ قانونی تحفظ اور مراعات حاصل ہیں جو عوام کو نہیں۔ جبکہ اسلام کی نگاہ میں حاکم و محکوم، چھوٹے اور بڑے سب برابر ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے

یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ ۝

اے انسانو بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت (حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام) سے پیدا کیا ہے۔ تمہارے گروہ اور قبیلے (اس لیے) بنائے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت کرسکو۔ بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ (سورہ الحجرات 13)

اس آیت کریمہ میں مساوات کا حکم فرمایا گیا ہے کہ وطن، قوم، رنگ اور نسل پر فخر نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ چیزیں انسان کی تخلیق نہیں ہیں۔

اسی طرح فرمان نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم ہے ”کسی عربی کو کسی عجمی (غیر عرب) پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی غیر عرب کو عربی پر فضیلت ہے، سب کے سب آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں“۔ (بخاری و مسلم)

مذکورہ بالا فرمان کی وضاحت حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے اس عملی نمونہ سے ہوتی ہے۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قریش کے معزز خاندان کی ایک خاتون چوری کے جرم پکڑی گئی جس کی وجہ سے قریش بہت پریشان تھے۔

اس واقعہ کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس طرح بیان کیا ہے، فرماتی ہیں کہ قریش کو اس بات نے فکر مند کردیا تھا کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ فتح مکہ کے موقعہ پر ایک عورت نے چوری کی۔ انہوں نے (قریش ) نے کہا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کون کرے گا؟ لوگوں نے کہا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اس کی جرأت کون کرسکتا ہے، جو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے لاڈلے ہیں۔ وہ عورت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے سفارش کی۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور کا رنگ متغیر ہوگیا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سفارش کررہے ہو؟ تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم آپ میرے لیے استغفار کیجیے۔ جب شام ہوگئی تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر خطبہ دیا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد کی جو اس کی شان کے لائق ہیں۔ پھر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ صرف اس لیے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تھا تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرتا تواس پر حد جاری کرتے۔

اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے، اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے گی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔ پھر جس عورت نے چوری کی تھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا سو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد اس عورت نے اچھی طرح توبہ کی اور اس نے شادی کرلی اور اس کے بعد وہ میرے پاس آتی جاتی تھی اور میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کی ضروریات بیان کرتی تھی۔(شرح صحیح مسلم، جلد رابع، کتاب الحدود، صفحہ 761، 760 علامہ غلام رسول سعیدی)

(جاری ہے)