فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

آہ! حالتِ مسلم

جمیل اصغر

 

آہ حالت مسلم بگڑتے بگڑتے اس مقام پر پہنچ گئی کہ دلِ حساس خون کے آنسو روتا ہے۔ تاروں بھرا آسماں اس عظیم ملت کی پستی دیکھ کر حیراں ہے۔ دھرتی بھی غم و اندوہ میں ڈوبی ہے کہ الٰہی اس قوم کے مردان حق کہاں کھوگئے، عظمتوں کے امین وہ عظیم بیٹیاں کہاں رہ گئیں، عظمت کردار کے چراغ جلانے والی، اندھیروں کو اپنا بستر لپیٹنے پر مجبور کردینے والی، سسکتی ہوئی انسانیت کو خوشیاں بانٹنے والی، دین حق کا ڈنکا بجانے والی، ہمہ وقت اپنے محبوب خالق کی رضا کو پانے میں سرگرداں رہنے والی یہ امت آج کس قدر حقیر اور پست کردار کی حامل ہوگئی کہ ذلت و رسوائی اس کا مقدر بن چکی ہے۔

امانت و دیانت، صداقت و شرافت، حق گوئی و بے باکی، معاملات کی سچائی، اخوت و ہمدردی، ایثار و دلجوئی، محبت و مروت ، ادب و رواداری سبھی کچھ تو اس سے چھن گیا۔ آج اس کی زبوں حالی نے اسے دھرتی پر بوجھ بناکر رکھدیا ہے۔ اس کا وجود بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔
اگر اس عظیم سانحے کی وجوہات پر غور کیا جائے تو دلخراش حقائق سامنے آتے ہیں۔ دل اور آنکھ ہی نہیں قلم بھی آنسو بہانے لگتا ہے، ہاتھ کپکپانے لگتے ہیں، سوچیں لرزتی ہیں۔ پھر لکھنا تو بس میں رہتا ہی نہیں۔

امت کی زبوں حالی کی داستاں بہت طویل اور دکھ بھری ہے۔ اسکے لیے غور و فکر اور تدبر و حکمت کے خشک آبشاروں کو جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مضمون میں ہم صرف ایک نکتہ پر بحث کریں گے جس نے وجود مسلم کو گھن کی طرح چاٹ رکھا ہے۔ وہ نکتہ ہے عبادات کا بے روح ہونا۔ اسلام کے دامن کا حسن یوں تو بے بہا رنگوں سے مزین ہے، انہی میں ایک رنگ ”عبادت خداوندی“ ہے۔ عبادت انسان کو اپنے رب کے قریب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کبھی وہ سجدہ میں رب کا قرب حاصل کررہا ہوتا ہے، کبھی روزہ کی حالت میں اس کی محبتیں سمیٹ رہا ہوتا ہے تو کبھی حج کے موقعہ پر دو سفید چادروں میں لپٹا ہوا دیوانہ وار رب کو پکار کر اس کی رحمت کا حقدار بن رہا ہوتا ہے۔ کبھی صبر کرکے اللہ کی معیت کا حقدار بنتا ہے، کبھی تسلیم و رضا کے مقام پر اس کا پیار سمیٹ رہا ہوتا ہے۔ گویا عبادت الٰہی بندے کی عظمت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اسے ”عبدشکور“ بنا دیتی ہے۔ عروج مسلم کا زمانہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب اس کی جبیں در خالق پر جھکتی تھی، جب اس کے اوقات یاد محبوب میں بسر ہوتے تھے، حق و صداقت، خوف خدا اور رضائے الٰہی اس کا وطیرہ تھی تو زمانے پر اس کا راج تھا۔ مسلم معاشرہ دنیا میں بہترین معاشرہ کہلاتا تھا۔ جب تک جسم کے ساتھ دل بھی عبادت کے نشہ میں سرشار رہا، عبادت کے اغراض و مقاصد اس کے پیش نظر رہے تو دنیا میں یہ بلند مرتبہ پر فائز رہا۔
جب عبادات بے مقصد اور رسمی صورت اختیار کرگئیں تو مسلم معاشرہ زوال پذیر ہونا شروع ہوگیا۔

نماز عبادات میں سب سے اہم درجہ رکھتی ہے۔ محض جسم کو مخصوص طریقہ سے جھکانا ہی نماز نہیں ہے کہ بلکہ یہ نماز ظاہر ہے اور اس کا باطن، مغز اور روح یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی کبریائی کا اقرار کرکے عجز و نیازمندی کا پیکر بن رہا ہے۔ غرور اور تکبر سے خود کو خالی کر رہا ہے، محبت و وفا کا اقرار کررہا ہے۔ اسی کو ماننے والا اور اس سے ڈرنے والا بن رہا ہے۔ اس کی جلوت و خلوت اسی محبوب کے رنگ میں رنگی رہیں گی، اس کی نگاہوں میں اسی جلوہ محبوب کی تڑپ رہے گی۔ اس کا دل اسی کے نام سے دھڑکتا رہے گا۔ وہ جیے گا تو اسی کے لیے، مرے گا تو اسی کی خاطر، اس کی نافرمانی سے کوسوں دور بھاگے گا۔ اسی لیے تو نماز کی غرض و غایت کو ”واقیموا الصلوٰۃ لذکری“ فرماکر واضح کررہا ہے کہ اسی کی محبت میں کھوجانا ہی نماز کا مقصد ہے۔

ہمارے اسلاف کی زندگی اس کا نمونہ تھی۔ نہ صرف ان کا جسم خالق حقیقی کے حضور جھکتا تھا بلکہ دل بھی جسم کا ساتھی ہوا کرتا تھا، جس کا ثبوت ان کی پاکیزہ زندگی اور حسین اعمال تھے۔ نماز انہیں برائی اور بے حیائی سے دور رکھتی تھی، معاشرہ سکھ اور ہمدردی سے بھرا پڑا تھا، ان کے دل دوسروں کا درد لیے ہوتے تھے، بدنظری، شہوت، بدکاری، حرام خوری جیسے قبیح افعال نظر نہ آتے تھے۔ ”ان الصلوٰۃ تنہیٰ عن الفحشاء والمنکر“ کی عملی تصویر اس معاشرہ میں دکھائی دیتی تھی جسے صحیح معنوں میں اسلامی معاشرہ کہا جاسکتا تھا۔

جب مسلمانوں میں جسم و د ل کا رشتہ کمزور ہوا، عبادت رسم بن کر رہ گئی تو حالات بگڑ گئے۔ نماز تو ہے مگر اس کے ثمرات نہیں ہیں، دل تو محبت صنم کا شکار ہے، سر درِ خالق پر جھک رہا ہے۔ اسی قابل نفرت انداز نے خالق کو ناراض کر رکھا ہے ؎

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

نماز سے قرب الٰہی تو ملنا درکنار، اللہ سے دوری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مجموعی طور پر امت مسلمہ کا یہ عمل ہے کہ سجدہ ہے مگر سوز نہیں ہے، رکوع ہے مگر خشوع نہیں ہے۔

جس معاشرے میں نماز جیسا اعلیٰ عمل ہو، اس معاشرہ میں ظلم و جبر، قہر و غضب، لوٹ مار، قتل و غارت، تکبر و نخوت، سنگدلی، بدکاری و بے حیائی بھی ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عبادت بے مغز اور بے روح ہوچکی ہے۔ اس کے مقصد کو ٹھکرادیا گیا ہے۔

رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی

کبھی غیر مسلم صرف نماز کو دیکھ کر دائرہ اسلام میں آجاتے تھے کہ کتنا اعلیٰ مذہب ہے کہ رنگ و نسل، امیری و غریبی سے بے نیاز سبھی مسلمان کندھے سے کندھا ملاکر نماز میں مشغول ہیں۔ عملی مساوات کا ایسا اعلیٰ نمونہ کسی اور مذہب میں نہیں ملتا۔ مگر آج صفوں میں اکٹھے کھڑے ہوکر نماز بھی ادا کرتے ہیں، مگر رنگ و نسل، امیری و غریبی، مالک و نوکر، شاہ و گدا کی لعنت کا بھی شکار ہیں۔ یہ دوغلی پالیسی، یہ دوہرا عمل ذلت و رسوائی میں اضافہ کررہا ہے۔

اسی طرح روزہ ایک اہم عبادت ہے۔ اکثر مسلمان روزہ رکھتے ہیں اور رمضان کو عقیدت و احترام سے گذارتے ہیں۔ مگر رمضان کے روزوں کا مقصد تقویٰ حاصل نہیں کر پاتے۔ جس کے اثرات ہمارے معاشرہ پر پڑتے ہیں۔ اللہ نے مسلمانوں کو دن بھر بھوکا پیاسا اور خواہشات نفسانی (جماع) سے پرہیز کرنے کا حکم دیا تاکہ ”لعلکم تتقون“ پرہیزگار بن جاؤ۔ جس کے حکم پر حلال چیزوں کو دن بھر چھوڑ رہے ہو، تمہارے اندر یہ خوبی پیدا ہوجائے کہ تم زندگی بھر اس کے حکم پر حرام کو چھوڑدو۔ تم متقی بن جاؤگے، اللہ کی دوستی مل جائے گی۔ آج کے مسلمان نے روزہ تو رکھ لیا، اپنے تئیں رب کو راضی کرلیا، مگر ہم دیکھتے ہیں معاشرہ تقویٰ سے خالی ہے، متقی لوگ خال خال ملتے ہیں۔ سبھی روزہ دار آخر متقی کیوں نہ بنے۔ یہی وہ المیہ ہے جو عبادات کے بے روح ہونے کا رونا رورہا ہے۔

روزہ تو رکھ لیا مگر مقصد کو بھلادیا۔ بھوک پیاس برداشت کی مگر بھوکے لوگوں کا درد محسوس نہ کیا۔ معاشرہ کے پسے ہوئے لوگوں سے ہمدردی کا جذبہ پیدا نہ ہوا، غموں اور دکھوں کو بانٹنے کا احساس اجاگر نہ ہوسکا، جھوٹ، غیبت، چغلی، گالی گلوچ، بدنظری، بے حیائی، حرام خوری سے اجتناب نہ کیا تو معاشرہ روزہ کے رنگ سے محروم رہ گیا۔

آہ! اتنی عظیم عبادت محض رسمی رہ گئی اور روح و مغز ختم ہوکر رہ گیا، رحمت خداوندی معاشرہ پر نہ برسی، ظلم و تشدد، لوٹ مار کا بازار گرم رہا۔ یہاں تک کہ مسلمان تاجروں نے رمضان المبارک کو ذخیرہ اندوزی اور منافعہ خوری کا مہینہ قرار دے کر اپنی تجوریوں کو بھرلیا۔ عبادت کے ساتھ اس مذاق کو قاہر و قادر رب نے مسلم معاشرہ پر ذلت و رسوائی بناکر اوڑھ دیا۔ ہماری تجارت مذاق بن کر رہ گئی، برکت روٹھ گئی اور ہم غیروں کی چوکھٹ کے بھکاری بن گئے۔

ملاوٹ، چور بازاری، لوٹ کھسوٹ کا عذاب ہم پر مسلط ہوگیا اور مسلم اقدار زمانہ میں مذاق بن کر رہ گئیں۔ حتیٰ کہ غیر مسلم (ہندو) نے نظم لکھ دی کہ رمضان آیا اب ”محمد دین“ خوب جی بھر کر ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری سے اپنا پیٹ بھرے گا۔ بے مقصد روزہ نے معاشرہ کو کچھ نہ دیا۔ لوگ برائیوں میں پھنسے رہے، شر یونہی بازاروں میں رقص کرتا رہا اور تقویٰ کہیں دور بہت دور رہ گیا، یہاں تک کہ عید کی رات میں ہی نام نہاد عبادت کا نشہ جاتا رہا اور معاشرہ بے حیائی اور بدی کا منظر پیش کرنے لگا۔ اس کی وجہ وہی عبادت کا بے روح ہونا ہے۔

اسی طرح ”حج“ جیسا عظیم فعل جب بے مقصدیت کا شکار ہوا تو لاکھوں فرزندان توحید کے دیوانہ وار کعبۃ اللہ کے چکر، صفا و مروہ کے چکر، منیٰ و مزدلفہ میں مشقت، عرفات کی آہ و زاری یہ سب اعمال امت کی مردہ روح میں زندگی نہ لاسکے۔ دو سفید چادروں میں ملبوس مسلمان، کالے گورے، امیر غریب سبھی ایک ہی پیرہن میں ایک ہی رب کو پکار رہے ہیں ”لبیک اللّٰہم لبیک“۔ کتنی محبت نظر آتی ہے، کیسی دیوانگی ہے۔ مگر یہ کیا! جیسے ہی حج سے فرصت ملی پھر ویسے کے ویسے۔ وہی انداز وہی اطوار۔ وہ محبت الٰہی کہاں چلی گئی؟ وہ وارفتگی کہاں کھوگئی؟ آسمان حیرت زدہ ہے کہ یہ دیوانے بدل گئے، ذرا سی دیر میں محبتوں کے رخ تبدیل ہوگئے، اللہ کو پکارنے والوں کا رخ پھر نفس و شیطان کی طرف ہوگیا۔

آہ! زمین اس حالت زار پر آنسو بہاتی ہے۔ جس کے گھر کا طواف پروانوں کی طرح کررہے تھے اسکے احکام سے بغاوت کر رہے ہو، ایک سا لباس پہنا مگر دل دور رہے، مساوات کا عمل مظاہرہ نظر نہیں آتا۔ جس نظارہ کو عرفات میں نسلی امتیاز کے علمبردار ”میلکم“ نے دیکھ کر کہا بخدا یہی مساوات ہے وہ مسلم معاشرہ میں عملا نہیں ہے۔

حج کی مقصدیت سے بے پرواہ آج کا مسلم اس کے پوست پر ہی راضی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عظیم اجتماع مسلم اپنی افادیت کھوچکا ہے۔ اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم پکار ہے اور ہماری پستی کا حل بھی، حج کا اجتماع عرفات میں چیخ چیخ کر تقاضا کرتا ہے مسلمانو اسی طرح عملی میدان میں اکٹھے ہوجاؤ، اسلام کے پرچم کو بلند کردو۔

افسوس دل مسلم سننے کی طاقت سے بھی محروم ہوگیا۔ کوئی حاجی اس پیغام کو سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ قصہ مختصر عبادات کو رسمی صورت دے کر ان کی مقصدیت کو ختم کردینا، مسلم کمیونٹی کا بڑا جرم ہے، جس کی سزا بہت خطرناک صورت میں مل رہی ہے۔

اگر دانشوران ملت اس ناسور پر توجہ دیں، حساس لوگ آگے بڑھیں اور مسلمانوں کے ظاہر و باطن کو ہم رنگ کردیں۔ عبادات کی روح کو ان کے اذہان میں بھر دیں اور دین کو رسومات کا مجموعہ نہیں بلکہ دستور حیات بناکر پیش کریں تو موجودہ صورتحال کا تدارک ہوسکتا ہے۔ ورنہ ذلتوں کا یہ سفر نجانے کب رکے۔ کہیں ایسا نہ ہو یہ سفر جاری رہے اور واپسی کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔
اسی لیے اولیائے نقشبند خصوصا قلب پر توجہ دیتے ہیں کہ اس میں دین کا درد، سب کی کسک پیدا ہو کہ سر جھکے تو دل بھی حضوری سے سرشار ہو۔ عبادات کا اثر ہمارے معاملات میں بھی آئے اور ہمارا معاشرہ نیکی کے خوبصورت رنگوں سے مزین ہوجائے، دوسرے معاشرے اپنی معاشرت پر شرمندہ ہوجائیں اور ہر کوئی اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں میں آنا چاہے۔ ہر دکھی کو دوا ملے، ہر محروم کی جھولی بھرے، ہم اپنے دامن میں نیکی اور امن کے پھول لے کر اقوام عالم کی بدبو کو دور کردیں اور

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے

کا مصداق بن جائیں۔

آئیے روحانیت کا سفر اختیار کریں، عبادات کو ان کی حقیقت سمیت اپنائیں تاکہ ہمارا اپنے خالق سے ٹوٹا ہوا رشتہ جڑ جائے۔ آئیے قدم بڑھائیں اپنے اسلاف کے روشن راستہ پر، اپنے آقا کے اسوہ حسنہ کی طرف، اپنے مالک کی رضا کی طرف۔

یہی ہے امت کے مرض کہن کا چارہ