فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

لنگر کا کام ایک عظیم سعادت

تحریر: فقیر محمد رفیق حنفی طاہری

 

اپنے پیر و مرشد کے سالانہ عرس مبارک میں شرکت کی غرض سے ہفتہ کے دن درگاہ اللہ آباد شریف پہنچنا ہوا۔ ظہر کی نماز حضرت سجن سائیں کی اقتدا میں ادا کی، نماز کے بعد آپ کی زیارت ہوئی۔ یقینا یہ وہ سعادت تھی جسے حاصل کرنے کے لیے مجھ جیسا گنہگار ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھا جن میں بڑے بڑے علماء، اتقیاء، خلفاء اور فقراء بھی آپ کی ایک نورانی جھلک دیکھنے کے لیے دیوانہ وار بھاگ رہے تھے، وجد میں دوڑیں لگارہے تھے اور خوشی میں ناچ رہے تھے۔ زیارت کے بعد اپنے دل میں ایک عجیب سرور اور سکون محسوس کرتا ہوا اپنے دل پر ہاتھ رک کر مسجد سے باہر نکلا، کیا دیکھتا ہوں کہ خامیں فقراء کا ایک جم غفیر اللہ اللہ کی صدائیں لگا رہے ہیں اور بڑی محبت سے لنگر پکانے کے کام میں مصرو ف ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے مرشد کے آئے ہوئے ہزاروں مہمانوں کے لیے لنگر تیار کر رہے تھے۔ کتنی برکت ہوگی اس لنگر میں جس کے پکانے والے چہروں پر سنت مصطفی علیہ الصلواۃ والسلام (داڑھی مبارک) سجائے ہوئے کمال پاکیزگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف ستھرے برتنوں میں لنگر تیار کررہے تھے۔ اور ہاں اس قدر کام میں مصروف ہونے کے باوجود تمام نمازیں بھی ادا کررہے ہیں۔ دل میں ایک خیال پیدا ہوا اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ رفیق آج ان ڈھیروں ثواب کمانے والوں میں اگر شامل ہوجاؤ تو یقینا زندگی کے کئی گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور یہ بھی معلوم تھا کہ تھوڑی دیر بعد نماز عصر کی ادائیگی کے بعد تقسیم لنگر کا مرحلہ آجائے گا، اس میں ضرور حصہ لینا ہے، کیا پتہ کسی اللہ والے کی خدمت کے صدقے میرے لیے آخرت کا ساماں تیار ہوجائے۔ تقسیم لنگر کے کام میں حصہ لینے کا تہیہ کرکے عصر کی نماز کا انتظارکرنے لگا۔ آخر وہ لمحہ بھی آگیا، عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد اعلان ہوا کہ تمام حضرات لنگر کھانے کے لیے بنائے گئے ایک وسیع و عریض میدان میں چلیں جہاں فقراء بڑے ادب و احترم سے چلتے ہوئے اپنے محبوب مرشد ولی کامل کی مزار اقدس کے پہلو سے گذرتے ہوئے اللہ اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے چل رہے تھے۔ میں نے بھی لنگر کے کام کے لیے اپنے پیارے دوست مولوی غلام نبی لاسی طاہری اور ایک دو اور دوستوں کو ملالیا۔ ان میں اعلان کے مطابق فقراء دس دس کی ٹولیاں بنانے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک بڑا مجمع جو پہلے سجن سائیں کی اقتدا میں نماز عصر ادا کررہا تھا وہ پورے کا پورا مجمع کئی ایکڑوں میں پھیلے ہوئے میدان میں بیٹھ گیا اور ہم اس جگہ پر کھڑے ہوکر تھال اٹھانے کے حکم کا انتظار کررہے تھے جہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود تھالوں میں لنگر ڈالا جارہا تھا۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ یہ سارا کام بغیر شور شرابے اور ہل ہنگامے کے لمحوں میں ہورہا تھا۔ اگلے ہی لمحے تھال اٹھاکر لوگوں تک پہنچانے کا اعلان ہوا۔ اعلان ہوتے ہی ہم نے وہ تھال اٹھا کر لوگوں تک پہنچانے شروع کردیے۔ ہم میں سے ہر ایک کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ تھال میں ہی اٹھالوں۔ یقین جانیئے کہ اس وقت جو دلی کیفیات میری اور دوسرے خادمین کی تھیں ان کو الفاظ میں سمویا نہیں جاسکتا اور اس کیفیت سے وہی باخبر ہوتے ہیں جو روحانی اور قلبی سکون اور منازل و مراتب سے واقف کار ہوتے ہیں۔ جنہوں نے روحانی سفر کرتے ہوئے فنا فی الشیخ، فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ کے مقام کو پایا ہو، جن کا ظاہر باخلق اور باطن باخدا ہو، جو ظاہری نظر سے نہیں باطنی نظر سے دیکھنے اور پرکھنے والے ہوں۔ بقول اقبال

آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کے لیے

میں بھی اس راہ پر چلنے کی آرزو رکھتا ہوں۔ اگرچہ گناہوں میں ڈوبا ہوا ہوں، لیکن رحمت خدا سے مایوس نہیں، اپنے مرشد و مربی کا دامن پکڑ کر آگے قدم بڑھا رہا ہوں، منزل کے حصول کے لیے تمام قارئین سے دعاؤں کی درخواست۔


تم واقعی برے ہو

سعید احمد بوزدار طاہری

 

جب رحمۃ اللعالمین دونوں جہانوں کے سردار محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم سارے جہانوں کے مالک رب کائنات رب العالمین سے ملاقات کے لیے معراج کیا۔ جب حضور صلّی اللہ علیہ وسلم عرش معلیٰ پر پہنچے تو رب کائنات نے فرمایا ”اے میرے محبوب کیا تحفہ لے کر آئے ہو؟“ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے رب العالمین میں عاجزی و انکساری کا تحفہ لے کر آیا ہوں۔

عاجزی ایک ایسی صفت ایک ایسا تخلص ہے جو صرف بندوں کے لیے ہے۔ عاجزی کرنا ہر ایک بندے کے لیے لازم ہے۔ اگر کوئی اپنی یا اپنے نفس کی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو اس عاجزی کی صفت کو اپنے لیے لازم کردے۔ کیونکہ عاجزی کا ضد ہے تکبر۔ اب اگر کسی کے اندر عاجزی نہیں پائی جاتی تو یقینا اس کے اندر تکبر پایا جائے گا۔ اگر توجہ کریں تو معلوم ہوگا کہ تکبر صرف رب کائنات کے لیے ہے۔ کسی بندے کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ تکبر کرے۔

ہر انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے زیادہ حقیر زیادہ عاصی زیادہ عاجز سمجھے۔ کسی نے اپنے شعر میں اس بات کو خوب کہا

برا ڈھونڈنے نکلا میں برا ملا نہ کوئی
جب خود کو دیکھا تو مجھ سا برا نہ کوئی