فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

حج کا عرفانی تصور

مولانا غلام قادر میمن مورو

 

حج کے لغوی اور اصطلاحی معنیٰ

حج کے لغوی معنیٰ کسی شخص کی طرف قصد کرنے یا اس کی طرف جانے کے ہیں۔ اسلامی فقہ میں اس کے اصطلاحی معنیٰ ہیں مکۃ المکرمہ میں بیت اللہ کی زیارت کرنا اور اس کے متعلق جملہ ارکان و مناسک کو بجالانا۔

حج کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”حج کی حقیقت یہ ہے کہ صالحین کی ایک بڑی جماعت ایک خاص وقت میں جمع ہوکر انبیاء اور صدیقین، شہداء اور صالحین کے حالات کو یاد کرے۔ جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے انعام و اکرام سے نوازا ہے۔ ان کا اجتماع ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں خدا کی ظاہر نشانیاں موجود ہوں، جہاں ائمہ دین کی جماعتیں جاتی رہی ہوں تاکہ اللہ کے شعائر کے تعظیم، تفرع اور خاکساری اور رغبت کے ساتھ کریں اور اللہ سے نیکی کے امیدوار اور گناہوں کی معافی کے خواستگار ہوں۔ جب ہم اس کیفیت سے جمع ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت ہم پر نازل ہوئے بغیر نہیں ہوسکتی“۔

زیارت رب البیت بذریعہ حج

حج یعنی بیت اللہ بلکہ رب البیت کی زیارت ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے۔ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں ”کبھی کبھی انسان کو اپنے پروردگار کے دیدار کا شوق ہوتا ہے۔ اس شوق کو پورا کرنے کے لیے کسی شے کی ضرورت ہوتی ہے، اس مقصد کے لیے انسان وہ شے حج کے سوا کچھ نہیں پاتا“۔

حقیقت یہ ہے کہ جتنی قدیم انسان کی یہ خواہش ہے اتنا ہی قدیم حج کا تصور ہے جو اس خواہش کی تکمیلی صورت کا نام ہے۔ ہر مذہب و ملت میں ایسے مقامات و نشانات مقرر ہیں جہاں بندہ کو اپنے رب سے قربت کا احساس ہوتا ہے اور جہاں رب کے دیدار کے جذبہ کی تسکین ہوتی ہے۔ چنانچہ شاہ صاحب بھی اسی موضوع کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں ”حج کی اصل ہر امت میں موجود ہے، ان کے نزدیک ایک ایسی جگہ ضرور ہوتی ہے جہاں وہ خدا کی نشانیوں کا ظہور دیکھ کر اس کو متبرک سمجھنے لگتے ہیں۔ ہر امت میں قدر و قربانی اور ان کی ایک خاص ہئیت بھی ہوتی ہے جو ان کے اسلاف سے چلی آرہی ہوتی ہے اور جس کو وہ اپنے لیے لازم سمجھتے ہیں کیونکہ وہ مقرب بندوں اور ان کے اعمال کی یاد لاتی ہے“۔

عارفوں کا حج

عرفاء کے نزدیک حج کا ایک عالی تر مقصد وصل خداوندی ہے۔ ان کے خیال میں سالک کا حج اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کو تمام گناہوں سے رحلت و جدائی حاصل کرکے خواہشات دنیا سے کنارہ کشی اور قربانی کے بعد کشف و مشاہدہ حق نصیب نہیں ہوجاتا۔

حضرت امام قشیری اپنی تصنیف ”لطائف الاشارات“ میں لکھتے ہیں کہ حج کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ حج اس کی طرف سفر کو کہتے ہیں جس کی لوگ تعظیم کرتے ہیں۔ اس کے مختلف مقصد ہوتے ہیں۔ ایک قسم ایسے لوگوں کی ہے جو اپنے نفس کے ہمراہ ایک ”گھر“ کی زیارت کرنے جاتے ہیں۔ دوسری قسم ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنے قلب کے ساتھ ”گھر کے مال“ کا مشاہدہ کرنے جاتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ مناسک اور فرائض حج کی ادائیگی کے بعد اپنا احرام کھول دیتے ہیں لیکن دوسر ی قسم کے لوگ جب تک رب العزۃ کا مشاہدہ نہیں کرتے احرام باندھے رہتے ہیں۔ ان کا احرام غیر کے مشاہدے سے پرہیز ہوتا ہے“۔

مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”ایک حج عام لوگوں کا ہوتا ہے جو صرف بیت کی زیارت کرتے ہیں اور دوسرا حج مردان حق کا ہوتا ہے جو رب البیت کی زیارت کرتے ہیں“۔

آداب حج

حج کی ہر منزل کے اپنے آداب ہیں۔ جب تک سالک ان آداب کو بجا نہیں لاتا اس وقت تک اس کا حج عرفاء کے نزدیک پورا نہیں ہوتا۔ چنانچہ حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت نے فرمایا ہے ”جب تم حج کا ارادہ کرو تو اپنے قلب کو خدائے عزوجل کی خاطر ہر ایسے تعلق سے خالی کرلو جو تمہیں مشغول رکھے اور حائل حجاب کو اٹھادو، اپنے تمام کاموں کو اپنے خالق کے حوالے کرو اور اپنی تمام حرکات و سکنات میں خدا پر بھروسہ کرو اور اس کی قضا و قدر اور حکم کے سامنے سر تسلیم کرو، دنیا، راحت اور مخلوق کو چھوڑدو۔ ان حقوق سے جو تم پر مخلوق کے سلسلے میں لازم ہوں آزاد کرلو۔ اپنے زاد راہ، سواری، اصحاب قوت، شباب اور مال اس ڈر سے کہ وہ تمہارے دشمن اور وبال جان نہ بن جائیں اعتماد نہ کرو، کیونکہ جو خدا کی مرضی کا دعویٰ کرے اور غیراللہ پر اعتماد بھی کرے تو وہ چیز یا شخص اس کے دشمن اور وبال جان بن جاتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ جان لے کہ اس کے یا کسی دوسرے کے پاس نہ کوئی قوت ہے اور نہ کوئی حیلہ و وسیلہ سوائے خدا کی توفیق اور عصمت کے“۔ مزید فرماتے ہیں ”خود کو حج کے لیے اس شخص کی طرح تیار کرو جس کو واپسی کی امید نہیں ہوتی۔ اپنے ساتھیوں سے حسن سلوک کرو، اللہ تعالیٰ کے فرائض اور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ  وسلم کی سنتوں کے اوقات کا لحاظ رکھو اور ادب، تحمل، صبر و شکر، شفقت اور سخاوت اور زاد راہ کے ایثار سے متعلق جو تم پر واجب ہو وہ تمام وقت پر ادا کرتے رہو۔ اپنے گناہوں کو خالص توبہ کے پانی سے دھو ڈالو اور صدق و صفا، خضوع و خشوع کا لباس پہن لو۔ اور ہر اس شے کو خود پر حرام قرار دے دو جو تمہیں خدائے عزوجل کے ذکر سے باز رکھتی ہو اور اس کی اطاعت میں حائل ہوتی ہو“۔

اسی طرح ارکان و مناسک حج کے بارے میں بھی حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ”جب لبیک کہو تو اس طرح کہو کہ تمہاری دعوت میں خدائے عزوجل کی صاف، خالص اور پاک قبولیت کے معنی موجود ہوں اور مضبوط حلقہ کو پکڑے رہو۔ جب طواف کرو تو مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کرتے وقت ایسے طواف کرو کہ تمہارا قلب عرش کے چاروں طرف طواف کرتے ہوئے فرشتوں کے ساتھ ہو۔ صفا و مروہ کے درمیاں سعی کرتے وقت اپنی نفسانی خواہشات سے دور بھاگو اور اپنی طاقت اور قوت سے بریت چاہو۔ منیٰ کی طرف نکلتے وقت اپنی غفلت اور لغزشوں سے بھی باہر نکل جاؤ اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جو تمہارے لیے حلال نہ ہو اور جس کے تم مستحق نہ ہو۔ عرفات میں اپنی خطاؤں کا اعتراف کرو۔ تم نے جو خدا سے اس کی وحدانیت کا عہد کیا تھا وہ عہد دوبارہ کرو اور اس سے قربت چاہو۔ مزدلفہ میں خدا سے ڈرو اور جب پہاڑ پر چڑھو تو اپنی روح کے ساتھ عالم بالا کی طرف صعود کرو۔ قربانی کا ذبیحہ کرتے وقت ہوا و ہوس اور طمع کا گلا بھی کاٹ ڈالو۔ رمی الجمرات (کنکریاں مارنے ) کے وقت نفسانی شہوات اور مذموم افعال پر بھی کنکریاں پھینکو۔ بال منڈوانے کے وقت ظاہری اور باطنی عیوب کا بھی سر مونڈ ڈالو۔ حرم میں داخل ہوتے وقت اپنی مراد کے مطابق اللہ کی امان، پردہ پوشی اور حفاظت میں داخل ہوجاؤ۔ بیت اللہ کی زیارت اس کے مالک تعظیم، معرفت اور جلالت کے پورے احساس کے ساتھ کرو۔ حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت اللہ کی عطا کردہ قسمت پر راضی رہو اور اس کی عظمت کا خضوع تم میں موجود ہو۔ طواف وداع کرتے وقت خدا کے سوائے سب سے وداع کرلو۔ صفا پر کھڑے ہوتے وقت اپنی روح اور ضمیر کو پاک صاف کرلو اس دن کے لیے جب تم خدا سے ملو گے۔ مروہ پر اپنے اوصاف کو فنا کرکے خدا کی طرف سے بخشی ہوئی قوت والے ہوجاؤ اور اپنے حج کی شرائط اور اپنے عہد کے وفا پر جو تم نے اپنے پروردگار سے کیا ہے اور جس کو روز قیامت تک کے لیے واجب کرلیا ہے، قائم رہو“۔

ایک دلچسپ مثال

آداب و مقاصد حج کی ایک مثال وہ مکالمہ ہے جو ابوالحسن حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کتاب ”کشف المحجوب“ میں دیا ہے۔
ایک شخص شیخ جنید رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا۔ شیخ نے اس سے پوچھا کہ کہاں سے آرہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ حج کو گیا تھا۔ شیخ نے پوچھا کہ تم نے حج کرلیا؟ تو اس نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ شیخ نے کہا کہ ابتدا میں جب تم گھر سے چلے اور اپنے وطن سے کوچ کیا تو کیا تم نے تمام گناہوں سے بھی کوچ کرلیا تھا؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ تو شیخ نے کہا کہ پس تم نے کوچ کیا ہی نہیں۔ پھر شیخ نے پوچھا کہ جب تم گھر سے چلے اور ہر رات کو ایک منزل پر قیام کیا تو کسی مقام کو اس مقام میں حق کی راہ میں بھی طے کیا؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ شیخ نے کہا کہ پس تم نے کوئی منزل طے ہی نہیں کی۔ شیخ نے پھر پوچھا کہ جب میقات میں تم نے احرام باندھا تھا تو کیا انسانی صفات بھی تم سے جدا ہوگئے تھے جس طرح اپنے کپڑوں سے جدا ہوئے تھے؟ اس نے نفی میں جواب دیا تو شیخ نے کہا کہ پس تم نے احرام باندھا ہی نہیں۔ پھر شیخ نے پوچھا کہ جب تم عرفات میں کھڑے ہوئے تھے تو کشف مجاہدت میں وقف ظاہر ہوا تھا؟ اس نے پھر نفی میں جواب دیا۔ تو شیخ نے کہا پس تم عرفات میں کھڑے ہوئے ہی نہیں۔ پھر شیخ نے پوچھا کہ جب تم مزدلفہ گئے تھے اور تم نے اپنی مراد پائی تو کیا تم نے ساری مرادیں چھوڑدیں تھیں؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ تو شیخ نے کہا پس تم مزدلفہ گئے ہی نہیں۔ پھر شیخ نے دریافت کیا کہ جب تم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا تو کیا جمال حق کی درگاہ میں لطافتوں کے منزہ ہونے کی جگہ پر باطنی گھر بھی دیکھا تھا؟ تو اس شخص نے پھر نفی میں جواب دیا۔ تو شیخ نے کہا کہ تم نے طواف کعبہ کیا ہی نہیں۔ پھر پوچھا کہ جب صفا اور مروہ کے درمیاں تم تیز تیز چلے تو کیا صفا کا مقام اور مروہ یعنی مردانگی کا درجہ تم نے پالیا تھا؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ اس پر شیخ نے کہا پس تم نے سعی کی ہی نہیں۔ پھر شیخ نے پوچھا کہ جب تم منیٰ گئے تو کیا تم نے اپنی تمام دنیاوی آرزؤں کو اپنے سے ساقط کردیا تھا؟ اس نے پھر نفی میں جواب دیا تو شیخ نے فرمایا کہ پس تم منیٰ گئے ہی نہیں۔ پھر شیخ نے اس شخص سے دریافت کیا کہ جب تم نے قربان گاہ پر قربانی کی تو کیا اپنے نفس کی خواہشات کو بھی قربان کردیا تھا؟ اس شخص نے پھر جواب نفی میں دیا۔ تو شیخ نے کہا کہ بس تم نے قربانی کی ہی نہیں۔ پھر شیخ نے اس شخص سے سوال کیا کہ جب تم نے کنکریاں پھینکیں تو کیا اپنے ساتھ تمام نفسانی خواہشات کو بھی دور پھینک دیا تھا؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ اس پر شیخ نے کہا پس تم نے ابھی کنکریاں بھی نہیں پھینکیں اور حج بھی نہیں کیا۔ تم واپس جاؤ اور اس طرح حج کرو کہ مقام ابراہیم علیہ السلام تک پہنچ جاؤ۔

مختصر یہ کہ صوفیاء کرام کے ہاں صرف جسم کا حج نہیں ہوتا بلکہ ان کے نزدیک اصل حج روح کا حج ہوتا ہے۔ ان کی نظر میں حج کا مقصد صرف مناسک حج کی بجا آوری نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد سالک کا تزکیۂ نفس، باطنی صفائی، غیراللہ سے بے تعلقی اور مقام فنا کا ادراک ہے۔